پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleIDPicAddressSubjectDate
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Wednesday 23 May 2012 - الاربعاء 01 رجب 1433 - چهارشنبه 3 3 1391
 
 
 
 
  • غسل میّت کے احکام  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ١٢٨:میّت کو تین غُسل دینا واجب ہیں، پہلا بیری کے پانی سے دوسرا کافور کے پانی سے تیسرا خالص پانی سے۔

    مسئلہ١٢٩:بیری کی پتّی اور کافور اتنا زیادہ نہ ہو کہ پانی کو مضاف کردے اور اتنا کم بھی نہ ہو کہ یہ نہ کہا جاسکے کہ بیری کی پتّی اور کافور اس میں ملا ہو اہے۔

    مسئلہ١٣٠:اگر بیری کی پتّی یا کافور یا ان دونوں میں سے کوئ ایک نہ مل سکے یا اس کا استعمال جائز نہ ہو مثلاً غصبی ہو تو جو ممکن نہ ہو اس کی جگہ پر میّت کو خالص پانی سے غسل دیا جاۓ۔

    مسئلہ١٣١:میّت کو غسل دینے والے شخص کے لۓ مسلمان، شیعہ اثناعشری، بالغ، عاقل ہونا اور مسائل غسل سے واقفیت رکھنا ضروری ہے۔

    مسئلہ١٣٢:ساقط ہونے والا بچّہ چار مہینے کا یا اس سے زیادہ کا ہو تو اسکو غسل دینا واجب ہے اگر چار مہینے کا نہ ہو تو اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر غسل کے بغیر دفن کردیں۔

    مسئلہ١٣٣:مرد کا عورت کو اور عورت کا مرد کو غسل دینا حرام ہے لیکن بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے، اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو غسل نہ دے۔

    مسئلہ١٣٤:اگر میّت کے جسم کا کوئ حصّہ نجس ہو تو غسل دینے سے پہلے اسے پاک کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل شروع کرنے سے پہلے میّت کا پورا بدن پاک کرے۔

    مسئلہ١٣٥:غسل میّت غسل جنابت کی طرح ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ غسل ترتیبی ممکن ہونے کی صورت میں غسل ارتماسی نہ دیا جاۓ، لیکن غسل ترتیبی میں بدن کے تینوں حصّوں میں ہر ایک کو آب کثیر میں غوطہ دیا جا سکتا ہے۔

    مسئلہ١٣٦:جس کا حالت حیض یا حالت جنابت میں انتقال ہو جاۓ تو اسے غسل حیض یا غسل جنابت دینا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لۓ وہی غسل میّت کافی ہے۔

     
     
  • RelatedArticle
  •  
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011