پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Saturday 19 October 2019 - السبت 18 صفر 1441 - شنبه 27 7 1398
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 14104  
  • QDate :  
  • 2013-03-08  
  • ADate :  
  • 2013-03-08  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: رجعت۔ سوال: رجعت کے بارے میں آپ کی کیا نظر ہے؟ کیا یہ اصول مذہب میں سے ہے؟
     Answer :
    جواب: جو چیز صحیح اور متوتر روایات سےسمجھ میں آتی ہے اس کی بنیاد پر رجعت اصول مذہب میں سے ہے، لیکن اس کی تفصیلات پر عقیدہ رکھنا واجب نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ رجعت کے بارے میں آئمّہ علیہم السلام کی بعض روایات کی طرف اشارہ کیا جائے: حضرت امام باقر علیہ السلام نےسورۂ بقرہ کی 243 ویں آیت (ألم تر اِلی الذین خرجوا من دیارھم و ھم اُلوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثمّ أحیاھم) ‘‘ کیا آپ نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جو موت کے ڈر سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلے تھے ؟ اللہ نے ان سے فرمایا: مر جاؤ، پھر انہیں زندہ کر دیا، ’’ کے بارے میں فرمایا: ‘‘ یہ افراد شام کے ایک شہر کے رہنے والے تھے جس میں ستّر ہزار گھر تھے۔۔۔خدا نے انہیں ماردیا اورپھر دوبارہ زندہ کردیا۔ ان میں سے بعض افراد ،دوسروں کو دیکھ رہے تھے جو اللہ کی تسبیح کررہے تھے۔(کافی،جلد8، صفحہ198 ،اور بحارالانوار،جلد14،صفحہ360)۔ اسی طرح سے سورۂ بقرہ کی 259ویں آیت جو رجعت واقع ہونے کے ایک مقام کو بیان کررہی ہے: ( أو کالذی مرّ علی قریۃٍ وھی خاویۃ علی عروشھا قال اَنّی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا فأماتہ اللہ مائۃ عام ثمّ بعثہ ) ‘‘یا اس شخص کی طرح جس کا ایک ایسی بستی سے گزر ہوا جو اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی تو اس نے کہا: اللہ اس (اجڑی ہوئی آبادی کو) مرنے کے بعد کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟ پس اللہ نے سو (١٠٠) برس تک اسے مردہ رکھا پھر اسے دوبارہ زندگی دی’’۔ اور اسی طرح امام علیہ السلام نے سورۂ عبس کی 22ویں آیت ( ثمّ اِذا شاءَ أنشرہ ) ‘‘پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا ’’ کی تفسیر میں فرمایا: رجعت کے وقت (زندہ کرے گا)۔ سورۂ انبیاء کی 95ویں آیت بھی رجعت پر دلالت کررہی ہے: ( و حرام علی قریۃٍ أھلکناھا أنّھم لایرجعون ) ‘‘اور جس بستی (کےمکینوں ) کو ہم نے ہلاک کیا ہے ان کے کے لیے ممکن نہیں کہ وہ (دوبارہ ) لوٹ کر آئیں’’۔ کیوں کہ کوئی بھی مسلمان قیامت کے دن تمام انسانوں ( چاہے وہ ہلاک ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں) کے پلٹنے کا منکر نہیں ہے، لہٰذا آیت میں ‘‘اس کے (مکینوں ) کے لیے ممکن نہیں کہ وہ (دوبارہ ) لوٹ کر آئیں’’ سے مراد، رجعت ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ : ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے کہا: اہل سنت کا یہ خیال ہے کہ آیۂ ( یوم نحشر من کلّ امّۃٍ فوجا ) نمل/83 ترجمہ‘‘اور جس روز ہم ہر امت میں سے ایک ایک جماعت کو جمع کریں گے’’ میں خدا کی مراد، قیامت کا دن ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تو کیا خداوندعالم قیامت کے دن ہر امّت میں سے ایک گروہ کو اُٹھائے گا اور دوسروں کو یوں ہی مردہ چھوڑ دے گا؟! نہیں، ایسا نہیں ہے، اور یہ گروہ یا جماعت کی اُٹھایا جانا ( قیامت سے پہلے) رجعت میں ہے۔ اسی طرح سے امام صادق علیہ السلام نےسورۂ غافر کی 11ویں آیت ( قالوا ربّنا أمتّنا اثنتین و أحییتنا اثنتین) ‘‘(کافر) کہتے ہیں، اے خدا تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندہ کیا’’ کے بارے میں فرمایا: یہ رجعت ہے۔( بحارالانوار،جلد53، صفحہ56، روایت36 )۔ اور اسی طرح سورۂ دخان کی 10ویں آیت ( فارتقب یوم تأتی السماء بدخان مبین ) ‘‘پس آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان نمایاں دھواں لے کر آئے گا’’ کے بارے مں امام نے فرمایا: یہ وہ دن ہوگا جب رجعت میں اُٹھائے جائینگے ۔(بحارالانوار،جلد53، صفحہ57، روایت35، باب29 )۔ امام رضاعلیہ السلام نے بھی مامون کے سوال ‘‘ رجعت کے بارے میں آپ کی نظر، کیا ہے؟’’ کے جواب مں فرمایا: ‘‘ رجعت حق ہے اور گذشتہ امّتوں میں رہی ہے۔۔۔’’۔( بحارالانوار،جلد25، صفحہ135، روایت6، باب4 )۔ سورۂ بقرہ کی تیسری آیت (الذین یؤمنون بالغیب) ‘‘جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ’’ کی تفسیر میں، آیا ہے کہ غیب سے مراد، اُٹھایا جانا اور حضرت صاحب الزمان( عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) کے زمانے مں رجعت ہے۔( بحارالانوار،جلد24، صفحہ351، روایت69)۔ ایسی روایات جن میں رجعت، سے متعلق ، آیات سے استدلال کیا گیا ہے، بہت زیادہ ہیں ۔( بحارالانوار،جلد53،باب28 اور29)۔
  • QaID :  
  • 14103  
  • QDate :  
  • 2013-03-08  
  • ADate :  
  • 2013-03-08  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: مومنین کے نزدیک عاشورہ کے دن عزاداری کا تقدّس۔ سوال:کسی شخص نے یہ کہا ہے کہ :‘‘ عراق میں بعض لوگ، عاشورہ کے دن جشن مناتے اور شراب پیتے ہیں اور بعض لوگ شبِ عاشورہ سردی سے بچنے کے لیے شراب پیتے ہیں۔’’ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
     Answer :
    جواب: عراق اور دوسرے ملکوں میں شیعہ، روزِ عاشورہ کو غم و اندوہ اور گریہ و زاری کا دن سمجھتے ہیں اور عزاداری برپا کرتے ہیں۔ اگر کوئی عام دنوں میں شراب پیتا ہو تو وہ بھی عاشورہ کے دن امام حسین علیہ السلام کے غم اور اُن کے احترام میں نہیں پیتا، اس دن جشن منانا اور اس دن کی وجہ سے شراب پینا تو بہت دور کی بات ہے۔ نہیں ہرگز بھی ایسا نہیں ہے اور یہ بات حقیقت نہیں رکھتی۔ ہاں بعض سیاہ دل لوگ، ممکن ہے اپنی عادت کی بنا پر اس دن بھی پیتے ہوں، لیکن اس دن جشن منانے کے عنوان سے نہیں۔ اور یہ چیز ان ملینوں عزادروں اور مومنین سے تعلق نہیں رکھتی جو سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے مصائب کا غم منارہے ہوتے ہیں۔
  • QaID :  
  • 14099  
  • QDate :  
  • 2013-03-07  
  • ADate :  
  • 2013-03-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: اسلام میں جمہوریت۔ سوال: کیا اسلام میں جمہوریت کا تصوّر پایا جاتا ہے؟ جمہوریت کیا چیز ہے؟ اور کیا کسی غیر اسلامی مغربی پارلمنٹ کی درخواست یا لوگوں سے کچھ چاہنا جائز ہے؟
     Answer :
    جواب: جمہوریت اپنے مغربی معنیٰ میں اگر عوام کی حکومت عوام پر ہو ( اس معنیٰ میں کہ تمام امور لوگوں کے ووٹ اور ان کی مرضی پرمنحصرہوں یہاں تک کہ قانون سازی اور اسی طرح سے لوگوں کو کردار کی آزادی، حتیٰ سرعام اور بغیر کسی پابندی کے حرام کاموں کے ارتکاب وغیرہ کی آزادی بھی ہو، بلکہ حکومت اس قسم کی فردی آزادی کی حمایت کرے)تو اسلام کی نگاہ میں اس قسم کی جمہوریت قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن اگر جمہوریت کے معنیٰ حق کی پرستش اور اسلامی دائرے میں رہتے ہوئے لوگوں کے حقوق،رائے، مسلک اور آزادی کا احترام ہوتو، تو یہ وہی چیز ہے جس کی طرف اسلام دعوت دیتا ہے۔ لیکن یہ آج کی اصطلاحی جمہوریت کے معنیٰ نہیں ہیں، بلکہ دنیائے غرب کا ہدف پہلے والے معنیٰ ہیں۔ غیر اسلامی پارلمنٹ کی درخواست جائز نہیں ہے، کیوں کہ اسلام کی جانب سے ایسی پارلمنٹ کو قانون سازی کا حق نہیں دیا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ غیر مسلم کی مسلمان پر ولایت اور سرپرستی جائز نہیں ہے۔( ولن یجعل اللہ للکافرینَ علی المؤمنین سبیلا)۔ نساء/141‘‘اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر غالب نہیں آنے دے گا’’۔ روایت میں آیا ہے کہ( اِنّ الاسلام یعلو و لا یُعلیٰ علیہ)۔ من لا یحضر الفقیہ،334/4۔‘‘ اسلام ہر دین سے افضل ہے اور کوئی دین و مذہب اس پر برتری نہیں رکھتا’’۔
  • QaID :  
  • 14098  
  • QDate :  
  • 2013-03-07  
  • ADate :  
  • 2013-03-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: شیخیہ۔ سوال: شیخ احمد احسائی کے بارے میں آپ کی نظر شریف کیا ہے؟
     Answer :
    جواب: احسائی کے نظریات بے ربط و نامعقول اور انحراف میں مبتلا کرنے والے ہیں ۔ وہ کہتا ہے: روح کا ہورقلیائی جسم میں پلٹنا معاد یا قیامت ہے، اس مادّی جسم کی طرف پلٹنا نہیں۔ہورقلیائی سے اس کی مراد ایک ایسی چیز ہے جو بدن مثالی سے پہلے برزخی رہی ہے۔اگر اس کی اس بات کی تأویل نہ کی جائے تو یہ ایک مصدقہ اور یقینی مسئلہ یعنی معاد یا قیامت کی مخالفت کرتی ہے۔ جو چیز قرآن و سنّت سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ معاد اسی مادی اور طبیعی جسم کے ساتھ واقع ہوگی کسی اور چیز کے ساتھ نہیں۔ اس طرح کے قابل تأویل الفاظ اس کی باتوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کی دین داری کی کمزوری کو بیان کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کا راستہ اور مسلک، ‘‘شیخیہ’’ اور ‘‘بابیہ’’ کے بنیادی عقائد کے لیے اساس قرار پایا ہے۔ اس کے شاگردوں میں سے سید کاظم رشتی ہے،جو محمد علی باب جوکہ بابیہ کا بانی ہے، اس کا استاد ہے۔محمد علی باب رشتی کی افکار سے متأثر ہے، اور رشتی، احسائی کے افکار سے متأثر تھا۔ کسی موضوع کے بارے میں زبان نہ کھولنا، اس بات سے بہت بہتر ہے کہ انسان اس بارے میں جاہلانہ اور غلط انداز میں بحث کرے، اس طرح کہ وہ خود بھی گمراہ ہوجائے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردے۔
  • QaID :  
  • 14093  
  • QDate :  
  • 2013-03-06  
  • ADate :  
  • 2013-03-06  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: تصوّف۔ سوال: تصوّف کیا ہے؟ کیا اسے قبول کرنا جائز ہے؟ کیا ہمارے علماء میں سے کوئی اس مذہب یا اس سے منسوب رہا ہے؟
     Answer :
    جواب: مذہب توّنف کو قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ ہمارے علماء میں سے کوئی اس مذہب کا پیروکار نہیں ہے اور اگر کی کی طرف اس کی نسبت دی گئی ہے تو اس نسبت کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوا ہے۔تصوّف، اہلِ بیت علیہم السلام کے راستے سے انحرافی اور بھٹکا ہوا راستہ ہے۔بلکہ بعض صوفیوں کی گفتار اور انکا کردار اسلامی اعتقادات اور احکام الٰہی سے مخالفت بھی رکھتا ہے۔
  • QaID :  
  • 14092  
  • QDate :  
  • 2013-03-06  
  • ADate :  
  • 2013-03-06  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: دینی اور اخلاقی اقدار کا نسبی نہ ہونا۔ سوال: درج ذیل عقیدے کے بارے میں آپ کی نظر کیا ہے؟ ‘‘ معنوی یا غیر مادّی اقدار مطلق یا بغیر کسی حدود کے نہیں ہیں بلکہ ان اقدار کے لیے خاص حدود اور دائرے پائے جاتے ہیں کہ جو اس دنیا میں انسان کی واقعیت کی بہ نسبت اس کی مادّی اور طبیعی ضروریات سے اُبھرتی ہیں ’’۔ وہ شخص شرعی استثنائات مثلاً بعض مواقع جیسے مصلحت کے وقت جھوٹ کے جائز ہونے اور بعض صورتوں میں سچّائی کے حرام ہونے کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے: ‘‘ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر، حتیٰ مختلف ادیان میں، نسبتیں پائی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے علمائے اصول نے کہا ہے: ‘‘کوئی ایسا عام نہیں ہے جس کے لیے تخصیص نہ پائی جائے’’۔(ما من عام الّا و قد خصّ)
     Answer :
    جواب: اگر دینی اقدار سے مراد اخلاقی اقدار ہوں تو یہ اقدار بغیر کسی قید و شرط کے مطلق ہیں، کیوں کہ یہ عقلائی امور میں سے ہیں۔ یعنی عقلاء اس بات پر متفق ہیں اور عقل نظری اس کا حکم دیتی ہے۔ نتیجتاً اخلاقی اقدار مثلاً ظلم کی قباحت اور اس کی برائی اور عدل کا نیک اور حسن ہونا، کسی بھی دور اور زمانے میں تبدیل نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ بعض اوقات ان اقدار کے مفہوم اور مصداق کے درمیان تطبیق میں اختلاف پایا جائے۔ جہاں پرجھوٹ نقصان دہ ہو وہاں پر ظلم کی برائی اور دوسروں کو نقصان پہنچانے پر صادق آتا ہے، اور جہاں جھوٹ بولنے میں مصلحت پائی جائے وہاں احسان اور نیکی جیسے عناوین کے ساتھ ہم آہنگی اور سازگاری پیدا کرلیتا ہے، جو عقل کے نزدیک بھی پسندیدہ ہے۔ اسی طرح سے صداقت وسچّائی اور اسی جیسی چیزیں بھی ہیں۔ لیکن اگر دینی اقدار سے مراد خدا کے احکام یا شرعی احکام ہیں، تو یہ بھی مطلق ہیں، کیوں کہ یہ حقیقی مصلحتوں اور مفاسد یا نقصانات کے تابع ہیں۔کبھی یہ ممکن ہے کہ یہ اقدار، موضوع کے عنوانِ ثانوی میں تبدیل ہونے کی وجہ سے، بدل جائیں، جس کے ذیل میں حکم بھی تبدیل ہوجائےگا، لیکن یہ چیز شرعی حکم کے اطلاق اور اس کے نسبی نہ ہونے کو ختم نہیں کرسکتی۔ اصولیوں کے اس قول ‘‘کوئی ایسا عام نہیں ہے جس کے لیے تخصیص نہ پائی جائے’’(ما من عام الّا و قد خصّ) ۔ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دینی اقدار سے تعلق نہیں رکھتا، کیوں کہ دینی اقدار واقعی اور حقیقی امور ہیں لیکن جس چیز کو علماء نے ذکر کیا ہے وہ لفظ اور حقیقت اور واقعیت کی حکایت یا اسے بیان کرنے کی طرف پلٹ رہا ہے اور ان کے اس قول ‘‘ اکثر عام مفاہیم کے لے تخصیص پائی جاتی ہے’’ کا لازمی مطلب اقدار کی نسبیت نہیں ہے۔بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ بات کرنے والا یا متکلم اکثر اوقات پہلے عمومی بات کرتا ہے اور پھر (کسی دلیل کی بنیاد پر) خود اس عمومی بات کے لیے تخصیص یا استثناء کو ذکر کرتا ہے، اس ببیاد پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کا اصل مقصد وہ عام مفہوم نہیں تھا (بلکہ اس کی گفتگو کا اصل موضوع مستثناء تھا )۔
  • QaID :  
  • 14085  
  • QDate :  
  • 2013-03-05  
  • ADate :  
  • 2013-03-05  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: اسلام کی نگاہ میں دنیاوی امور کو انجام دینا۔ سوال: امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی کتاب ‘‘آداب معنوی نماز’’ کی دوسری جلد میں آیا ہے: ‘‘ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ خاتم الانبیاء پیغمبر ہاشمی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی دعوت کے دو پہلو ہیں: دنیاوی پہلو اور اُخروی پہلو۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات صاحب شریعت کے لیے ایک فخر ہے اور اس کی نبوت کے لیے کمال ہے۔ پس ایسے لوگ دین شناس نہیں ہیں اور رسالت کے اہداف و مقاصد اور آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی دعوت سے غافل ہیں کیوں کہ دنیا کی طرف دعوت دینا اہداف پیغمبری سے خارج ہے اور دنیا کی طرف مائل ہونے کے لیے حسّ شہوت اور غضب، اور ظاہری اور باطنی شیطان کافی ہے اور انبیاء کی جانب سے دنیا کی طرف رجحان کو اُبھارنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ شہوت اور غضب کو پیدا کرنے کے لیے قرآن اور نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء اس لیے مبعوث ہوئے ہیں تاکہ لوگوں کو دنیا کی طرف جانے سے روکیں اور شہوت و غصّہ کی آزادی اور چھوٹ کو محدود اور مقیّد کریں اور لوگوں کو انکی شہوانی اور غضبانی قوت کی سرکشی اور بغاوت سےروکنے کی طرف دعوت دیں۔ انبیاء بعض چیزوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کے استعمال کو محدود کرتے ہیں اور غافل انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حضرات لوگوں کو دنیا کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ بے راہ روی کے راستوں کو بند کرتے ہیں وہ سرکشی اور بغاوت کی حیوانی خصلت کو قابو کرتے ہیں نہ یہ کہ ان برائیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ شریعت کی طرف دعوت کی روح اور حقیقت، مباح اور حلال چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروبار اور آمدنی کو معیّن کرنا ہے اور سرکش نفسانی رجحانات کو روکنا ہے مثلاً کھانا اس چیز کو ،جو مباح ہے اور اس چیز (حرام غذا) کو کھانے سے روکنا جس کی طرف انسانی نفس مائل ہورہا ہے، یا نکاح کرنا شرائط و ضوابط کے ساتھ۔ ہاں انبیاء مطلقاً اور پوری طرح سےان کاموں یا امور کےمخالف اور منکر نہیں ہیں کیوں کہ یہ کائنات کے نظام کامل کی مخالفت اور اس سے مقابلہ ہے۔(آداب معنوی نماز،صفحہ97)۔ ایسے علماء جو اسلام کو دین و دنیا دونوں کا مکتب جانتے ہیں، ذکر کی گئی فکر کو منتہی بہ رہبانیت اور بے حرکتی جانتے ہیں، دنیاوی زندگی میں جمود اور جدید ٹیکنولوجی اور تہذیب سے مسلمانوں کی دقیانوسیّت اور پیچھے رہ جانا جانتے ہیں۔خاص طور پر شرعی احکام اور اسلامی مفاہیم میں ایسی چیزیں ملتی ہیں جو انسان کو دین اور دنیا (دنیا و آخرت) دونوں کی طرف بلاتی ہیں، آپ کی نظر اس مسئلہ سے متعلق کیا ہے؟
     Answer :
    جواب: صحیح نظر ایک تیسری نظر ہے، میری کوشش ہوگی کہ اس مسئلہ سے متعلق اجمالی طور پر اخبار اور روایات کی روشنی میں ان دو نظریات کی درمیانی راہ بیان کروں۔ ایسی روایات جو زراعت اور کاشتکاری، حیوانات کی پرورش اور تجارت کی طرف ترغیب دلاتی ہیں اور وہ روایات جو نکاح کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور اسی طرح معصوم علیہ السلام کا فرمان کہ: ‘‘ جو آخرت کو دنیا کے لیے اور دنیا کو آخرت کے لیے ترک کرتا ہے، ہم میں سے نہیں ہے’’۔ اور اسی طرح ‘‘ اپنی دنیا کے لیے اس طرح کام کرو کہ جیسے دنیا میں ہمیشہ رہو گے اور اپنی آخرت کے لیے ایسے کام کرو جیسے کل تم مرجاؤ گے’’ اور شیخ صدوق علیہ الرحمۃ نے حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے روایت بیان کی ہے ‘‘ ہر آن خداوندعالم زیادہ سونے والے، بے کار،بے نظم اور باطل پسند بندے کو دشمن رکھتا ہے’’ اور روایت عبدالاعلیٰ ‘‘ خدا سے دنیا میں عافیت اور بے نیازی، اور آخرت میں بخشش اور جنّت طلب کرو’’(وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ19،حدیث2،باب7مقدمات تجارت)۔ احمدبن محمد بن ابی نصرکے صحیفہ میں آیا ہےکہ:کوفہ میں میرے حالات زندگی مجھ پر تنگ اور بحرانی ہوگئے تو طلب معاش کے لیے بغداد کا ارادہ کیا، اس پہاڑ جیسے اقدام نے رزق و روزی کے دروازے لوگوں کے لیے کھولے۔پس امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘ اگر شہر سے نکلنے کا ارادہ کیا ہے تو نکل جاؤ، کیوں کہ اس سال کوفہ میں قحط ہےاور لوگوں کے لیے طلب معاش کے لیے شہر سے باہر نکلنے کے علاوہ چارہ نہیں ہے، لہٰذا طلب رزق کو ترک نہ کرو’’۔ اور سکونی کی معتبر روایت‘‘ مال و ثروت اور سرمایہ (بے نیازی) پرہیز گاری کے لیے بہترین مدد ہے’’۔ عمر بن یزید کی امام صادق علیہ السلام سے روایت کہ :‘‘ یقیناً میں ایسی حاجت کو طلب کرنے کے لیے جسے میرا خدا پورا فرمائے ، سواروں کی طرح تیزی سے آگے بڑھتا ہوں اور میں آگے نہیں بڑھتا سوائے اس کے، کہ میں خدا کی بارگاہ میں یہ عرض کروں کہ وہ مجھے حلال رزق کو طلب کرتے دیکھے، کیا تم نے خدائے عزّوجلّ کے اس فرمان کو نہیں سناکہ: (فاِذا قضَیتَ الصَّلاۃَ فانتشروا في الأرضِ وابتغُو مِن فضلِ اللہ) سورۃ جمعہ/10،ترجمہ‘‘ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو (اپنے کاموں کی طرف) زمین میں بکھر جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو’’۔ اور روایت حسنہ جو خالد نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ: ‘‘ جب تم لوگ صبح سویرے نماز سے فارغ ہوجاؤ تو فوراً رزق و روزی کی تلاش میں نکلو اور خدا سے رزق حلال طلب کرو، تاکہ وہ بھی جلدہی تمہیں تمہارا رزق دےاور حلال رزق کی تلاش میں تمہاری مدد فرمائے’’۔ اور اس روایت کا ظاہر حلال رزق طلب کرنے کا حکم ہے اور صرف حرام سے باز رہنے کی نہی، نہیں ہے۔ اسی طرح سے دیگر روایات بھی ہیں جو فقہ کے مختلف ابواب میں ذکر ہوئی ہیں، خاص طور پر ابواب نکاح و طلاق میں ، کہ جن میں ان دونوں چیزوں کا حکم اور ان کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے۔ لیکن تیسری نظر یہ ہے کہ: اسلام انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کی طرف دعوت دیتا ہے، لیکن دنیا کو ہدف اور مقصد نہیں جانتا بلکہ آخرت کے لیے مقدمہ کے عنوان سے پہچانتا ہے۔ درجِ ذیل روایت اس بات پر گواہ ہے: ‘‘دنیا آخرت کے لیے پُل(گذرگاہ) ہے’’، ‘‘ دنیا آخرت کی کھیتی ہے’’ اور ابن ابی یعفور کی صحیح روایت کہ جس میں ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ : خدا کی قسم ہم دنیا کے پیچھے دوڑرہے ہیں، ہمیں یہ پسند ہے کہ اسے حاصل کرلیں۔امام علیہ السلام نے فرمایا: تم دنیا حاصل کرکے کیا کرنا چاہتے ہو؟، عرض کیا: اپنے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ نیکی کروں، صلہ رحم کروں،صدقہ دوں اور حج و عمرہ بجالاؤں۔اس مقام پر امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ‘‘یہ سب طلب دنیا نہیں ہیں بلکہ یہ طلب آخرت ہے’’۔(وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ19، حدیث3،باب مقدمات تجارت)۔ ایسے شواہد بھی پائے جاتے ہیں جو دنیا کو آخرت کے مقدمے کے عنوان سے نہیں بلکہ خود دنیا کو ہی نیک شمار کرتے ہیں: ( ھو أنشأکُم مِن الأرض ِو استعمرکم فیھا) ھود/61۔ ترجمہ: اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں آباد کیا۔ اور امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ: ‘‘جو بھی اپنے مال کے لیے اپنی جان دے بیٹھے، وہ شہید ہے’’۔(وسائل الشیعہ،جلد11،صفحہ93،روایت14،باب46)۔ فضیل اعور کی روایت: میں معاذ بن کثیر کے ساتھ تھا کہ اس نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: اب، جبکہ میری زندگی کی حالت بہتر ہوگئی ہے، کیا میں تجارت کو ترک کردوں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری کم عقلی یا اسی جیسی کوئی چیز ہوگی۔ (وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ6، حدیث3،باب مقدمات تجارت)۔ ہشام ابن احمر کی روایت: حضرت ابوالحسن علیہ السلام نے مصادف سے فرمایا: ‘‘ دن کے آغاز میں، اپنی عزّت اور سربلندی یعنی (تجارت کے لیے) بازار کی طرف جاؤ’’ (وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ4، حدیث10،بابِ اوّل مقدمات تجارت)۔ فضیل بن یسار کی روایت: میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ تجارت کو ترک کردوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسا کام نہ کرو اور اپنے گھر کے دروازے کو کھولو اور اپنی بساط کو بچھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے روزی طلب کرو’’(وسائل الشیعہ،جلد2،صفحہ8، حدیث11،باب 2مقدمات تجارت)۔ علی بن عقبہ کی روایت: امام صادق علیہ السلام نے ایک خدمت گزار سے فرمایا:‘‘ اے خدا کے بندے اپنی عزت کی حفاظت کرو’’۔عرض کیا: میں آپ پر قربان، عزّت کیا چیز ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا:‘‘ کاروبار(تجارت) کے لیے بازار جانا اور اپنے نفس کا احترام کرنا سرفرازی ہے’’۔ اور ایک دوسرے خدمت گزار سے فرمایا:‘‘ کیوں صبح کو اپنی عزّت کی طرف نہیں جاتے؟’’ عرض کیا: میں تشیع جنازہ میں شرکت کے لیے جانا چاہتا ہوں۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:‘‘ پس شام کے وقت کو اپنی عزت کے لیے ترک نہ کرنا’’(وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ5، حدیث13،بابِ اوّل مقدمات تجارت)۔ اسباط بن سالم کی روایت : ایک دن امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ معاذ جو کپڑا فروخت کرنے کا کام کرتا تھا اس سے آپ نے دریافت کیا تو اس نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیاکہ تجارت کو ترک کرچکا ہوں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘ تجارت کو ترک کرنا شیطان کا کام ہے۔ جو بھی تجارت کو ترک کرے اس نے اپنی ایک تہائی عقل کو ہاتھ سے جانے دیا ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے شام سے آنے والے قافلہ سے سامان خریدا اور تجارت کی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع سے اپنا قرض ادا کیا’’ (وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ8، حدیث10،باب 2مقدمات تجارت)۔ اگرچہ اس روایت کا دوسرا حصّہ اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ تجارت دوسرے نیک کاموں کے لیے مقدمہ ہے(جیسے قرض ادا کرنے،نکاح کے اخراجات پورا کرنے اور انفاق وغیرہ) ، لیکن اس روایت کا پہلا حصہ گذشتہ رویات کی طرح سے ہے جو اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ خود تجارت کرنے کا حکم ہوا ہے، اس بنیاد پر تجارت دوسرے پسندیدہ کاموں کے لیے مقدمہ ہونے کے پہلو سے بھی خدا کے احکاًم مںً شامل ہے اور خود تجارت میں بھی مطلوب اور پسندیدہ ہونے کا گوشہ پایا جاتا ہے۔ مثلاً حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت کا اقرار جو خود ہی ایک مطلوبہ امر ہے، اور ساتھ ہی ساتھ عبادات کے قبوًل ہونے کی شرط بھی ہے۔ یا نماز ظہر کی طرح سے ہے جو خود واجب ہے اور نماز عصر کے صحیح ہونے کا مقدمہ بھی ہے( یعنی جب تک نماز ظہر نہ پڑھی جائے نماز عصر پڑھنا بے کار ہے)۔
  • QaID :  
  • 14080  
  • QDate :  
  • 2013-03-04  
  • ADate :  
  • 2013-03-04  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: دعاؤں کے ذریعے سے شفا طلب کرنا۔ سوال: سورۃ قیامت کی 26 ویں اور 27 ویں آیات کی تفسیر کیا ہے؟(کلّا اِذا بلغت التراقی*و قیل من راق) ‘‘ (کیا تم اس دنیا میں ہمیشہ رہو گے ؟) ہرگز نہیں ! جب جان حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا: کون ہے (بچانے والا)معالج؟’’ کیا یہ صحیح ہے کہ بعض روایات میں، بیمار کی شفا کے لیے یا آفت کو ٹالنے کے لیے یا ضرر اور نقصان کو دفع کرنے کے لیے، بعض دعاؤں کا پڑھنا یا انہیں تعویض کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا مستحب شمار کیا گیا ہے؟ جب کہ بعض دوسری روایات میں بیماری کے وقت طبیب سے رابطہ کرنےاور علاج کے لیے طبیعی طریقوں اور دوا لینے کی تاکید ہوئی ہے۔ کس طرح سے ہم ان دونوں قسموں کی روایات کو جمع کرسکتے ہیں؟
     Answer :
    جواب : لفظ راق کے معنیٰ کسی ایسی چیز کے ہیں جو بیمار کو بیماری سے نجات دلائے، چاہے دوا کے ذریعے یا دعا کے ذریعے، لہٰذا دونوں کو اپنے اندر شامل کیے ہوئے ہے۔ جیسا کہ امام باقر علیہ السلام کی حدیث میں بھی نقل ہوا ہے۔(تفسیر برہان، جلد4، صفحہ408)۔ اس بنا پر علاج معالجہ کے لیے طبیب یا ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ، شفا حاصل کرنے کے لیے دعائیں پڑھنے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا۔ کیوں کہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، بیماری کو معیّن کرنا اور اس کا علاج طبیب کا کام ہے اور شفا عطا کرنا اور دوا کو مؤثر بنانا خدا وندمتعال کا کام ہے۔ لہٰذا علاج کے دو مراحل ہیں: پہلا یہ کہ علاج کا مرحلہ طے کیا جائے اور طبیعی اسباب سے فائدہ اُٹھایا جائے اور دوسرا مرحلہ شفا کا ہے جو خدا کا کام ہے، اس طرح کہ خداوند عالم طبیعی عوامل اور موجودات میں بیماری سے علاج کے لیے اثر پیدا کرتا ہے۔اور دعائیں اور اسی جیسی دوسری چیزیں دوسرے مرحلے میں مؤثر ہوتی ہیں، اس طریقے سے کہ انسان دعا کرتا ہے اور اللہ شفا کو اس دوا میں قرار دے دیتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ خدا، بعض اوقات دعاؤں اور اسی طرح دوسری چیزوں کو شفا کے لیے عامل قرار دے، جیسا کہ اثر کو دوا میں قرار دیتا ہے دعا میں بھی اثر پیدا کردے، لیکن ایسا ہمیشہ اور استقلالی طور پر عطا نہیں ہوتا۔ لیکن مجموعی طور پر مختلف امور اور کاموں کے واقع ہونے سے متعلق خدا کا ارادہ یہ ہے کہ یہ عام طریقوں سے اور عوامل اور اسباب کے ذریعے سے انجام پائیں۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوگئے تو انہوں نے کہا: ‘‘ جس نے مجھے بیماری میں مبتلا کیا ہے وہی مجھے شفا بھی دے گا’’ اور وہ طبیب کے پاس نہیں گئے۔ ان پر وحی نازل ہوئی: ‘‘ اے موسیٰ! کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے توکّل کے ذریعے میری حکمت کو باطل کردو؟ پس وہ کون ہے کہ جس نے مختلف اشیاء میں، دواؤں کی حقیقت اور اس کے اثر کو قرار دیا ہے؟۔’’
  • QaID :  
  • 14077  
  • QDate :  
  • 2013-03-03  
  • ADate :  
  • 2013-03-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: فقہاء عقائد کے امین بھی ہیں۔ سوال: کیا جامع الشرائط عادل فقہاء جو فتوےاور تقلید کے لیے فقہ آل محمد علیہم السلام کے امانت دار ہیں، عقائد کے بھی امین ہیں؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ان میں سے بعض کے بارے میں کہا جائے(العیاذباللہ) کہ یہ حضرات لوگوں کی حمایت اور ان کی طرفداری ختم ہونے کے خوف سے، لوگوں کی مرضی یا ان کے تمایلات کا خیال رکھتے ہوئے اظہار نظر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات لوگوں کو راضی کرنے کے لیے خرافات کی بھی تائید کردیتے ہیں؟
     Answer :
    جواب: بے شک، فقہاء لوگوں کے عقائد کے بھی امین ہیں۔ لوگوں کی مرضی کا خیال رکھنا اگر ان فقہاء کی شرعی ذمہ داریوں کے خلاف ہوتو ان کے جامع الشرائط مجتہد ہونے سے تضاد رکھتا ہے۔ اور جب تک یہ حضرات عادل ہیں اس وقت تک یہ فرض ہی نہیں کیا جاسکتا کہ لوگوں کی مرضی کا خیال رکھتے ہوئے اپنی شرعی ذمہ داری کے خلاف عمل کریں گے، کیوں کہ ان کی عدالت انہیں اس کام سے روکتی ہے۔جب فرض یہ کیا گیا ہے کہ جامع الشرائط فقہاء کے فتوے دینا اس معنیٰ میں ہے کہ وہ حضرات اس بات پر محتاط ہیں کہ حتیٰ ان کا ضمیر لاشعوری میں بھی نفسانی خواہشات میں مبتلا نہ ہو اور نتیجے میں لوگ گناہ کے مرتکب نہ ہوں، تو اس بات کا امکان باقی نہیں رہتا۔ جیسا کہ پہلے زمانے کے ایک عالم نے ایسے کنوئیں کے پانی کے بارے میں حکم شرعی کو استنباط کرتے وقت کہ جس میں مردہ حیوان گرگیا تھا، پہلے اپنے گھر کے کنوئیں کو بھرا اور پھر حکم شرعی کو جاننے کے لیے استنباط کا عمل انجام دیا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے گھر کے کنوئیں کو بچانے کے خاطر لا شعوری طور پر انہیں، ایسے کنوئیں کے پانی کی پاکیزگی کے حکم کی طرف لے جائے۔
  • QaID :  
  • 15950  
  • QDate :  
  • 2014-03-20  
  • ADate :  
  • 2014-07-13  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2019  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال : عید نوروز کس حد تک ایک اسلامی عید ہے ؟ اور اس ضمن میں وارد نصوص کی صحت کس حد تک صحیح ہیں ؟ پس اگر یہ صحیح نہیں ہیں تو کیا جائز ہے مسلم اس کو منائیں اور عید کی ماند منائیں ؟
     Answer :
    جواب: اسلامی عیدیں عیدالفطر اور عید الاضحی ہیں۔ عید نوروز کو اسلامی عید جانتے ہوے منانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن اس روز خوشی منانے میں کویی حرج نہیں ہے۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011