مسئلہ١٨٨:نماز گزار کی جگہ کے لۓ نو/٩شرطیں ہیں۔
مسئلہ١٨٩:پہلی شرط؛١.وہ جگہ مباح ہو :جو شخص غصبی جگہ پر نماز پڑھے اگر چہ فرش یا تخت وغیرہ پر ہو پھر بھی اس کی نماز باطل ہے لیکن غصبی چھت کے نیچے یا غصبی خیمے میں نماز پڑھنے میں کوئ حرج نہیں ہے۔
مسئلہ١٩٠:جو شخص مسجد میں پہلے سے بیٹھا ہودوسرا شخص اس کی جگہ غصب کر لے اور وہاں نماز پڑھے تو علی الاحوط اس کی نماز باطل ہے۔
مسئلہ١٩١:دوسری شرط؛٢.نمازی کی جگہ متحرک نہیں ہو نی چاہیۓ اگروقت کی تنگی یا کسی دوسری وجہ سے مجبور ہو جاۓ جو متحرک ہو جیسے بس، کشتی اور ٹرین میں نماز پڑھے تو ممکنہ حد تک حالت ِحرکت میں کچھ نہ پڑھے اور اگر سواری قبلہ سے منحرف ہو جاۓ تو خود قبلہ کی طرف مڑ جاۓ۔
مسئلہ١٩٢:تیسری شرط؛٣.ایسی جگہ جہاں آندھی ،بارش یا لوگوں کے ازدھام کی وجہ سے نماز تمام نہ کر سکتا ہو تو اسکو وہاں نماز نہیں پڑھنی چاہیۓ لیکن اگرشک یا احتمال ہو کہ نما ز تمام کرلے گا تو رجاء ً نماز شروع کر سکتا ہے۔
مسئلہ١٩٣:چوتھی شرط؛٤.وہ جگہ جہاں پر ٹھہرنا حرام ہے مثلاً ایسی چھت کے نیچے جس کے گرنے کا وقت قریب ہو نماز نہ پڑھے لیکن اقویٰ یہ ہے کہ ٹھہرنے کا حرام ہو نا نمازکے بطلان کا سبب نہ ہو گا اگر چہ اعادہ کرنا احوط ہے۔
مسئلہ١٩٤:پانچویں شرط؛٥.ایسی چیز جس پر کھڑا ہونا یا بیٹھنا حرام ہو جیسے وہ فرش جس پر خدا کانام یا قرآن کی آیتیں لکھی ہوں نماز نہ پڑھے اس لۓ کہ یہ فعل دین کی توہین کا سبب ہے بلکہ بعض موارد میں موجب کفر ہے اور ایسی نماز میں قربت کا قصد کرنا ممکن نہیں ہے۔
مسئلہ١٩٥:چھٹی شرط؛٦.ایسی جگہ جسکی چھت اتنی نیچی ہو کہ سیدھا کھڑا نہ ہو سکے یا اتنی چھوٹی ہو کہ رکوع اور سجود کے لۓ جگہ نہ ہو تو نماز نہ پڑھے لیکن اگر ایسی جگہ نماز پڑھنے پر مجبور ہو جاۓ تو جتنا ممکن ہو قیام و رکوع اور سجود بجا لاۓ۔
مسئلہ١٩٦:ساتویں شرط؛٧.بنا بر اقویٰ پیغمبرصلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم اورأئِمّہ علیہم السّلام کی قبور کے آگے نماز نہ پڑھے اسی طرح قبر کے برابر میں بھی احتیاط واجب کی بنا پر نماز نہ پڑھے۔
مسئلہ١٩٧:آٹھویں شرط؛٨.نماز پڑھنے والے کی جگہ اگر نجس ہے تو اتنی ترنہ ہو کہ اس کی رطوبت جسم یا لباس تک پہنچ جاۓ لیکن وہ جگہ جہاں پیشانی رکھتا ہے اگر نجس ہو تو چاہے وہ خشک بھی کیوں نہ ہو نماز باطل ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز کی جگہ بالکل نجس نہ ہو۔
مسئلہ١٩٨:نویں شرط؛٩.نماز پڑھنے والے کی پیشانی کی جگہ پاؤں کی انگلیو ں کی جگہ سے چار بندھی انگلیوں کی مقدار سے زیادہ نیچی یا اونچی نہ ہو۔
مسئلہ١٩٩:خانۂ کعبہ کے اندر یا اس کی چھت پر احتیاط واجب کی بنا پرنماز نہ پڑھے لیکن مجبوری کی حالت میں کوئ اشکال نہیں ہے أَئِمہ علیہم السّلام کے حرم میں نماز پڑھنامستحب ہے بلکہ مسجد سے بہتر ہے اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السّلام کے حرم میں نماز پڑھنا دو لاکھ نماز کے برابر ہے۔