مسئلہ١٧٣:نماز پڑھنے والے کے لباس میں چھ شرطیں ہیں۔
(١)پاک ہو نا۔ (٢)مباح ہو نا۔ (٣)مردار کے اجزاء کا اس میں نہ پایا جانا۔ (٤)حرام گوشت جانور سے نہ بنا ہو۔ (٥)اگر نمازی مرد ہو تو اس کے لباس پر خالص ریشم نہ ہو۔ (٦)اگر نمازی مرد ہو تو اس کے لباس پر سونے کا کام نہ ہو۔
مسئلہ174:نمازی کا لباس پاک ہو نا چاہیۓ اور اگر کوئ شخص عمداً نجس لباس میں یا نجس جسم کے ساتھ نمازپڑ ھ لے تو اس کی نماز باطل ہے۔
مسئلہ١٧٥:اگر بھول جاۓ کہ اس کا جسم یا لباس نجس ہے اور اثناۓ نماز یا نماز کے بعد یاد آجاۓ تو نماز دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر چکا ہو تو قضاء کرے۔
مسئلہ١٧٦:نمازی کے لباس کو مباح ہو نا چاہیۓ اور جس شخص کو علم ہو کہ غصبی لباس کا پہننا حرام ہے اگر عمداً غصبی لباس میں یا اس لباس میں جسکا دھاگا یا بٹن وغیرہ غصبی ہے نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے اوریہی مسئلہ جاہل مقصّر کے لۓ بھی ہے۔
مسئلہ١٧٧:اگر اس رقم سے لباس خریدے جس کے اصل مال میں خمس یا زکوٰة واجب ہو اور اس نے خمس یا زکوٰة ادا نہیں کی ہے تو ایسے لباس میں نماز باطل ہے۔
مسئلہ١٧٨:نمازی کا لباس ایسے مردار جانور کے اجزاء سے نہ بنا ہو جس کا خون ذبح کرنے میں دھار سے نکلتا ہو بلکہ اس مردار جانور کے اجزاء سے کہ جسکا خون دھارے سے نہ نکلتا ہو جیسے مچھلی،سانپ وغیرہ اگر اس جانور کے اجزاء سے لباس تیّار کیا جاۓ تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ایسے لباس میں نماز نہ پڑھے۔
مسئلہ١٧٩:مردار جانور کے وہ اجزاء جس میں روح ہوتی ہے جیسے گوشت، چمڑہ وغیرہ حالت نماز میں نمازی کے پاس ہو تو اگر چہ وہ لباس کا جزو نہ ہو تو بھی نماز باطل ہے۔
مسئلہ١٨٠:اگر حرام گوشت جانور مثلاً بلّی کے مُنھ یا ناک کی رطوبت یا کوئ اوررطوبت نمازی کے جسم یا لباس پر ہو تو اگر تر ہو تو نماز باطل ہے اوراگر خشک ہو کر عین زائل ہو چکا ہو تو نماز صحیح ہے۔
مسئلہ١٨١:مرد کے لۓ سونے کے کام والے کپڑے پہننا حرام ہے اور اس میں نماز باطل ہے لیکن عورت کے لۓ نماز اور دوسری چیزوں میں کوئ حرج نہیں ہے۔
مسئلہ١٨٢:مرد کے لۓ سونے کی زنجیر یا سونے کی انگوٹھی پہننا یا سونے کی گھڑی پہننا حرام ہے اور ان کے ساتھ نماز باطل ہے۔اور احتیاط واجب یہ ہے کہ سونے کی عینک لگانے سے بھی پرہیز کرے لیکن عورت کے لۓ نماز اور دوسرے مواقع پر سونا پہننا جائز ہے۔
مسئلہ١٨٣:نماز گزار شخص کا لباس خالص ریشم کا نہ ہو اور نماز کے علاوہ بھی مرد کے لۓ اسکا پہننا حرام ہے اور اسی طرح ٹوپی اور ازار بند وغیرہ جو تنہا ستر عورتین کے لۓ کافی نہیں ان کے پہننے سے بھی نماز کا بطلان اقویٰ ہے۔
مسئلہ١٨٤:احتیاط واجب یہ ہے کہ مرد زنانہ اور عورت مردانہ لباس نہ پہنے بلکہ ایک دوسرے سے مشابہ ہونے اور معمول کے لباس سے خارج ہونے میں بنا بر اقویٰ حرام ہے لیکن ایسے لباس میں نماز پڑھے تو کوئ حرج نہیں ہے۔
وہ مقامات جن میں لباس یا بدن کا حالت نما ز میں پاک ہونا ضروری نہیں ہے
مسئلہ١٨٥:تین صورتوں میں جس کی تفصیل آگے آۓ گی اگر نمازی کا جسم یا لباس نجس ہو تو بھی اس کی نماز صحیح ہے۔
١۔ زخم یا نشتر یا پھوڑے کی وجہ سے جو اسکے جسم میں تھا اس کا لباس یا بدن خون آلود ہو جاۓ۔
٢۔ اس کے جسم یا لباس پر خون ایک درہم سے کم ہو جوتقریباًایک اشرفی کے برابر ہے۔
٣۔ مجبور ہو کہ نجس جسم یا لباس میں نماز پڑھے اور دو صورتوں میں اگر فقط نمازی کا لباس نجس بھی ہو تو نماز صحیح ہو گی۔
الف.لباس کی کوئ چھوٹی چیز نجس ہو جیسے ٹوپی یا موزے۔
ب.بچّے دار عورت کا نجس لباس۔
مسئلہ١٨٦:اگر نمازی کے چھوٹے کپڑے جیسے ٹوپی، موزے وغیرہ جن سے ستر عورتین نہیں ہو سکتا نجس ہو تو اگر وہ مردار اور حرام گوشت جانور کے اجزاء سے بناۓ نہ گۓ ہوں تو ان میں نماز صحیح ہے بلکہ اگر نجس انگوٹھی پہن کر بھی نماز پڑھے تو کوئ اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ١٨٧:وہ عورت جو اپنے بچّے کی پرورش کرتی ہو بچہ خواہ لڑکا ہو یا لڑکی اور اس کا لباس اس بچے کے پیشاب سے نجس ہو جاۓ اور اس کے پاس کوئ دوسرا کپڑا نہ ہو اگر شب و روز میں ایک مرتبہ اپنے لباس کو پاک کر لیا کرے تو اگر دوسرے دن تک بچّے کے پیشاب سے اس کا لباس نجس ہو جاۓ پھر بھی اس لباس میں نماز پڑھ سکتی ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اپنے لباس کو عصر کے قریب نماز ظہر و عصر کے لۓ پاک کرے۔