پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Friday 10 July 2020 - الجمعة 17 ذو القعدة 1441 - جمعه 20 4 1399
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 11178  
  • QDate :  
  • 2012-03-11  
  • ADate :  
  • 2012-03-12  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ کیا انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے علاوہ بھی بعض افراد مثلا ً حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیھا اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام معصوم ہیں؟اور کیا عصمت میں درجات اور مراتب پائے جاتے ہیں؟
     Answer :
    جواب۔ عصمت لغوی معنی ٰ کے لحاظ سے مراتب اور درجات رکھتی ہے اور معصومین سے مختص نہیں ہے۔ کیونکہ عصمت نفس کی پسندیدہ حالت ہے(ملکہ ہے)جو قوی اور ضعیف ہوسکتی ہے ۔لیکن شیعہ مذہب کے نذدیک عصمت کے خاص اصطلاحی معنی ٰ ارتکاب گناہ کی ممنوعیت کے ہیں (ہرگز گناہ کا مرتکب نہ ہونا) تمام انبیاء اور اوصیاء سےمختص ہے ۔اور عصمت اپنے اخص معنی ٰ میں چہاردہ معصوم یعنی پیغمبر اسلامﷺ ، حضرت زہرا ؑ اور بارہ اماموں (صلوات اللہ علیہ اجمعین) کی ذوات میں منحصر ہے۔(مزید تفصیلات کے لیے اعتقادی اور کلامی کتابوں کا مطالعہ کریں)۔
  • QaID :  
  • 11164  
  • QDate :  
  • 2012-03-10  
  • ADate :  
  • 2012-03-11  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ کیا وہ رسّیاں جو جادو گروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پھینکی تھیں حقیقت میں سانپوں میں تبدیل ہوگئی تھیں یا وہ لوگ وہم کا شکار ہوگئے تھے اور انہوں نے سانپ دیکھے؟اور کیا اس قسم کا وہم انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے لیے پیش آسکتا ہے؟ قصۂ النفاثات فی العقد ، جادوگر عورتیں جو گراہوں پر پھونکتی ہیں، کیا ہے؟
     Answer :
    جواب۔وہ رسّیاں سانپوں میں تبدیل نہیں ہوئیں بلکہ ان لوگوں نے یہ گمان کیا کہ رسیوں میں حرکت پیدا ہوگئی ہے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر۶۶ میں آیا ہے کہ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى‌ ان کے جادو کے اثر سے ایسا لگا جیسے رسیوں میں حرکت پیدا ہوگئ ہے۔ البتہ ایسا وہم اور گمان انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے لیے پیش نہیں آتا۔ہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک لمحہ کے لیے ڈر گئے تھےاگرچہ ان کو معلوم تھا کہ وہ حقیقی سانپ نہیں ہیں ۔لیکن وہ لوگوں کی گمراہی کے خوف سے ڈرگئے تھے، جادوگروں کی رسیوں سے نہیں۔ نفاثات سے متعلق عقلی مانع وجود نہیں رکھتا کہ ظاہر آیت کو لیں اور کہیں کہ گراہوں میں پھونکنے کے ذریعہ سے جادو کا ہوناممکن ہے ۔جیسا کہ روایت ہے کہ رسول ِ خداﷺ نے حضرت علیؑ کو بھیجا کہ کنویں میں لگائی گئی گراہوں کو کھولیں اور ان کے جادو کو باطل کردیں ۔ حق یہ ہے کہ جو چیز مانع عقلی رکھتی ہے وہ پیغمبر ﷺ کی عقل پر جادو کا اثر ہے یا اس چیز پر اثر ہے جو کرامت ِپیغمرﷺ یا کرامت ِ وحی سے تعلق رکھتی ہے یا وہ اثر جو رسالت کی تبلیغ میں رکاوٹ پیدا کرے۔
  • QaID :  
  • 11149  
  • QDate :  
  • 2012-03-08  
  • ADate :  
  • 2012-03-10  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ حضرت امام علی علیہ السلا م کے بارے میں روایات ِ رد شمس کی سند، دلالت اور دیگر جوانب سے صحت کے بارے میں حضرت ِعالی کی نظر کیا ہے؟
     Answer :
    جواب: کتاب الغدیر کی جلد نمبر ۵ صفحہ نمبر۳۷،نیا ایڈیشن،ناشر مرکز غدیر، کا مطالعہ کیجیئےاور شیعہ اور سنی روایات کو دیکھیں۔ یہ روایات دلالت کے لحاظ سے روشن ہیں۔ابن ابی الحدید (نہج البلاغہ کا مشہور شارح،جو خود معتزلی ہے ) کہتا ہے: یا من لہ ردّت ذکاء و لم یفز بنظیرہ من قبل الّا یوشع اے وہ کہ سورج تیرے لیے آسمان کی طرف پلٹا (غروب ہوجانے کے بعد)، ایک ایسا معجزہ جو گذشتہ امّتوں کے درمیان، صرف یوشع بن نون کے لیے رونما ہوا۔
  • QaID :  
  • 11132  
  • QDate :  
  • 2012-03-07  
  • ADate :  
  • 2012-03-08  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال ۔ کیا یہودیوں کے کنیسا میں جانا یا مسیحیوں کی مذھبی رسومات میں شریک ہونا جائز ہے ؟ اس چیز کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ جو بھی ان کے عقائد میں سے وہاں بیان کیا جارہا ہے ہم اسکے قائل نہیں ہیں اور اس جگہ کو عبادت کی جگہ بھی نہ جانیں ۔
     Answer :
    جواب : یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تین شرائط کے ساتھ جانا جائز ہے : ۱ ۔ انکے مذہب کی تقویّت کا سبب نہ بنے ۔ ۲ ۔ انکے شعائر دینی اور مذھبی رسومات میں شریک نہ ہوں ۔ ۳ ۔ وہاں حرام کام کے مرتکب نہ ہوں ۔
  • QaID :  
  • 11122  
  • QDate :  
  • 2012-03-06  
  • ADate :  
  • 2012-03-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال: بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ : تورات اور انجیل میں تحریف لفظی نہیں ہوئی ہے بلکہ تحریف معنوی ہوئی ہے ، آپ کی نظر مبارک اس بارے میں کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب : اگر مراد یہ ہے کہ لفظ اور کتاب اپنے معنیٰ کے ساتھ ہیں یعنی الفاظ کے معنیٰ ظاہر اور روشن ہیں اور تحریف صرف تفسیر اور تأویل میں واقع ہوئی ہے تو یہ قول شدّت کے ساتھ باطل ہے کیونکہ آج کے زمانے میں موجود تورات اور انجیل میں بہت سے فاسد عقائد ، منحرف تاریخ اور عقل و شرع کے خلاف احکام ، پائے جاتے ہیں ۔
  • QaID :  
  • 11121  
  • QDate :  
  • 2012-03-06  
  • ADate :  
  • 2012-03-06  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال: بعض دانشمند حضرات ، تثلیث کے عقیدہ (باپ ، بیٹا اور روح القدس ) کو شرک فلسفی جانتے ہیں اور شرک عملی نہیں جانتے۔ کیا یہ قول قرآن کے سورۃ المائدہ کی ۷۲ ویں اور ۷۳ ویں آیات کی واضح مخالفت نہیں کرتا ؟ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَ قَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَ رَبَّکُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِکْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَأْوَاهُ النَّارُ وَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ۰ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلاَثَةٍ وَ مَا مِنْ إِلٰهٍ إِلاَّ إِلٰهٌ وَاحِدٌ وَ إِنْ لَمْ يَنْتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ کَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ‌ ﴿المائدة، ۷۲ ،73﴾ ( وہ لوگ جو عیسیٰ ابن مریم کی خدائی کے قائل ہیں یقیناً کافر ہیں ۔ جبکہ حضرت عیسیٰ مسیح نے خود بنی اسرائیل سے ارشاد فرمایا : اُس خدا کی عبادت کرو جسنے مجھے اور تم لوگوں کو خلق فرمایا اور جسنے بھی اس سے شرک کیا ، وہ جنّت کو اس پر حرام کر دیتا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنّم کی آگ ہے اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا ، یقیناً جو بھی تین خداؤں کا قائل ہوا ، وہ کافر ہو گیا حالانکہ خدای واحد کے علاوہ کوئی خدا نہیں ، اور اگر اس بات سے تم نے اپنی زبانوں کو نہ روکا تو یقیناً مشرکوں اور کافروں کو درد ناک عذاب آ پہنچے گا ) ۔
     Answer :
    جواب : بعض آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نصاریٰ مشرک ہیں اور بعض مسیحی افرد حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی خدائی پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔ لیکن آج کے زمانے کے مسیحی افراد اس بات کے دعوے دار ہیں کہ وہ چند خداؤں کے قائل نہیں ہیں ۔ مسیحی قوم سے متعلق آیات میں ان پر شرک کا اطلاق یا مجازاً ہے یا کفر میں مبالغہ کی وجہ سے ہے ، یا اس تلازم کی وجہ سے ہے جو اُن کے اعتقاد اور شرک کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ ( اگرچہ اس تلازم پر کوئی توجیہ بھی نہیں رکھتے ہوں ) ، یا پھر اس شرک سے مراد بعض مسیحی افراد کا شرک ہے ، اور یا پھر شرک سے مراد عبودیّت اور بندگی میں شرک ہے خالقیّت میں نہیں اور یہ شرک مختلف اقسام اور درجات کا ہے ۔ اس بات پر کہ عیسائی ، اصطلاحی معنیٰ میں مشرک نہیں ہیں ، دلیل یہ ہے کہ : ۱ ۔ بعض آیات میں وہ لوگ مشرکین کے مقابلے میں قرار دیے گئے ہیں اور مشرکین میں سے شمار نہیں ہوئے ہیں۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ الَّذِينَ هَادُوا وَ الصَّابِئِينَ وَ النَّصَارَى وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذِينَ أَشْرَکُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ﴿الحج‏، 17﴾ بےشک جو لوگ ایمان لائے ، اور جنھوں نے یہودیت اختیار کی یا ستارہ پرست ہوگئے یا نصرانی اور آتش پرست ہوگئے یا مشرک ہوگئے ہیں ، خدا قیامت کے دن اُن سب کے درمیان یقینی فیصلہ کردے گا ۔ لَمْ يَکُنِ الَّذِينَ کَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ وَ الْمُشْرِکِينَ مُنْفَکِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ﴿البينة، 1﴾ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفار اپنے کفر سے الگ ہونے والے نہیں تھے جب تک کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آجاتی ۔ مَا يَوَدُّ الَّذِينَ کَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ وَ لاَ الْمُشْرِکِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْکُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّکُمْ ﴿البقرة، 105﴾ اھل کتاب یہود و نصاریٰ میں سے کافر اور عام مشرکین یہ نہیں چاہتے کہ تمھارے اوپر پروردگار کی طرف سے کوئی خیر نازل ہو ۔ ۲ ۔ وہ لوگ تصریح کے ساتھ کہتے ہیں کہ اقانیم ثلاثہ (باپ ، بیٹا اور روح القدس ) ذات یکتائ حق کی طرف رمزدار اشارہ ہے مثلاً کہا جائے کہ زید فلاں شخص کا باپ اور فلاں شخص کا بھائی ہے ، جو کہ ایک شخص کی طرف اشارہ ہے ۔ البتہ یہ اعتراض اُن پر وارد ہوتا ہے اقانیم ثلاثہ میں بیٹا غیر باپ ہے ۔ یہ مسئلہ مختلف اقوال اور تفصیلات کا حامل ہے جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہین ہے ۔ مزید معلومات کے لیے تفسیر المیزان کی جلد نمبر ۶ ، صفحہ نمبر ۷۰ ، المستمسک جلد ۱ ، صفحہ ۳۶۹ ،بحث طھارت اہل کتاب ، تفسیر مجمع البیان ، جلد ۲ ، صفحہ ۲۲۸ ، ۷۲ ویں اور ۷۳ ویں آیات کے ذیل میں ، مصباح الفقیہ کے صفحہ ۵۵۸ کی بحث طہارت ، کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔
  • QaID :  
  • 11108  
  • QDate :  
  • 2012-03-05  
  • ADate :  
  • 2012-03-05  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال: ایک شخص حضرت عیسیٰ کے بچپنے میں نبوت کا منکر ہے اور کہتا ہے کہ : جو کلام حضرت عیسیٰ نے جھولے میں لوگوں سے کیا وہ اُن کی زندگی کے آنے والے دنوں سے متعلق تھا کہ خداوندعالم نے ارادہ فرمایا ہے کہ انہیں آئندہ زمانے میں ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور خاص عہدے پر فائز کیا جائے گا اور یہ چیزسبب نہیں بنتی کہ وہ خدا کی بندگی کے دائرے سے باہر نکل جائیں ۔ وہ جو کہ خود اپنے فائدے اور نقصان پر اختیار نہیں رکھتا اور خداوندعالم کی اجازت کے بغیر کوئی بھی غیر معمولی کام انجام نہیں دے سکتا ، صرف اور صرف آئندہ رونما ہونے والے حالات و واقعات کی خبر دینا ، اُس سے متعلق غلو کی راہ ہموار اور اسے انسانوں سے بالاتر جاننے کے راستے کو فراہم نہیں کرتا ۔ یہاں پر اُس شخص کے بارے میں جو کافی حد تک علم نہیں رکھتا اور تفسیر بالرأی کرتا ہے یا قرآن کے بارے میں نظر دیتا ہے اس طرح کہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کے راستے سے دور ہوجائے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ حضرت عیسیٰ کے بچپنے کی نبوت کا انکار کرنا ، حضرت امام جواد اور حضرت امام مہدی علیہما السلام کے بچپنے کی امامت کے انکار کا سبب بنے ، ایسے شخص کے بارے میں اپنی نظر بیان فرمائیے ؟
     Answer :
    جواب : قرآن کریم کی آیت : قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْکِتَابَ وَ جَعَلَنِي نَبِيّاً ﴿مريم‏، 30﴾ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے کتاب عطا ہوئی اور نبی قرار دیا گیا ہے۔ کے ظاہر سے ، اور وہ روایات جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھولے میں بھی پیغمبر (نبی ) تھے ، اور بعد میں رسول قرار پائے ہیں ۔ آیت ماضی کی حکایت کررہی ہے مستقبل کی نہیں ۔ مرحوم کلینی نے کتاب کافی میں برید کناسی سے استناد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ : میں نے امام باقر علیہ السلام سے پوچھا : کیا حضرت عیسیٰ نے جب گھوارے میں لوگوں سے کلام کیا ، اُس وقت اپنے زمانے کے لوگوں پر اللہ کی حجت تھے ؟ آپ نے فرمایا : اُس وقت پیغمبر اور اللہ کی حجت تھے لیکن رسول نہیں تھے، کیا تم نے اُنکا یہ کلام نہیں سنا کہ : إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْکِتَابَ ۔ اور اسی طریقے سے حضرت یحیحیٰ کی پیغمبری کا مسئلہ بھی جو صراحتاً قرآن کی آیت : يَا يَحْيَى خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّةٍ وَ آتَيْنَاهُ الْحُکْمَ صَبِيّاً ﴿مريم‏، 12﴾ اے یحیحیٰ ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑلو اور ہم نے انہیں بچپنے ہی میں نبوت عطا کردی ۔ میں آیا ، حضرت عیسیٰ کی نبوت کی طرح ہے ۔ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جو حضرت امام جواد علیہ السلام کے بچپنے میں امامت کے بعید ہونے کو ردّ کرتی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بچپنے کی نبوت کو اس پر شاہد قرار دیتی ہیں ، البتہ حضرت عیسیٰ کے بچپنے کی نبوت کا انکار حضرت امام جواد کے بچپنے کی امامت کے انکار کا مستلزم نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آئمہ طاہرین علیہم السلام ، انبیاء سے برتر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عنایات ان حضرات پر بہت زیادہ اور بہت عظیم ہیں اور بعض ایسے فضائل اور مقامات جو غیر آئمہ کے لیے محال ہیں ، ان حضرات کے لیے ممکن ہیں ۔
  • QaID :  
  • 11089  
  • QDate :  
  • 2012-03-04  
  • ADate :  
  • 2012-03-04  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال: کیا یہ ممکن ہے کہ آیہ عَبَسَ وَ تَوَلَّى‌ ﴿عبس‏، 1﴾ (اس نے منھ بسور لیا پیٹھ کرلی ) کو پیغمبر اسلامﷺ کے بارے میں جانیں ؟ جس وقت عبداللہ ابن مکتوم آپ کے پاس آئے ۔
     Answer :
    جواب : شیعہ روایات میں اس آیت کا شان نزول کچھ اس طرح سے ہے ؛ جب عبداللہ ابن مکتوم ایک مال دار شخص (ہم جس کا نام نہیں لے رہے ہیں ) کے برابر میں آکر بیٹھے تو اس نے منھ بنایا اور بخل کی وجہ سے عبدللہ ابن مکتوم کی طرف پیٹھ کرلی ، اس وقت یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ بات بھی واضح ہے کہ رسول خدا ﷺ ، آپ کا کریمانہ اخلاق اور آپ کا بلند مرتبہ ، تصوّر کی حدوں سے بالاتر ہے ، اور ممکن نہیں ہے کہ ایسی آیت ، آپ کے بارے میں نازل ہوئی ہو ۔ وہ تو اپنی مرضی سے بات بھی نہیں کرتے اور کوئی کام بھی انجام نہیں دیتے اور اُن کی شان یہ ہے کہ خداوند عالم نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : وَ إِنَّکَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ‌ ﴿القلم‏، 4﴾ اور بے شک آپ خلق عظیم پر فائز ہیں ۔ اور فرمایا : فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ ﴿آل‏عمران‏، 159﴾ پیغمبر ﷺ! یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ آپ ان لوگوں کے لیے نرم ہیں ورنہ اگر آپ سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑےہوتے۔
  • QaID :  
  • 11083  
  • QDate :  
  • 2012-03-03  
  • ADate :  
  • 2012-03-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال : تحریف قرآن کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
     Answer :
    جواب : تحریف قرآن سے متعلق قول باطل ہے ۔ جو قرآن مسلمانوں کے پاس موجود ہے دچار تحریف (جیسا کہ کہا گیا ہے ) نہیں ہوا ہے اور یہی قرآن حضرت رسول اکرم ﷺپر نازل ہوا ہے آئمہ اطہار نے بہی اسی سے رجوع کرنے کا فرمایا ہے اور اسی قرآن سے اسلامی تعلیمات اور احکام کو حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اسی لیے قدیم اور عصر حاضر کے علماء نے بھی آئمہ اطھار کی پیروی کرتے ہوئے ، عدم تحریف پر اجماع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ‌ ﴿الحجر، 9﴾ ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
  • QaID :  
  • 11071  
  • QDate :  
  • 2012-03-01  
  • ADate :  
  • 2012-03-01  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال: کسی سے پوچھا گیا کہ عرش الٰھی کس جگہ واقع ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : چونکہ ہم آسمان کی مادّی حدود اور جغرافیا سے واقف نہیں ہیں لہٰذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ آسمان میں واقع عرش الٰھی کو جان سکیں ، شبیہی مقامات میں سے بلند ترین مقام عرش کا ہے۔ یہاں پر ہمارا سوال یہ ہے کہ شیعہ مذھب کے نقطہ نظر کے مطابق عرش کیا چیز ہے اور جو شخص اسکو جغرافیای اور مادّی حدود میں محدود جانے اُسکا کیا حکم ہے ؟
     Answer :
    جواب : مختلف امور جیسے عرش ، کرسی ، لوح ، قلم ، ظاہری اور مادّی امور ( وہ چیزیں جو حواس خمسہ کے ذریعہ محسوس کی جاسکیں ) میںسے نہیں ہیں بلکہ خداوند عالم کی قدرت ، حاکمیت ، سلطنت کاملہ ، علم نافذ اور تدبیر کامل کے لیے علامت اور نشانی کی حیثیت رکھتے ہیں ، عرش الٰھی کے بارے میں مختلف روایات بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں ٘ انہی روایات میں سے ایک شیخ صدوقؒ کی کتاب توحید میں سلمان سے نقل ہوئی ہے ، حضرت علی علیہ السلام نے جاثلیق کے سوال کے جواب میں فرمایا : فرشتے عرش کو اُٹھائے ہوے ہیں، عرش جیسا کہ تم گمان کرتے ہو تخت جیسا نہیں ہے بلکہ محدود شئی ، مخلوق اور تدبیر کی ہوئی چیز ہے اور تمھارا پروردگار اس کے اوپر بیٹھا ہوا نہیں ہے جیسے ایک چیز دوسری چیز کے اوپر رکھی ھو ، بلکہ خداعرش کا مالک ہے ۔ کتاب توحید میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے استناد کرتے ہوئے آیا ہے کہ آیۃ ( وَ کَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ) ﴿هود، 7﴾ اور خدا کا عرش پانی پر تھا ۔ کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو امام نے فرمایا : لوگ کیا کہتے ہیں ؟ عرض کیا گیا : بیشک عرش پانی پر اور خداوندعالم اس عرش کے اوپر تھا ، امام نے فرمایا : جس نے بھی ایسا سوچا اُس نے جھوٹ کہا ہے ، خدا کو اُٹھائے جانے کے قابل اور مخلوقات کی صفات سے متّصف کیا ہے ، اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو چیز خدا کو اُٹھائے ہوئے ہے وہ خدا سے زیادہ قدرتمند ہو ، فرمایا : خداوندعالم نے اپنے دین اور علم کو پانی پر قرار دیا ،اس سے پہلے کہ آسمان و زمین ، جن و انس اور سورج و چاند وجود میں آتے ۔ عرش الٰہی سے مراد علم الٰہی اور پانی سے مراد اصل خلقت ہے اور عرش الٰہی سے متعلق یہ بات (علم فعلی) اس سے متعلق تفصیل ظاہر ہونے سے پہلے کی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کہا جائے ، یہ چیزیں قابل مشاہدہ ہیں اور اُن عظیم مخلوقات اور موجودات کی طرف اشارہ ہیں کہ جن کی عظمت قابل تصوّر نہیں ہے اور یہ بات خود خالق کی عظمت اور جلالت پر دلالت کررہی ہے ٘ جیسا کہ زینب عطارہ کی طویل روایت سے سمجھ میں آتا ہے (یہ ساتوں آسمان اور چھپا ہوا سمندر اور سرد پہاڑ اور ہوا اور نور کے پردے ، کرسی کے مقابلے میں ، وسیع و عریض بیابان میں ایک انگوٹھی کی طرح ہیں ) اور پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی : وَسِعَ کُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ وَ لاَ يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ‌ ﴿البقرة، 255﴾ اور اللہ کی کرسی آسمانوں اور زمین پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کی حفاظت اس کے لئے سخت نہیں ہے اور وہ اعلیٰ اور عظیم ہے ۔ اور یہ ساتوں آسمان اور چھپا ہوا سمندر اور سرد پہاڑ اور ہوا اور نور کے پردے ، کرسی کے مقابلے میں ، وسیع و عریض بیابان میں ایک انگوٹھی کی طرح ہیں ۔ اور پھر اس آیت کی تلاوت کی : الرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى‌ ﴿طه‏، 5﴾خداوند رحمان عرش پر محکم اور استوار ہے ۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011