مسئلہ١٠٥:ولادت کے وقت جب بچّے کا پہلا جز و شکم مادر سے باہر آۓ اور اسی کے ساتھ جو خون بھی جاری ہو اور وہ دس/١٠ دن سے پہلے یا دسویں دن منقطع ہو جاۓ تو وہ خون نفاس ہے اور عورت کو نفاس کی حالت میں نفساء کہتے ہیں۔
مسئلہ١٠٦:یہ ضروری نہیں ہے کہ بچّے کی خلقت پوری ہو بلکہ اگرعورت کے رحم سے خون کا لوتھڑا خارج ہو اور خود اس عورت کو معلوم ہو یا چار دائیاں کہیں کہ اگر رحم میں رہ جاتا تو انسان کی شکل اختیار کر لیتا ،کہ عام طور پر یہ کہا جاۓ کہ ساقط ہو گیا یہ عورت دس/١٠ دن تک جو خون دیکھے گی وہ نفاس ہے۔
مسئلہ١٠٧:وہ خون جو بچّے کے بدن کے پہلے جزو کے نکلنے سے پہلے عورت کو آجاۓ وہ نفاس نہیں ہے۔
مسئلہ١٠٨:ممکن ہے خون نفاس ایک لمحہ سے زیادہ نہ آۓ لیکن دس/١٠ دن سے زیادہ نہیں آتا۔
مسئلہ١٠٩:نفاس والی عورت تمام واجبات و محرمات میں حائض کی مثل ہے۔
مسئلہ١١٠:نفاس کی حالت میں عورت کو طلاق دینا صحیح نہیں ہے اور اس سے جماع کرنا بھی حرام ہے، اگر اس سے اس کا شوہر جماع کرے تو احتیاط مستحب یہ کہ احکام حیض میں بیان شدہ دستور کے مطابق کفّارہ دے۔
مسئلہ١١١:جب عورت خون نفاس سے پاک ہو جاۓ تو غسل کرے اور اپنی عبادتوں کو بجا لاۓ لیکن اگر پھر دوبارہ خون آجاۓ تو اگر خون آنے والے دن اوردرمیان کے پاک رہنے کے دن سب ملا کر دس/١٠ دن یا اس سے کم ہوں تو سب خون نفاس ہے اور اگر مدّت انقطاع میں اس نے روزہ رکھا ہو تو اس کی قضاء کرے۔
مسئلہ١١٢:اگر خون نفاس دس/٠١دن سے زیادہ جاری رہے تو عادت حیض کے دنوں کے مطابق نفاس اور باقی استحاضہ ہے اور اگر عادت نہ ہو تو دس/١٠دن تک نفاس اور باقی استحاضہ ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ عادت والی عورت اپنی عادت کے بعد سے اور وہ عورت کہ جو عادت نہیں رکھتی پیدائش کے دسویں دن سے اٹھارویں دن تک استحاضہ کے امور کو انجام دے اور وہ کام جو نفساء پر حرام ہیں ترک کرے۔