پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleIDPicAddressSubjectDate
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Wednesday 23 May 2012 - الاربعاء 01 رجب 1433 - چهارشنبه 3 3 1391
 
 
 
 
  • متفرق مسائل  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ٢٨٣:مسافر مسجد الحرام ،مسجد النبی صلّی اﷲعلیہ وآلہ وسلّم اور مسجد کوفہ میں اپنی نماز پوری پڑھ سکتا ہے لیکن اگر اس جگہ نماز پڑھنا چاہے جو پہلے مسجد کا جزو نہیں تھی بلکہ بعد میں مسجد سے ملا دی گئ ہے اور اس میں نماز پڑھنا چاہتا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز قصر پڑھے اور اسی طرح مسافر حرم سیّد الشہداء علیہ السلام میں نماز پوری پڑھ سکتا ہے لیکن احتیاط واجب یہ کہ حرم مطہر کے علاوہ نماز قصر پڑھے حرم کے پیچھے والی مسجد جو اس سے ملحق ہے وہ حرم سے خارج ہے اور اگر ضریح مطہر سے بیس/٢٠ ہاتھ دور نماز پڑھنا چاہے تو قصر پڑھے۔

    مسئلہ٢٨٤:اگر مسافر نے نماز نہ پڑھی ہو اور وقت ختم ہونے سے پہلے وطن یا ایسی جگہ پہنچ جاۓ جہاں دس دن رہنے کا ارادہ ہو تو نماز پوری پڑھے اور جو شخص مسافر نہ ہو اگر اوّل وقت نماز نہ پڑھے اور سفر کرے تو سفر میں نماز قصر پڑھے۔

    مسئلہ ٢٨٥:اگر ایسا مسافر کہ جس پر نماز قصر ہے ظہر یا عصر یا عشاء کی نماز قضاء ہو جاۓ تو اس کی قضاء بھی دو رکعت بجا لاۓ اگر چہ وہ سفر میں نہ ہو اور اسی طرح جو شخص مسافر نہیں ہے اس سے ان تینوں نمازوں میں سے کوئ نماز قضاء ہو جاۓ تو اس کی قضاء پوری بجا لاۓ گا اگر چہ وہ سفر کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔

    نماز قضاء؛

    مسئلہ٢٨٦:جس شخص نے اپنی واجب نماز کو اس کے وقت میں ادا نہ کیا ہو توا سکی قضاء بجا لاۓ اگر چہ نماز کے پورے وقت میں سوتا رہا یا اختیاراًیا مستی یا بیہوشی کی وجہ سے نہ پڑھی ہو لیکن وہ پنجگانہ نمازیں جو عورت نے حالت حیض یا نفاس کی وجہ سے نہیں پڑھی ہیں انکی قضاء نہیں ہے۔

    مسئلہ٢٨٧:اگر نماز کا وقت گزر جانے کے بعد اس کو معلوم ہو کہ جو نماز اس نے پڑھی ہے وہ باطل تھی تو اس کی قضاء بجا لاۓ۔

    مسئلہ٢٨٨:پنجگانہ نمازوں کے علاوہ چند نمازوں کی قضاء بجا لانا چاہیۓ جیسے نماز آیات یا پنجگانہ نمازوں میں سے ایک اور چند غیر پنجگانہ نمازوں کی قضاء بجا لانا چاہے تو اس میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔

    مسئلہ٢٨٩:جس شخص سے صبح کی چند نمازیں یا ظہر کی چند نمازیں قضاء ہو ئ ہیں لیکن ان کی تعداد معلوم نہ ہو مثلاً نہ جانتا ہو کہ تین نمازیں قضاء ہوئ ہیں یا چار یا پانچ تو اگر کمتر مقدار میں نماز پڑھ لے تو کافی ہے۔لیکن اگر ان کی تعداد جانتا تھا اور بھول گیا ہے تو احتیاط واجب کی بنا پر بلکہ یہ حکم قوت سے خالی نہیں ہے کہ اتنی نمازوں کی قضاء بجا لاۓ کہ سب نمازوں کے ادا کرنے کایقین ہو جاۓ مثلاً اگر بھول جاۓ کہ صبح کی کتنی نمازیں قضاء ہوئ ہیں اوریقین ہے کہ دس سے زیادہ نہیں تھیں تو احتیاطاً دس نماز صبح بجا لاۓ۔

    مسئلہ٢٩٠:قضاء نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہے خواہ امام جماعت قضاء نماز پڑھ رہا ہو یا ادا، امام اور ماموم کا ایک ہونا ضروری نہیں ہے مثلاً صبح کی قضاء نماز امام کی نماز ظہر یا عصر کے ساتھ پڑھے تو کوئ حرج نہیں ہے۔

    باپ کی قضاء نمازیں جو بڑے بیٹے پر واجب ہیں

    مسئلہ٢٩١:اگر باپ اپنی نماز اور روزہ بجا نہیں لایا ہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قضاء بجا لانا بڑے بیٹے پر واجب ہے یا کسی کو اجرت دے کر نماز و روزہ کی ادائیگی کرے لیکن وہ روزہ جو سفر میں چھوٹ گیا ہے اگر چہ اسکی قضاء بجا نہیں لا سکتا تھا تو احتیاط واجب یہ ہے کہ بڑا لڑکا قضاء بجا لاۓ یا اجرت دے کر روزہ رکھواۓ لیکن ماں کی قضاء نمازو روزے کا بڑے لڑکے پر ادا کرنے کے وجوب کے سلسلہ میں کوئ معتبر دلیل نہیں ہے لیکن احتیاط کا ترک کرنا مناسب نہیں ہے۔

    مسئلہ٢٩٢:اگر بڑا لڑکا اپنے والدین کی نماز پڑھنا چاہے تو اس کی بجا آ وری میں اپنی تکلیف پر عمل کرے مثلاً اپنی ماں کی قضاء نماز کے ادا کرنے میں صبح ،مغرب اور عشاء کی نماز بلند آواز سے پڑھے۔

    مسئلہ٢٩٣:اگر بڑا لڑکا ماں باپ کی موت کے وقت نا بالغ یا دیوانہ ہو تو جب بالغ ہو جاۓ یا دیوانگی سے شفا یاب ہونے سے پہلے مر جاۓ تو دوسرے پر کسی چیز کا بجا لانا ضروری نہیں ہے۔

     
     
  • RelatedArticle
  •  
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011