مسئلہ١٢٥:مسلمان اگر چہ شیعہ اثناعشری بھی نہ ہو پھر بھی اس کو غسل و کفن دینا، اس پر نماز پڑھنا اور اسے دفن کرنا ہر مکلَّف پر واجب ہے۔ اور بعض اشخاص اسے انجام دیدیں تو دوسروں سے ساقط ہو جاۓ گا، اگر کوئ انجام نہ دے تو سب گنہگار ہونگے۔
مسئلہ١٢٦:اگر کسی کو معلوم ہو کہ میّت کا غسل یا کفن یا نماز یا دفن باطل طریقے سے انجام دیا گیا ہے تو اس پر واجب ہے کہ دوبارہ انجام دے لیکن اگر فقط گمان ہو کہ باطل تھا یا شک ہو کہ صحیح تھا یا نہیں تو اس صورت میں دوبارہ انجام دینا ضروری نہیں ہے۔
مسئلہ١٢٧:اگر میّت اپنے غسل و کفن، دفن اور نماز کے لۓ ولی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو معیّن کرے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ولی اور وہ دوسرا شخص دونوں اجازت دیں اور یہ ضروری نہیں ہے کہ میّت نے جس شخص کو ان امور کے انجام دینے کے لۓ معیّن کیا ہے وہ اس وصیّت کو قبول کرے لیکن اگر اس نے وصیّت قبول کرلی ہے تو پھر اسے اس وصیّت پر عمل کرنا ہو گا۔