پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleIDPicAddressSubjectDate
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Wednesday 23 May 2012 - الاربعاء 01 رجب 1433 - چهارشنبه 3 3 1391
 
 
 
 
  • تیمم کا بیان  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ١٥٩:سات/٧موقعوں پر وضوء اور غسل کے بدلے تیمم کرنا چاہیۓ۔

    ١.وضوء یا غسل کے پانی کی جو ضروری مقدار ہے ممکن نہ ہو۔

    ٢.اگر انسان بڑھاپے کی وجہ سے یا چوراور درندوں کے خوف سے یا کنویں سے پانی نکالنے کا کوئ ذریعہ نہ ہونے کے سبب پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو تو تیمم کرے اور یہی حکم اس وقت بھی ہے جب پانی حاصل کرنے یا اس کے استعمال کرنے میں نا قابل برداشت مشقّت ہو۔

    ٣.اگر پانی کے استعمال سے خود اس کی جان کو خطرہ ہو اس کا خوف ہو کہ اس کے استعمال سے کوئ مرض یا عیب پیدا ہو جاۓ گا یا مرض بہت زیادہ طول پکڑ جاۓ گا یا اس میں زیادتی ہو جاۓ گی یا علاج میں دقّت پیدا ہو جاۓ گی تو ان حالات میں تیمم کرے لیکن اگر گرم پانی اس کے لۓ مضر نہ ہو تو گرم پانی سے وضوء کرے۔

    ٤.انسان کو خوف ہو کہ اگر پانی کو وضو ء یاغسل میں صرف کردیا گیا تو وہ خود یا اس کے اہل و عیال یا اسکا دوست اور وہ لوگ جو اس سے متعلق ہیں جیسے نوکر وغیرہ پیاس سے مر جائیں گے یا بیمار ہو جائیں گے یا اتنے پیاسے ہو جائیں گے کہ جس کا برداشت کرنا دشوار ہو گا تو وضوء اور غسل کے بدلے تیمم کرے اور اگر اس کا خوف ہو کہ جو جانور اس کے یہاں پلتے ہیں و ہ پیاس سے مر جائیں گے ،تو پانی ان جانوروں کو پلادے اور وضوء اور غسل کے بدلے تیمم کرے اور یہی حکم اس وقت ہے جبکہ جس کی جان کی حفاظت واجب ہے اگر وہ اتنا پیاسا ہو جاۓ کہ اگر انسان اسے پانی نہ دے تو وہ تلف ہو جاۓ اور اسی طرح اگر خوف ہو کہ بعد میں پیاسا ہو جاۓ گا ۔

    ٥.اگر کسی کا بدن یا لباس نجس ہے اور فقط اتنا پانی ہے کہ اس سے وضوء یا غسل کرلے تو بدن یا لباس کو پاک کرنے کے لۓ پانی نہیں بچے گا تو اس صورت میں بدن یا لباس کو پاک کرے اور تیمم سے نماز پڑھ لے احتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلے نجاست کو دور کرے اور اگر کوئ چیز ایسی نہ ہو کہ جس پر تیمم کرسکے تو پانی کو وضوء یا غسل میں صرف کرے اور نجس بدن یالباس کے ساتھ نماز پڑھے۔

    ٦.اگر فقط ایسا پانی یا ایسا برتن ہو کہ جس کا استعمال حرام ہے جیسے پانی یا اس کا برتن غصبی ہو اور اسکے علاوہ کوئ دوسرا برتن یا پانی بھی نہ ہو تو وضوء اور غسل کے بدلے تیمم کرے۔

    ٧.اگر وقت اتنا تنگ ہو جاۓ کہ وضوء کرنے یا غسل کرنے میں پوری نماز یا نماز کے کچھ حصّے کو وقت کے بعد پڑھنا پڑے گا تو تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔

    وہ چیزیں جن پر تیمم صحیح ہے

    مسئلہ١٦٠:مٹی، ریت،ڈھیلے ، اور پتھر پر تیمم صحیح ہے، لیکن احوط اور اولیٰ یہ ہے کہ اگر مٹی ممکن ہو تو دوسری چیزوں پر تیمم نہ کرے اور اگر مٹی نہ ہو تو ریت پر اور اگر ریت نہ ہو تو ڈھیلے پر اور اگر ڈھیلہ بھی نہ ہو تو پھر پتھر پر تیمم کرے۔

    مسئلہ١٦١:چونے اور سیمنٹ کے پتھر پر تیمم کرنا صحیح ہے لیکن پختہ چونا اور سیمنٹ اور معدنی پتھر جیسے عقیق وغیرہ پر تیمم باطل ہے۔

     
     
  • RelatedArticle
  •  
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011