پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleIDPicAddressSubjectDate
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Wednesday 23 May 2012 - الاربعاء 01 رجب 1433 - چهارشنبه 3 3 1391
 
 
 
 
  • نماز جماعت  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ٢٩٤:واجب نمازیں خصوصاً پنجگانہ نمازوں کو جماعت سے پڑھنا مستحب ہے اور صبح و مغرب و عشاء کی نمازیں خصوصاً اس شخص کے لۓ مستحب ہیں جو مسجد کا ہمسایہ ہو اور مسجد کی آذان سنتا ہو اسکے لۓ زیادہ تاکید کی گئ ہے۔

    مسئلہ٢٩٥:نماز جماعت میں لا پرواہی کی وجہ سے حاضر نہ ہونا جائز نہیں ہے بلکہ مناسب نہیں کہ انسان بغیر کسی عذر کے نماز جماعت کو ترک کرے۔

    مسئلہ٢٩٦:نماز کو جماعت سے پڑھنے کے لۓ انتظار کرنا مستحب ہے اور اوّل وقت فرادا نماز پڑھنے سے نماز جماعت پڑھنا بہتر ہے اور اسی طرح مختصر نماز جماعت طویل فرادا نماز سے بہتر ہے۔

    مسئلہ٢٩٧:جس شخص کو نماز میں وسوسہ ہو تا ہو اور فقط جماعت سے نماز پڑھنے میں اسے وسوسہ نہ ہوتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پراسے جماعت سے نماز پڑھنی چاہیۓ۔

    مسئلہ٢٩٨:مستحب نمازیں جماعت سے نہیں پڑھی جاسکتیں لیکن نماز استسقاء جو طلب باران کیلۓ پڑھی جاتی ہے یا وہ نماز جو واجب ہو اور کسی وجہ سے مستحب ہو گئ ہے جیسے عید الفطر اور عید قربان کی نماز یں امام علیہ السلام کے زمانے میں واجب تھیں اور انکی غیبت کی وجہ سے مستحب ہو گئ ہیں تو ان نمازوں کو جماعت سے پڑھا جاسکتا ہے۔

    مسئلہ٢٩٩:اگر امام جماعت اپنی یومیہ نماز کی قضاء پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتداء کی جاسکتی ہے لیکن اگر اپنی نماز کو احتیاطاً قضاء کر رہا ہو یا کسی دوسرے کی قضاء نماز پڑھ رہا ہو اگر چہ اسکے لۓ اجرت بھی نہ لی ہو پھر بھی ان صورتوں میں اقتداء کرنا اشکال سے خالی نہیں ہے مگر یہ کہ غیر کی قضاء یقینی ہو۔

    مسئلہ٣٠٠:اگر ماموم کسی عذر یا بغیر عذر کے حمد و سورہ کے بعد فرادا کی نیّت کرے تو حمد و سورہ پڑھنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر حمد و سورہ ختم ہونے سے پہلے فرادا کی نیّت کرے تو جتنا حصہ امام جماعت نے نہیں پڑھا ہے اسے پڑھے۔

    مسئلہ٣٠١:اگر انسان ایسے وقت پہنچے جب امام جماعت نماز کا آخری تشہد پڑھ رہا ہو تو اگر جماعت کا ثواب حاصل کرنا چاہتا ہو تو نیّت اور تکبیرة الاحرام کہنے کے بعد بیٹھ جاۓ اور تشہد کو قربت مطلق کے قصد سے امام جماعت کے ساتھ پڑھے لیکن سلام نہ پڑھے اور امام کے سلام پڑھنے تک رکا رہے اور پھر کھڑے ہونے کے بعد دوبارہ نیّت اور تکبیرة الاحرام کہے بغیر حمد و سورہ پڑھے اور اسکوپہلی رکعت شمار کرے۔

    مسئلہ٣٠٢:احتیاط واجب ہے کہ ماموم کے سجدے کی اور امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ نہ ہو اور اسی طرح اگر انسان اس ماموم کے ذریعہ جو اسکے آگے کھڑا ہوا ہے امام سے متصل ہو رہا ہے احتیاط واجب یہ ہے کہ اسکے سجدے کی جگہ اور اس ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان اس مقدار سے زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

    مسئلہ٣٠٣:اگر امام چار رکعتی نماز کی دوسری رکعت میں اور کوئ اسکی اقتداء کرے تو وہ اپنی دوسری رکعت میں جب کہ امام کی تیسری رکعت ہو گی دونوں سجدوں کے بعد بیٹھ کر تشہد کی واجب مقدار پڑھے اور کھڑا ہو جاۓ تو اگر تین مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھنے کا وقت نہ ہو تو ایک مرتبہ کہے اور رکوع میں امام سے ملحق ہو جاۓ۔

    مسئلہ٣٠٤:جس شخص کو اطمینان ہو کہ اگر سورہ شروع کرے گا تو امام کے رکوع کو پالے گا تو احتیاط واجب یہ ہے کہ سورہ شروع کردے اور اگر شروع کر چکا ہے تو تمام کرے۔

    مسئلہ٣٠٥:اگر مستحب نماز میں مشغول ہو اور نماز جماعت شروع ہو جاۓ اگر اطمینان نہ ہو کہ نماز ختم کر کے جماعت میں شریک ہو سکے گا تو مستحب ہے کہ نماز چھوڑ دے اور جماعت میں شریک ہو جاۓ۔بلکہ اگر اطمینان نہ ہو کہ پہلی رکعت میں پہنچ سکے گا تو مستحب ہے کہ اسی حکم پر عمل کرے۔

    مسئلہ٣٠٦:اگر امام کی نماز ختم ہو جاۓ اور ماموم تشہد یا پہلے سلام میں مشغول ہو تو فرادا کی نیّت کرنا ضروری نہیں ہے۔

    امام جماعت کے شرائط

    مسئلہ٣٠٧:امام جماعت کو بالغ، عاقل، شیعہ اثنا عشری، عادل اور حلال زادہ ہونا چاہیۓ اورنماز صحیح طریقہ سے پڑھتا ہو اور اگر ماموم مرد ہو تو اس کاامام مرد ہونا چاہیۓ اور ممیّز بچّہ جو اچھائ برائ سمجھتا ہے دوسرے ممیّز بچّے کی اقتداء کرسکتا ہے۔

    مسئلہ٣٠٨:جو شخص کھڑے ہو کر نماز پڑ ھ سکتا ہے وہ اس شخص کی اقتداء نہیں کر سکتا ہے جو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ رہا ہو اور جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو وہ لیٹ کر نماز پڑھنے والے کی اقتداء نہیں کر سکتا۔

    مسئلہ٣٠٩:احتیاط واجب کی بنا پر جزامی اور مبروص کو امام جماعت نہیں ہونا چاہیۓ۔

    احکام جماعت

    مسئلہ٣١٠:نیّت کرتے وقت ماموم کو چاہیۓ کہ امام کو معیّن کرے لیکن امام کا نام جاننا ضروری نہیں ہے مثلاً اگر نیّت کرے کہ میں اس امام حاضر کی اقتداء کر رہا ہوں تو اسکی نماز صحیح ہے۔

    مسئلہ٣١١:ماموم کو حمد و سورہ کے علاوہ باقی تمام چیزوں کو خود پڑھنا چاہیۓ لیکن اگر اسکی پہلی یا دوسری رکعت اور امام کی تیسری رکعت یا چوتھی رکعت ہو تو حمد و سورہ پڑھے۔

    مسئلہ٣١٢:اگر ماموم صبح و مغرب و عشاء کی نمازوں کی پہلی اور دوسری رکعت میں امام کے حمد و سورہ کی تلاوت سنے تو چاہے کلمات کو صحیح طریقے سے نہ سنے توپھر بھی حمد و سورہ نہ پڑھے لیکن اگر امام کی تلاوت نہ سنے تو حمد و سورہ پڑھنا مستحب ہے مگر آہستہ پڑھے اور اگر سہواً بلند آواز سے پڑھ دے تو کوئ حرج نہیں ہے۔

    مسئلہ٣١٣:احتیاط واجب یہ ہے کہ ماموم ظہر و عصر کی پہلی اوردوسری رکعت میں حمد و سورہ نہ پڑھے اور مستحب ہے کہ اس کے بدلے ذکر پڑھے۔

     
     
  • RelatedArticle
  •  
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011