پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleIDPicAddressSubjectDate
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Tuesday 22 May 2012 - الثلاثاء 29 جمادى الثانية 1433 - سه شنبه 2 3 1391
 
 
 
 
  • غسل مس میّت  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ١١٣:اگر کوئ شخص مردہ انسان کے جسم کو جو سرد ہو چکا ہو اور اسے ابھی غسل نہ دیا گیا ہو مس کرے یعنی اپنے جسم کے کسی حصّے کو اس سے متصل کرے تو غسل مس میّت اس پر واجب ہے خواہ سوتے میں مس کرے یا بیداری میں، اپنے اختیار سے مس کرے یا مجبور ہو کر یہاں تک کہ اگر اس کے ناخن اور ہڈّی مردے کے ناخن یا ہڈّی سے مس ہوں تو بھی غسل کرے لیکن اگر کسی مردہ حیوان کو مس کرے تو غسل واجب نہیں ہے۔

    مسئلہ١١٤:وہ مردہ جس کا پورا بدن ابھی سرد نہیں ہوا ہے اس کے مس کرنے پر غسل واجب نہیں ہو گا اگر چہ اس کے جسم کے اس حصے کو مس کیا جاۓ جو سرد ہو چکا ہو۔

    مسئلہ١١٥:وہ بچہ جو ماں کے مرنے کے بعد پیدا ہوا ہو اگر ولادت کے وقت اسکی ماں کا بدن سرد ہو گیا تھا تو بالغ ہونے کے بعد اس کو غسل مس میّت کرنا چاہیۓ۔

    مسئلہ١١٦:اگر انسان اس میّت کو مس کرے جسکو تینوں غسل دیۓ جا چکے ہوں تو اس پر غسل واجب نہیں ہو تا لیکن اگر میّت کا تیسرا غسل تمام ہونے سے پہلے اس کے جسم کے کسی حصّے کو مس کرے تو اگر چہ اس حصّے پر تیسرا غسل ہو چکا ہو پھر بھی غسل واجب ہے۔

    مسئلہ١١٧:غسل مس میّت کو غسل جنابت کی طرح انجام دینا چاہیۓ، لیکن وہ شخص جس نے غسل مس میّت کیا ہے اگر نماز پڑھنا چاہے تو اسے وضوء بھی کرنا چاہیۓ۔

    مسئلہ١١٨:اگر چند میّتوں کو مس کرے یا ایک میّت کو کئ بار مس کرے تو ایک ہی غسل کافی ہے۔

     
     
  • RelatedArticle
  •  
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011