پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Saturday 14 December 2019 - السبت 15 ربيع الثاني 1441 - شنبه 23 9 1398
 
 
 
 
  • وہ چیزیں جو روزے کو باطل کردیتی ہیں  
  • 2010-01-10 18:45:56  
  • CountVisit : 240   
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ٣٣٥:نو چیزیں روزے کو باطل کردیتی ہیں؛

    ١.کھانا پینا؛

    اگر روزے دار کوئ چیز جان کر کھاۓ یا پیۓ تو اس کاروزہ باطل ہے چاہے اس چیز کا کھانا اور پینا معمول کے مطابق ہو جیسے روٹی اور پانی اور چاہے اس چیز کا کھا نا اور پینا معمول کے مطابق نہ ہو جیسے مٹّی اور درخت کا دودھ اور چاہے کم ہو یا زیادہ حتّیٰ کہ اگر مسواک کو منھ سے باہر لاۓ اور اس کو دوبارہ منھ میں لے جاۓ اور اس کی رطوبت کو نگل جاۓ تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا مگر یہ کہ مسواک کی رطوبت لعاب دہن میں اس طرح گھل جاۓ کہ جس کو خارج کی رطوبت نہ کہا جاۓ۔

    مسئلہ٣٣٦:احتیاط واجب یہ ہے کہ روزے دار اس انجکشن کے استعمال سے کہ جسکو غذا کے بدلے لگایا جاتا ہے اجتناب کرے لیکن وہ غذائ انجکشن جو عضوۓ انسانی کو بے حس کرتا ہے اس میں کوئ اشکال نہیں ہے۔

    ٢.جماع یا مباشرت؛

    مسئلہ٣٣٧:جماع اور مباشرت روزہ کو باطل کرتا ہے اگر چہ فقط ختنہ گاہ کے مقدار کے مطابق دخول ہو اور منی بھی باہر نہ آئ ہو۔

    ٣.استمناء؛

    مسئلہ٣٣٨:اگر روزہ دار استمناء کرے یعنی خود ایسا کام کرے کہ منی باہر نکل آۓ تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا۔

    مسئلہ٣٣٩:اگر کوئ شخص منی باہر نکالنے کے قصد سے کسی سے کھیل کو د یا مذاق کرے اگر چہ منی باہر نہ نکلے روزہ باطل ہو جاۓ گا۔

    ٤.خداوند عالم اور پیغمبر خدا صلّی اﷲعلیہ وآلہ وسلّم کی طرف جھوٹی نسبت دینا

    مسئلہ٣٤٠:اگر روزہ دار کہنے ، لکھنے ،یا اشارے وغیرہ سے خداوند عالم اور رسول خدا صلّی اﷲعلیہ وآلہ وسلّم پر جان بوجھ کر جھوٹی نسبت دے اگر چہ فوراً یہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا ہے یا توبہ کرے تواس کا روزہ باطل ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا اور أئمہ طاہرین علیہم السلام اور دوسرے پیغمبروں علیٰ نبیّنا و علیہم السلام اور ان کے جانشینوں رحمہم اﷲ پر بھی جھوٹ کی نسبت نہ دے۔

    مسئلہ٣٤١:اگر جھوٹ کسی دوسرے شخص نے بنایا ہو اور اس کو جان کر خداوند عالم اور رسول صلّی اﷲعلیہ وآلہ وسلّم اور آپ کے جانشینوں کی طرف نسبت دے تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا لیکن اگر کوئ شخص اس شخص کے قول کو نقل کرے کہ جس نے جھوٹ خود گھڑا ہو تو اس میں کوئ اشکال نہیں ہے۔

    ٥.حلق میں غلیظ(گاڑھا)غبار کا پہنچانا

    مسئلہ٣٤٢:اگر کوئ شخص غلیظ غبار کو اپنے حلق میں پہنچاۓ تو اسکا روزہ باطل ہو جاۓ گا چاہے وہ غبار ایسی چیز کا ہو جس کا کھانا قول احوط کی بنا پر حلال ہو جیسے آٹا یا ایسی چیز کا غبار ہو کہ جسکا کھانا حرام ہو جیسے مٹّی خاک وغیرہ۔اور حتیاط واجب یہ ہے کہ جو غبار غلیظ بھی نہ ہو اسکو بھی اپنے حلق میں نہ پہنچاۓ۔

    مسئلہ٣٤٣:احتیاط واجب یہ ہے کہ روزہ دار تمباکو، بیڑی، سگریٹ اور گاڑھے دھویں کو حلق تک نہ پہنچاۓ۔

    ٦.پانی میں سر ڈبونا

    مسئلہ٣٤٤:اگر روزہ دار جان بوجھ کر تمام سر کو پانی میں ڈبوۓ اگر چہ اس کاباقی بد ن پا نی سے باہر ہو تو اسکا روزہ باطل ہو جاۓ گا لیکن اگر انسان کا تمام بدن پانی میں ڈوب جاۓ اور سر کا کچھ حصہ باہر ہو تو اس کا روزہ باطل نہ ہو گا اگر ممکن ہو تو اپنے بدن کو باہر نکال لے۔

    مسئلہ٣٤٥:اگر بھول جاۓ کہ روزہ ہے اور وہ غسل کی نیّت سے اپنے تمام سر کو پانی میں ڈال دے تو اس کا روزہ اور غسل دونوں صحیح ہیں۔

    ٧.آذان صبح تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا

    مسئلہ٣٤٦:اگر مجنب شخص جان کر صبح کی آذان تک غسل نہ کرے یا اگر اس کا فریضہ تیمم کرنا ہو اور وہ جان کر تیمم نہ کرے تو اس کا رو زہ چاہے ماہ رمضان میں ہو یا اسکی قضاء ہو باطل ہے کیونکہ واجب معیّن میں احوط وجوبی اسکا باطل ہونا ہے لیکن واجب موسّع اور مستحب روزہ میں باطل نہیں ہے اگر چہ احوط استحبابی یہ ہے کہ غسل یا تیمم کو صبح سے پہلے کرلے۔

    مسئلہ٣٤٧:جو شخص ماہ رمضان المبارک کی شب میں مجنب ہو جاۓ اور وہ یہ جان لے کہ اگر سو جاۓ گا تو صبح تک بیدار نہیں ہو گا تو اسکو سونا نہیں چاہیۓ اور اگر وہ سو جاۓ اور صبح تک بیدار نہ ہو تو اسکا روزہ باطل ہے اور اس پر قضاء و کفّارہ بھی واجب ہو جاۓ گا۔

    مسئلہ٣٤٨:جو شخص ماہ رمضان کی رات میں مجنب ہو جاۓ اور وہ جانتا ہو کہ اگر وہ سو جاۓ گا توصبح کی آذان سے پہلے بیدار ہو جاۓ گا اور وہ یہ قصد بھی رکھتا ہو کہ بیدار ہونے کے بعد غسل کرے گا اور وہ اس ارادہ سے سوجاۓ مگر آذان کے وقت تک سوتا رہے تو اسکا روزہ صحیح ہے۔

    مسئلہ٣٤٩:اگر عورت صبح کی آذان سے پہلے حیض سے پاک ہو جاۓ اور وہ جان کر غسل نہ کرے یا اگر اس کا فریضہ تیمم ہو اور وہ جان کر تیمم نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔ماہ رمضان کا روزہ ہو یا اسکی قضاء ہو اور ہر معیّن روزہ میں احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کا روزہ باطل ہے اور علی الاحوط نفاس کا حکم حیض کی مانند ہے۔

    مسئلہ٣٥٠:اگر عورت حیض و نفاس کے غسل کو بھول جاۓ اور اس کو ایک دن کے بعد یا چند دنوں کے بعد یاد آجاۓ تو جو روزے اسنے رکھے ہیں و ہ صحیح ہیں۔

    ٨.حقنہ (اینما) کرنا

    مسئلہ١٥٣:رواں اور بہنے والی چیزوں سے حقنہ (اینما) کرنا اگر چہ مجبوری یا کسی بیماری کے معالجہ ہی کے لۓ کیوں نہ ہو روزہ کو باطل کردیتا ہے۔

    ٩.قے کرنا

    مسئلہ ٣٥٢:جب بھی روزے دار جان کر قے کرے اگر چہ بیماری وغیرہ سے مجبور ہو تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا لیکن کفّارہ نہیں ہے اگر سہواً یا بے اختیار قے کرے تو اس میں کوئ اشکال نہیں ہے۔

    مسئلہ٣٥٣:اگر روزہ دار کے گلے میں مکھّی چلی جاۓ اگر ممکن ہو تو اس کو باہر نکال دے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا لیکن اگر یہ جان لے کہ اس کے باہر نکالنے سے قے آجاۓ گی تو اس کا باہر نکالنا واجب نہیں ہے اور اسکا روزہ صحیح ہے۔

     
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011