مسئلہ٣١٤:نماز آیات چار چیزوں کے ذریعہ واجب ہوتی ہے؛١.سورج گرہن، ٢.چاند گرہن اگر چہ تھوڑی مقدار میں چاند گرہن ہو اور اس سے کوئ خوف بھی نہ کھاۓ، ٣.زلزلہ اگر چہ اس سے کوئ خوف بھی نہ کھاۓ، ٤.بجلی کی چمک و گڑگڑاہٹ اور کالی سرخ ہوا ئیں وغیرہ جب کہ ان سے اکثر و بیشتر افراد خوف زدہ ہوں۔
مسئلہ٣١٥:جن چیز وں کی وجہ سے نماز آیات پڑھنا واجب ہے اگر وہ ایک سے زیادہ مقدار میں واقع ہوں تو انسان پر لازم ہے کہ ان سے ہر ایک کے لۓ نماز آیات بجا لاۓ جیسے اگر سورج گرہن ہو اور زلزلہ بھی آجاۓ تو دونوں کے لۓ علیحدہ علیحدہ نماز پڑھے۔
مسئلہ٣١٦:جب زلزلہ اور بجلی کی گڑ گڑاہٹ اور ان کی ہی مانند چیزیں واقع ہوں تو انسان کو فوراً نماز آیات پڑھنی چاہیۓ اور اگر نہ پڑھے تو گنہگار ہے اور آخری عمر تک اس کی بجا لاسکتا ہے اور جب بھی وہ اسکو پڑھے گا تو اسکو ادا کی نیّت سے پڑھے گا۔
مسئلہ٣١٧:اگر کوئ شخص یہ سمجھے کہ جو نماز آیات اس نے پڑھی ہے وہ باطل تھی تو اس کو دوبارہ پڑھنا چاہیۓ اور اگر اس کاوقت گزر جاۓ تو اسکی قضاء کرے۔
مسئلہ٣١٨:اگرکوئ عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو اور سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوجاۓ تو اس پر نماز آیات واجب نہیں ہے لیکن زلزلہ اور بجلی کی گڑگڑاہٹ اوران کی مانند کوئ چیز واقع ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ پاک ہونے کے بعد نماز آیات بجا لاۓ بلکہ اس کاوجوب قوت سے خالی نہیں ہے۔
نماز آیات کا طریقہ
مسئلہ٣١٩:نما ز آیات دو رکعت ہے اور اس کی ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان نیّت کے بعد تکبیر کہے اور ایک سورۂ حمد اور ایک تمام سورہ پڑھے اور اسکے بعد رکوع میں جاۓ پھر رکوع سے سر اٹھاۓ اور دوبارہ سورہ حمد پڑھے اور اس کے بعد دوسرا سورہ پڑھے اور پھر رکوع میں جاۓ اور اس عمل کو پانچ مرتبہ اسی طرح بجا لاۓ نیز پانچویں رکوع سے بلند ہونے کے بعد دو سجدے بجالاۓ اور اسکے بعد کھڑے ہو کر دوسری رکعت کو بھی پہلی رکعت کے مانند بجا لاۓ اور اس کے بعد تشہد و سلام پڑھ کر نماز تمام کرے۔
مسئلہ٣٢٠:جو چیزیں یومیہ نماز میں واجب اور مستحب ہیں وہ نماز آیات میں بھی واجب اور مستحب ہیں لیکن نماز آیات میں مستحب ہے کہ آذان و اقامت کے بجاۓ تین مرتبہ؛’’اَلصَّلوٰة‘‘ کہے۔
مسئلہ٣٢١:نماز آیات میں مستحب ہے کہ پانچویں اور دسویں رکوع کے بعد’’سمع اﷲ لمن حمدہ‘‘کہے ہر رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد تکبیر کہے لیکن پانچویں اور دسویں رکوع کے بعد تکبیر کہنا مستحب نہیں۔