مسئلہ٣٢٢:نماز عید الفطر و نماز عید قربان امام عصر عجل اﷲ فرجہُ الشریف کے زمانۂ حضور میں واجب ہے اور اس کو جماعت سے پڑھنا چاہیۓ لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ اما م زمانہ عجل اﷲ فرجہُ الشریف غائب ہیں اور ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں لہذا نماز عید فطر و عید قربان مستحب ہے اور اسکو جماعت کے ساتھ اور فرادا دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔
مسئلہ٣٢٣:نماز عید فطرا ور نماز عید قربان کا وقت طلوع آفتاب سے نماز ظہر کے وقت تک ہے۔
نماز عید کا طریقہ
مسئلہ٣٢٤:نماز عید فطر و نما ز عید قربان دو رکعت ہے اسکی پہلی رکعت میں حمد و سورہ پڑھنے کے بعد پانچ تکبیریں کہنا چاہیۓ اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھنا چاہیۓ اور پانچویں قنوت کے بعد ایک دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلاجاۓ اور دو سجدے بجا لاۓ اور اس کے بعد کھڑے ہو کر دوسری رکعت میں چار تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد قنوت پڑھے اور پانچویں تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جاۓ اور رکوع کے بعد دو سجدے بجالاۓ اور اس کے بعد تشہد و سلام پڑھ کر نماز کو تمام کردے۔
مسئلہ٣٢٥:نماز عید الفطر اور عید قربان کے قنوت میں جوبھی دعا یا ذکر یاد ہو اس کو پڑھ لے تو کافی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ یہ دعا پڑھی جاۓ؛
’’أَللّٰہُمَّ أَھُلَ الُکِبُرِیٰائِ وَ الُعَظَمَہ، وَ أَھُلَ الُجُودِ وَ الُجَبَرُوتِ، وَ أَھُلَ الُعَفُوِ وَ الرَّحُمَہ، وَ أَھُلَ التَّقُوٰی وَ الُمَغُفِرَةِ، أَسُأَلُکَ بِحَقِّ ھَذَا الُیَومِ الَّذِی
جَعَلُتَہُ لِلُمُسُلِمِیُنَ عِیُداً وَ لِمُحَمَّدٍ ذُخُرَاً وَ شُرُفَاً وَ کَرَامَةً وَ مَزِیُدَاً أَنُ تُصَلِّی عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحُمَّدٍ وَأَنُ تُدُخِلَنِی فِی کُلِّ خَیُرٍ أَدُخَلَتَ فِیُہِ
مُحَمَّدَاً وَ آلَ مُحَمَّدٍ وَ أَنُ تُخُرِجَنِی مِنُ کُلِّ سُوئٍ أَخُرَجُتَ مِنُہُ مُحَمَّدَاً وَ آلَ مُحَمَّد ٍصَلَوَاتُکَ عَلَیُہِ وَ عَلَیُہِمُ، اللّٰہُمَّ أِ نِّی أَسُأَلُکَ خَیُرَ مَا
سَأَلَکَ بِہِ عِبَادُکَ الصّٰالِحُونَ وَ أَعُوذُبِکَ مِمَّا أسُتَعٰاذَ مِنُہُ عِبٰادُکَ الُمُخُلَصُونَ‘‘۔
مسئلہ٣٢٦:امام عصر عجل اﷲ فرجہُ الشریف کے زمانۂ غیبت میں مستحب ہے کہ نماز عید فطر اور عید قربان کے بعد دو خطبے پڑھے اور بہتر ہے عید فطر کے خطبے میں زکوٰة فطرہ کے احکام بیان کرے اور عید قربان کے خطبے میں قربانی کے احکام بیان کرے۔
مسئلہ٧٢٣:نماز عید میں کوئ مخصوص سورہ نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ شمس اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ پڑھے یا پہلی رکعت میں سورۂ سبّح اسم اور دوسری رکعت میں سورۂ والشّمس پڑھے۔