پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Saturday 17 November 2018 - السبت 07 ربيع الأول 1440 - شنبه 26 8 1397
 
 
 
 
  • احکام زکوٰة  
  • 2010-01-10 19:10:8  
  • CountVisit : 228   
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ٣٩٠:زکوٰة نو/٩چیز وں پر واجب ہے؛١.گیہوں ٢.جو ٣.کھجور ٤.کشمش ٥.سونا ٦.چاندی ٧.اونٹ ٨.گاۓ ٩.بھیڑ۔

    اگر کوئ ان نو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کا مالک ہو تو ان شرائط کے بعد جو ذیل میں ذکر کی گئ ہیں وہ مقدار جو معیّن ہے اس کو دستور کے مطابق کسی مصرف میں پہنچائیں۔

    زکوٰة کے واجب ہونے کی شرائط

    مسئلہ٣٩١:زکوٰة ایسی صورت میں واجب ہو تی ہے کہ مال اس مقدار اور نصاب کو پہنچ جاۓ جس کو بعد میں بیان کیا جاۓ گا اوراس کا مالک بالغ، عاقل، آزاد ہو اور وہ اس مال میں تصرف بھی کر سکتا ہو۔

    مسئلہ٣٩٢:اگر انسان گیارہ مہینے گاۓ، بھیڑاور اونٹ ، سونااور و چاندی کا مالک ہو تو گیارہویں مہینے کی پہلی تاریخ کو اس کی زکوٰة دے لیکن بعد کے پہلے سال میں بارہواں مہینہ ختم ہونے کے بعد حساب کرے۔

    مسئلہ٣٩٣:گیہوں اور جو کی زکوٰة اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب اس پر گیہوں اور جو کا اطلاق ہو جاۓ اور کشمش پر اس وقت زکوٰة واجب ہوتی ہے جب میوہ کی شکل اختیار کر لے اور جب کھجور کا رنگ زرد اور سرخ ہو جاۓ تو احتیاط کی بنا پر زکوٰة واجب ہوتی ہے لیکن گیہوں اور جو میں زکوٰہ دینے کا وقت اس وقت ہے جب اس کا بھوسا اس سے جدا کر لیا جاۓ نیز کھجور اورکشمش میں بھی اس وقت ہے کہ وہ خشک ہو جاۓ۔

    گیہوں، جو، کھجور، کشمش کی زکوٰة

    مسئلہ٣٩٤:گیہوں، جو، کھجورا ور کشمش کی زکوٰة اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب وہ نصاب کی مقدار کو پہنچ جاۓ اور ان کا نصاب٢٨٨من تبریزی میں٤٥مثقال کم ہو جو١٢٠.٨٤٧کلو گرام کے برابر ہو تا ہے۔

    مسئلہ٣٩٥:اگر گیہوں، جو، کھجور، انگور بارش اور نہر کے پانی سے سینچے جائیں اور مصر کی زراعتوں کے مانند زمین کی رطوبت سے فائدہ حاصل کرے تو اسکی زکوٰہ١٠/١دسواں حصّہ ہے اور اگر ڈول وغیرہ سے سینچائ کریں تو اس کی زکوٰة٢٠/١بیسواں حصّہ ہے اور اگر کچھ بارش سے یا نہر سے یا زمین کی رطوبت سے فائدہ حاصل کریں اور اسی مقدار کے مطابق ڈول وغیرہ سے سینچائ کریں تو آدھے حصّے میں١٠/١دسواں حصّہ او ر دوسرے حصّے میں٢٠/١بیسواں حصّہ زکوٰة ہو گی یعنی چالیس حصّوں میں سے تین حصّے بابت زکوٰة دینا چاہیۓ۔

    مسئلہ٣٩٦:اگر گیہوں، جو اور کشمش بارش کے پانی سے بھی اور ڈول وغیرہ کے پانی سے بھی سینچی جائیں اس طرح کہ یہ کہیں کہ اسکی آبیاری اور سینچائ ڈول وغیرہ سے زیادہ ہوئ ہے تو ا س کی زکوٰة٢٠/١بیسواں حصّہ ہے اور اگر کہیں کہ اس کی سینچائ اور آبیاری میں نہر اور بارش کا غلبہ ہے تو اس کی زکوٰة١٠/١ دسواں حصّہ ہے اور اگر نہ کہیں کہ نہر کا پانی اور بارش کا پانی زیادہ تھا لیکن بارش کے پانی سے سینچائ ڈول وغیرہ کے پانی سے زیادہ ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی زکوٰة١٠/١دسواں حصّہ ہے۔

    مسئلہ٣٩٧:جو اخراجات گیہوں ، جو اور انگور کے لۓ کیے ہیں حتّیٰ کہ اسباب و لباس کی قیمت کی مقدار اس کے محصول سے جدا کر سکتا ہے اور اگر ان کو خرید ا ہو تو جو قیمت ان کو خریدنے کے لۓ دی ہے اس کو اخراجات و مصارف میں حساب کریں۔

    مسئلہ٣٩٨:اگر زمین یا ا سباب زراعت یا ان دونوں میں سے ایک خود اس کی ملکیت ہوں تو اس کے کرایہ کو اخراجات کا جزوحساب نہ کرے اور نیز جو کام اس نے اپنے لۓ کیے ہیں یا دوسرا بغیر اجرت کے اس کام کو انجام دے تو کوئ چیز اس کے محصول سے جدا نہیں ہوگی۔

    مسئلہ٣٩٩:جو شخص بغیر گاۓ بیل کے اور بغیر دوسری چیز وں کے جو کھیتی اور زراعت کے لۓ لازم ہیں زراعت و کھیتی کر سکتا ہے اگر وہ ان کو خرید ے تو جو قیمت ان کو خرید نے کے لۓ دی ہے اسے مصارف و اخراجات کا جزو حساب کرے۔

    مسئلہ٤٠٠:جو شخص مقروض ہو اور وہ کچھ مال بھی رکھتا ہو کہ جس کی زکوٰة وا جب ہو اگر وہ مرجاۓ تو پہلے اس تمام مال سے جس میں زکوٰة واجب ہو زکوٰة ادا کریں اس کے بعد قرض ادا کریں۔

    مصارف زکوٰة

    مسئلہ٤٠١:انسان زکوٰة کو آٹھ مقام پر خرچ کر سکتا ہے۔

    ١.فقیر:وہ شخص ہے کہ جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کا سالانہ خرچ نہیں رکھتا اور وہ شخص جو کوئ صنعت یا ملکیت یا کوئ سرمایہ رکھتا ہو اور اپنے سالانہ خرچ کو برداشت کر سکتا ہو تو وہ شخص فقیر نہیں ہے۔

    ٢.مسکین:وہ شخص ہے جس کی حالت فقیر سے بھی زیادہ سخت ہو۔

    ٣.جو شخص امام علیہ السلام کی طرف سے یا اما م علیہ السلام کے نائب کی طرف سے مامور ہو تو وہ زکوٰة کو جمع کر کے اس کی حفاظت کرے اور اس کے حساب میں کوشش کرے اور اسکو امام علیہ السلام یا نائب امام یا فقیر تک پہنچادے۔

    ٤.اگر زکوٰة ان کافروں کو دی جاۓ جو اس کو لے کر دین اسلام کی طرف مائل ہو جائیں یا جنگ میں مسلمانوں کی مدد کریں تو کوئ اشکال نہیں ہے۔

    ٥.غلام کی خریداری اور اس کو آزاد کرنا۔

    ٦.اس مقروض کو دینا جو اپنے قرض کو ادا نہیں کرسکتا۔

    ٧.اﷲ کی راہ میں یعنی ان کاموں میں جو عمومی منفعت رکھتے ہوں جیسے مسجد بنانا اور ایسا مدرسہ تعمیر کروانا جس میں طالب علم علم دین حاصل کریں۔

    ٨.مسافر:یعنی وہ شخص جو سفر میں ہو۔ ان کے احکام توضیح المسائل میں ملاحظہ فرمائیں۔

    ان افراد کی شرائط جو زکوٰة کے مستحق ہیں

    مسئلہ٤٠٢:جو شخص زکوٰة لے اسکو شیعہ اثنا عشری ہو نا چاہیۓ اور اگر انسان کسی شخص کو شیعہ جان کر زکوٰة دے اور اس کے بعد معلوم ہو کہ وہ شیعہ نہیں تھا تو اس کو دوبارہ زکوٰة دی جاسکتی ہے لیکن اس کو زکوٰة مولفہ القلوب کے حصّے سے دی جاۓ۔

    مسئلہ٤٠٣:جو شخص گناہ کبیرہ کو انجام دے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اسکو زکوٰة نہ دی جاۓ۔

    مسئلہ٤٠٤:اگر فرزند علم دین کی کتابوں کا ضرورت مند ہو تو باپ کتابیں خریدنے کے لۓ اپنے فرزند کو زکوٰة دے سکتا ہے۔

    مسئلہ٤٠٥:سیّد غیر سیّدسے زکوٰة نہیں لے سکتا لیکن اگر خمس اور دوسری وجوہات اسکے مصارف کو پورا نہ کر سکتی ہوں اور وہ زکوٰة لینے پر مجبور ہو تو ایسا سیّد غیر سیّد سے زکوٰة لے سکتا ہے۔

    زکوٰة کی نیّت

    مسئلہ٤٠٦:انسان زکوٰة کو قربت کی نیّت سے یعنی خداوند عالم کے فرمان کو انجام دینے کے لۓ دے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ جو زکوٰة دے رہا ہے اسکو نیّت میں معیّن کرے کہ زکوٰة کا مال ہے یا فطرہ کا مال پس مثلاً اگر گیہوں کی زکوٰة اس پر واجب ہو تو اس کو معیّن کرنا لازم نہیں ہے کہ یہ جو ز کوٰة دے رہا ہے وہ گیہوں کی زکوٰة ہے یا جو کی زکوٰة ہے۔

    زکوٰة کے متفرق مسائل

    مسئلہ٤٠٧:انسان نے جو زکوٰة جدا کی ہے اس کو اپنے لۓ نہیں لے سکتا اور نہ کوئ دوسری چیز اس کی جگہ رکھ سکتا ہے۔

    مسئلہ٤٠٨:اگر اس زکوٰة سے کہ جس کو اس نے جدا کیا ہے کوئ منفعت اٹھاۓ مثلاً بھیڑ جس کو اس نے زکوٰة کے لۓ رکھا ہے اگر وہ بچہ دے تو وہ بھی مستحق فقیر کا مال ہے۔

    مسئلہ٤٠٩:جس وقت کوئ زکوٰة کو جدا کرے اور کوئ مستحق حاضر ہو تو بہتر یہ ہے کہ اسکو زکوٰة دے اور اگر اس کی نظر میں کوئ ایسا شخص ہو کہ جسے زکوٰة دینا اس سے بہتر ہو تو پھر اسے دینا چاہیۓ۔

    مسئلہ٤١٠:انسان کے لۓ مستحب ہے کہ زکوٰة دینے میں اپنے رشتے داروں کو دوسروں پر اور اہل علم و کمال کو ان کے غیروں پر اور جو افراد سائل نہیں ہیں ان کو سوال کرنے والوں پر مقدم رکھے اور گاۓ، اونٹ اور بھیڑ کی زکوٰة کو عزت دار فقیروں کو دے لیکن اگر کسی فقیر کو زکوٰة دینا کسی وجہ سے بہتر ہو تو مستحب ہے کہ زکوٰة اس کو دے۔

    مسئلہ٤١١:بہتر یہ ہے کہ زکوٰة کوسب کے سامنے دے اور مستحب صدقے کو پو شیدہ دے۔

    مسئلہ٤١٢:اگر کوئ شک کرے کہ جو زکوٰة اس پر واجب تھی وہ دی ہے یا نہیں تو اس کو زکوٰة دینا چاہیۓ اگر چہ اس کا شک سابقہ بر سوں کی زکوٰة کے لۓ ہو۔

    زکوٰة فطرہ

    مسئلہ٤١٣:جو شخص عید الفطر کے غروب آفتا ب کے وقت بالغ و عاقل و ہوشیار ہو اور کسی کا فقیر و غلام بھی نہ ہو تو وہ اپنے لۓ اور جو افراد اس کے کھانے میں شریک ہیں ان میں ہر ایک کی طرف سے تین کلو گیہوں یا جو یا کشمش یا کھجور یا چاول وغیرہ مستحق کو دے اور اگر اس میں کسی ایک کی قیمت بھی دے تو کافی ہے۔

    مسئلہ٤١٤:اس مہمان کا فطرہ جو شب عید الفطر غروب آ فتاب کے وقت صاحب خانہ کی مرضی سے اس کے گھر آیا ہو واجب نہیں ہے اگر چہ اس نے غروب سے پہلے اسکی دعوت کی ہو اور اس کے گھر میں افطار بھی کرے۔

    مسئلہ٤١٥:جو شخص سیّد نہ ہو تو وہ سیّد کو فطرہ نہیں دے سکتا حتّیٰ کہ اگر کوئ سیّد اس کا مہمان ہو تو وہ اس کے فطرہ کو دوسرے سیّد کو نہیں دے سکتا۔

    زکوٰة فطرہ کے مصارف

    مسئلہ٤١٦:جس فقیر کو فطرہ دیتے ہیں یہ لازم نہیں کہ وہ عادل ہو لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ جو شخص شرابی ہو اور برسر عام معصیت کرتا ہو اس کو فطرہ نہ دے۔

    مسئلہ٤١٧:احتیاط واجب یہ ہے کہ فقیر کو تین کلو سے کم فطرہ نہ دے لیکن اگر زیادہ دے تو کوئ اشکال نہیں ہے۔

    مسئلہ٤١٨:جو شخص فطرہ کو معصیت و گناہ میں خرچ کرے تو اس کو فطرہ نہ دے۔

    زکوٰة فطرہ کے متفرق مسائل

    مسئلہ٤١٩:انسان فطرہ کی زکوٰة کو قربت کی نیّت سے یعنی خدا وند عالم کے فرمان کو انجام دینے کے لۓ دے اور جب اس کو دے تو فطرہ دینے کی نیّت کرے۔

    مسئلہ٤٢٠:جو شخص نماز عید الفطر پڑھتا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ فطرہ کو نماز عید الفطر سے پہلے دے لیکن نماز عید نہ پڑھے تو فطرہ دینے میں ظہر تک تاخیر کر سکتا ہے۔

    مسئلہ٤٢١:اگر اپنے شہر میں مستحق مل جاۓ تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کو چھوڑنا مناسب نہیں ہے اور فطرہ کو کسی دوسری جگہ نہ لے جاۓ اور اگر اس کو کسی دوسری جگہ پر لے جاۓ اور وہ تلف(ضایع)ہو جاۓ تو اس کا عوض دینا چاہیۓ۔

     
     
  • RelatedArticle
  •  
    نام :
    Lastname :
    E-Mail :
     
    OpinionText :
    AvrRate :
    %98
    CountRate :
    1
    Rating :
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011