پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Friday 10 July 2020 - الجمعة 17 ذو القعدة 1441 - جمعه 20 4 1399
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 11300  
  • QDate :  
  • 2012-03-25  
  • ADate :  
  • 2012-03-25  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ایک شخص سورۂ اعراف کی آیت نمبر ۱۵۹وَ مِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَ بِهِ يَعْدِلُونَ‌۔ اور موسیٰ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور معاملات میں حق و انصاف کے ساتھ کام کرتی ہے ، کی اس طرح تفسیر کرتا ہے کہ یہ سمجھ میں آتا ہے ، اسکی تفسیر یہ ہےکہ : ایک شخص علامہ طباطبائی کی نظر کو بیان کرنے کے بعد کہ حق کی طرف ہدایت اور حق اور عدالت کے ساتھ کام کرنا انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے علاوہ ممکن نہیں ہے ، وہ شخص کہتا ہے کہ : انبیاء اور آئمہ کی اس طرح توصیف کرنا کہ حق کے ساتھ ہدایت کرنا اور معاملات میں حق و انصاف کے ساتھ کام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے تمام اقوال اور اعمال میں معصوم ہیں اور کسی قسم کی خطا ان سے سرزد نہیں ہوتی ۔بلکہ اس صفت کے صادق آنے کے لیے کافی ہے کہ یہ کہا جائے : حق وہ منہج اور راستہ ہے جسے یہ افراد طے کرتے ہیں اور ایک قاعدہ اور قانون ہے کہ جس کے مطابق ہدایت اور عدالت کے محور کے گرد گھومتے ہیں ۔ آپ کی نظر مبارک اس سلسلے میں اور اس شخص کے بارے میں جو اسے اہل بیت علیہم السلام کی نظر جانتا ہے ، کیا ہے؟
     Answer :
    جواب۔ اس مسئلہ میں ظاہر یہ ہے کہ حق کی ہدایت اور حق کے ساتھ عدالت کا لازمہ ، غلطی اور خطا سے معصوم ہونا ہے کیوں کہ اگر انبیاء اور آئمہ کے لیے خطا کو جائز مان لیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم یہ قبول کرلیں کہ وہ افراد جس چیز کے حق اور صحیح ہونے کا گمان کرتے ہیں ،اسی کی ہدایت کرتے ہیں ، جبکہ یہ ممکن ہے کہ در حقیقت ،حق کی تشخیص میں ، خطا اور غلطی کے مرتکب ہوئے ہوں اور یہ آیت کے ظاہر کے خلاف ہے ۔ تاریخ میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے اور اس کے بعد ، انبیاء اور اوصیاء تھے جو لوگوں کو ان کی شریعت کی طرف دعوت دیتے تھے ، اور یہ ممکن ہے کہ آیت یہ بات بیان کررہی ہو کہ پوری قوم موسیٰ گناہ گار نہیں تھی بلکہ بعض افراد انکی شریعت کے پابند تھے اور لوگوں کو اس حق کی روش کے ذریعہ ہدایت کرتے تھے اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے تھے ،بعض اوقات مفہوم اور مصداق کی تطبیق میں خطا کے مرتکب ہوتے تھے ، اور البتہ یہ مسئلہ تمام انبیاء اور آئمہ سے ، جیسا کہ یہ تفسیر کہہ رہی ہے ، تعلق نہیں رکھتا۔
  • QaID :  
  • 11292  
  • QDate :  
  • 2012-03-24  
  • ADate :  
  • 2012-03-24  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔معاصرین میں سے بعض علماء دین ،تاریخی لحاظ سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حق کے غصب ہونے کے منکر ہیں ، آپ کی نظر ایسے افراد کے بارے میں کیا ہے ؟ بعض بزرگ مراجع کے فتووں کی طرف توجہ دیتے ہوئے جو ایسی کتابوں کی خرید و فروخت اور ان کے مطالعہ کو گمراہ کنندہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں سمجھتے ، کیا ایسی کتابوں اور تالیفات کا مطالعہ کرنا جائز ہے؟
     Answer :
    جواب ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حقوق کا غصب ہونا ، متواتر روایات اور شیعہ تاریخ کی مسلّمات میں سے ہے ، ایسی ہر کتاب کای خرید و فروخت اور مطالعہ جو شیعہ امامیہ عقائد سے لغزش اور انحراف کا سبب بنے ، جائز نہیں ہے ۔لیکن صرف ان افراد کے لیے جائز ہے جو تحقیق و انتقاد اور ان مسائل کے جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
  • QaID :  
  • 11291  
  • QDate :  
  • 2012-03-24  
  • ADate :  
  • 2012-03-24  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ برائے مہربانی غلو کی تعریف بیان فرمائیے؟
     Answer :
    جواب۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ انبیاء اور بزرگان دین مستقل طور پر اور خداوندعالم کے اذن اور مددکے بغیر ،مخلوقات سے متعلق امور میں تصرّف کرتے ہیں ،غلو ہے مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ افراد خدا کی مصلحت اور ارادہ کے بغیر مردہ کو زندہ کریں یا زندہ کو مار دیں ، یا کسی کے رزق کو کم یا زیادہ کردیں ، یا موجودات کی ماہیت میں تبدیلی پیدا کردیں ، یا کنکریوں کو سونے کے سکوں میں تبدیل کردیں ،یا کسی جانور کو انسان کی زبان میں بات کرنے کی صلاحیت عطا فرمائیں۔
  • QaID :  
  • 11279  
  • QDate :  
  • 2012-03-22  
  • ADate :  
  • 2012-03-22  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ جو شخص یہ کہتا ہے : ہم بہت سی ایسی احادیث جو یہ کہتی ہیں : ان لوگوں نے بی بی کے پہلو کو زخمی کیا اور آپ کو طمانچہ مارا اور اسی جیسے دوسرے مصائب ، کی تائید نہیں کرتے۔ اور ایک شخص کو جواب دے، جو یہ کہتا ہے: ہم کس طرح سے ان کے زخمی پہلو کو نظر انداز کردیں جبکہ عمر نے یہ کہا تھا : اگر فاطمہ گھر میں ہوں تو پھر بھی میں گھر کو آگ لگادوں گا ۔ اور اسی طرح سے حضرت محسن کو نقصان پہچانے کی کس طرح توجیہ کریں ۔اور جواب دے: پہلو کا زخمی ہونا معتبر سند وں کے لحاظ سے ثابت نہیں ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ حادثہ رونما ہوا ہو اور بعض اوقات سقط جنین بھی طبیعی طور پر ہوجاتا ہے۔
     Answer :
    جواب ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی مظلومیت کی حدیث شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اکثر اہل سنّت (عامّہ) نے بھی (رسوائی کے خوف سے) اجمالی طور پر روایت کی ہے ۔ ہم نے گذشتہ سوالات کے جواب میں شیعہ اور سنّی محدثین اور مؤرخین کے اقوال اور روایات ، جو گھر کے دروازہ کو جلانے ،پہلو زخمی کرنے ، طمانچہ مارنے ، حق غصب کرنے اور اسقاط جنین( شہادت حضرت محسن) کے بارے میں تھیں ، بیان کی ہیں ۔ لیکن یہ کہ سقط جنین طبیعی اور نارمل تھا، ضروری ہے کہ ہم یہ کہیں : نہیں ، یہ نتیجہ تھا مارنے کا،پہلو زخمی کرنے کا،دھکہ دینے کا اور دیوار اور دروازہ کے درمیان دبانے کا۔ اور اگر ہم فرض بھی کریں کہ ایسا نہیں ہوا ، تو خود گھر پر حملہ کرنا ، آگ لگانا،خوف اور وحشت پیدا کرنا، یہ سب وہ اسباب اور عوامل ہیں جو سقط جنین کے لیے کافی ہیں ۔ شاید اس شخص کی ، طبیعی حالت سے مراد یہی ہو۔
  • QaID :  
  • 11278  
  • QDate :  
  • 2012-03-22  
  • ADate :  
  • 2012-03-22  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ایسے شخص کے بارے میں جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا، حضرت زینب سلام اللہ علیھا، حضرت خدیجہ کبریٰ ، حضرت مریم اور فرعون کی بیوی ،بی بی آسیہ کے بارے میں یہ کہتا ہے: عوام الناس میں سے بعض لوگ ، ان خواتین کا بعض غیر معمولی صفات کی مالک ہونےکے بارے میں کہتے ہیں ۔ جبکہ عقل اور روح کی رشد کے طبیعی امکانات اور انفراد ی کوششیں ایسی صفات کے وجود میں آنے کا سبب بنتی ہیں اور ان خواتین کو دوسری خواتین سے برتر ہونے کے لیے ، خاص غیبی علل و اسباب کے پائے جانے کو حدیث کا اطلاق بیان نہیں کرتا۔ اس مسئلہ سے متعلق آپ کی نظر کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔جو شخص بھی روایات میں تلاش کرے اسے ایسی متواتر حدیثیں ملیں گی جو ان خواتین کی ممتاز غیبی صفات اور خصوصیات کے وجود کے بارے میں ہیں ، خاص طور پر سیدۃ النساء العالمین کے بارے میں اسے یقین حاصل ہوجائے گا۔حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے متعلق، خلقت ، ولادت،بلند مرتبہ ، علم ، اخلاق ، عبادت ، قربانیوں، اسلام کی راہ میں آرزوی شہادت اور خدا کی جانب سے رہنمائی کے سلسلے میں بہت سی روایات پائی جاتی ہیں۔اس بارے میں ہم نے گذشتہ سوالات کے جوابات میں تفصیل بیان کی ہے۔
  • QaID :  
  • 11272  
  • QDate :  
  • 2012-03-21  
  • ADate :  
  • 2012-03-21  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ایک شخص حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مصحف کے بارے میں کہتا ہے: حضرت فاطمہ اسلام میں پہلی مؤلّف اور مصنف ہیں ، اس کے بعد کہتا ہے : مصحف سے مراد ، جمع کیئے گئے اوراق اور صفحات ہیں ؛ حضرت فاطمہ ، احکام شرعیہ ، وصیّتوں ،نصحیّتوں اور وعظ ، حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے سنتی تھیں ،انہیں لکھ لیتی تھیں، یہ کتاب ہمارے پاس نہیں ہے بلکہ آئمہ علیہم السلام کے پاس ہے۔ اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کہ کافی اور بصائر الدرجات کی بہت سی معتبر روایات میں اس امر کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ یہ مصحف امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تحریر ہے اور اس فرشتہ کے کلمات ہیں ،جو حضرت فاطمہ سے رابطہ میں تھا ، اس بارے میں اپنی نظر بیان فرمائیے ۔
     Answer :
    جواب۔ بہت زیادہ روایات میں مصحف حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ذکر آیا ہے۔ آئمہ علیہم السلام بھی اس مصحف کو اختیار میں رکھنے کی وجہ سے فخر و مباہات کرتے تھے ۔ روایات میں ملتا ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام ،پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی وفات کے بعد غمگین تھیں لہٰذا خداوند عالم نے ان کا غم کم کرنے کے لیے حضرت جبرئیل یا کسی دوسرے فرشتہ کو بھیجا اور وہ اس دنیا میں پیش آنے والے واقعات ، حادثات ،فتنے اور حالات کو بیان کرتا اور امیرالمؤمنین اسے لکھتے تھے۔اور اسی وجہ سے حضرت زہرا کو محدَّثہ کے نام سے پکارا گیا ہے جس طرح آپ کو بطن ِ مادر میں گفتگو کرنے کی وجہ سے محدِّثہ کہا گیا ہے۔
  • QaID :  
  • 11271  
  • QDate :  
  • 2012-03-21  
  • ADate :  
  • 2012-03-21  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ایک شخص اس روایت کے بارے میں جو یہ کہتی ہے کہ : خداوندعالم نےزمین اور آسمان کو خلق کرنے سے پہلے،حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نور کو خلق کیا ؛ کے بارے میں شک کرتا ہے اور دوسروں کو بھی شک میں مبتلا کرتا ہے، ایسے شخص کے بارے میں آپ کی نظر کیا ہے؟
     Answer :
    جواب۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ خداوند عالم نے اس کائنات اور حضرت آدم علیہ السلام کو خلق کرنے سے پہلے حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ، حضرت علی علیہ السلام ،حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو خلق کیا اور یقیناً یہ حضرات عرش الٰہی کے سائے میں انوار کی صورت میں تھے۔ اس بارے میں متواتر روایات پائی جاتی ہیں جو اس بارے میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔( بحارالانوار،جلد ۲۵،صفحہ ۱۵ سے۲۵ اور جلد۲۸،صفحہ۴۵، اور مخصوصاً حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام سے متعلق، جلد۴۳،صفحہ ۴۔
  • QaID :  
  • 11246  
  • QDate :  
  • 2012-03-18  
  • ADate :  
  • 2012-03-18  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ شارع مقدّس اور اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کا نقطۂ نظر ،مسلسل پیش کیے جانے والے نظریات کے بارے میں کیا ہے؟اور جو بھی اس طرح کا اعتقاد رکھتا ہو اُس کا حکم کیا ہے ؟ اور کیا یہ نقطۂ نظر ،امامیہ کی نگاہ میں عصمت کے عقیدہ سے مطابقت رکھتا ہے ؟َ وہ نقطۂ نظر، یہ ہے: یقیناً ہم بعض امور جیسے حضرت موسیٰ کا مغفرت طلب کرنا ، سورۂ اعراف کی آیت نمبر ۱۵۱ میں: قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَ لِأَخِي ۔ پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔کو ، عصمت کے وسیع مفہوم کے لیے نقصان دہ نہیں جانتے ، کیوں کہ مختلف امور کی تقدیر میں انسان کوخطا سے محفوظ رکھنے والی پوشیدہ چیزوں سے آگاہی اور شناخت نہیں رکھتے ، بلکہ عصمت کے معنیٰ یہ ہیں کہ معصوم جس کام میں گناہ جانتا ہے اسے انجام نہیں دیتا ۔لیکن کیوں کہ وہ حضرات ، اس عقیدہ کی بنا پر کہ ان کا مختلف امور میں تصرف صحیح اور شرعی ہے لہٰذا وہ غلط تصرف نہیں کرتے ، ہمیں اس چیز پر کوئی دلیل نہیں ملتی ، بلکہ اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن انبیاء کی زندگی اور ان کے نقاط ضعف کو بیان کرنے میں اس نکتہ پر تاکید کرتا ہے کہ رسالت ، امور کی تقدیر میں خطا سے پیدا ہونے والے انسانی نقاط ضعف سے منافات نہیں رکھتی۔
     Answer :
    جواب۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ پیغمبران اور آئمہ علیہم السلام جس طرح سے گناہ سے معصوم ہیں اسی طرح بھولنے ، فراموش کرنے اور غلطی کرنے سے بھی معصوم ہیں ۔جو دلیل ان کے گناہ سے معصوم ہونے پر دلالت کرتی ہے وہی دلیل ان کے تقدیر امور سے متعلق خطا سے معصوم ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے ۔کیوں کہ پیغمبر ﷺ کی رسالت پر اسی وقت اطمنان اور اعتماد ممکن ہے کہ وہ ہر طرح سے معصوم ہو حتّیٰ اگر بھولنے کی گنجائش کے بھی قائل ہوجائیں تو اس کے پیروکاروں اور امّتیوں کے لیے اس کا قول اور اس کا کردار حجّت نہیں ہوگا ۔ جو کچھ بھی انبیاء کی توبہ اور استغفار سے متعلق قرآن مجید میں ملتا ہے ، یا ترک اولیٰ کی وجہ سے ہے یا ان کاموں کی وجہ سے ہے جو ان کے مقام اور منزلت کے مطابق نہ تھا ۔ اگرچہ حرام یا ترک اولیٰ نہیں تھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک کافر (فرعون کا طرف دار) کو قتل کرنا، اگرچہ حرام کام نہ تھا ، لیکن پھر بھی آپ نے خدا سے بخشش طلب کی ۔
  • QaID :  
  • 11208  
  • QDate :  
  • 2012-03-14  
  • ADate :  
  • 2012-03-14  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ایک شخص نے دعائ کمیل کی شرح میں ایسی باتیں کہی ہیں جو آج کے زمانہ کا ،افراطی ناصبی بھی امیر المؤمنین علیہ السلام سے بغض و کینہ رکھنے کی وجہ سے نہیں کہتا۔ اُس نے کہا ہے: ہم کیا سمجھیں ؟ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام مسلسل بخشش اور مغفرت کی درخواست کررہے ہیں، اور اس پر ہی اکتفا نہی کررہےبلکہ اس سے بڑھ کر اللہ سبحانہ تعالیٰ سے شفاعت طلب کررہے ہیں۔ کیا آپ یہ محسوس نہیں کرتے کہ علی ؑ ہمیشہ سے خوف میں مبتلا تھے، خاص طور پر ان گناہوں اور خطاؤں کی معافی کی دعا کرتے تھے جن کا شمار گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور ان میں سے ایک ہی انسان کی کمر توڑنے کے لیے کافی ہے۔
     Answer :
    جواب۔ دعائ کمیل، بلند پایہ مضامین اور انتہائی عمیق معنیٰ کی حامل ہے جو صرف خاص انداز میں یا بغیر توجہ کے پڑھنے کے لیے نہیں ہے بلکہ دوسری دعاؤں مثلا ً دعای ابو حمزہ ثمالی یا روز عرفہ کے دن امام حسین علیہ السلام کی دعا کی طرح اپنے پورے معنیٰ کے ساتھ امام کی جانب سے صادر ہوئی ہے ۔ لیکن آئمہ علیہم السلام کی جانب سے استغفار اور اسی طرح کی دوسری تعبیرات کا استعمال، اپنے دقیق معنیٰ رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی مکمل معرفت اور ان حضرات کے بلند مرتبہ کی نشان دہی کرتا ہے۔ بعض اوقات ، دنیا کے مباح کاموں میں مصروف ہونا اور خداوندعالم کی طرف پوری توجہ کا نہ ہونا ان حضرات کے نذدیک ،بڑا گناہ ہے جو خداوندعالم کی رحمت واسعہ میں شامل ہونے کو ، جس کی وہ امید رکھتے ہیں ، مخدوش کرتا ہے ۔ ہم اس مقام کو نہیں سمجھ سکتے چونکہ ہم کمال کے اس درجہ، بلند مرتبہ اور معرفت الٰہی کی ان گہرائیوں تک نہیں پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حضرت خضر علیہ السلام کی دعا ہے جو حضرت علی علیہ السلام نے کمیل کو تعلیم دی ہے اور روایات میں نہیں ملتا کہ آپ نے خود اس دعا پڑھا ہو۔
  • QaID :  
  • 11198  
  • QDate :  
  • 2012-03-13  
  • ADate :  
  • 2012-03-13  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ عصمت ِمعصوم کی اس تعبیر سے متعلق شیعہ نظریہ کیا ہے؟ ( یقیناً معصوم اپنے ارادہ سے خدا کی اطاعت کرتا ہے اور اگر گناہ کا ارادہ کرے تو اسے خداوندعالم گناہ سے محفوظ رکھتا ہے ۔ جب بھی گناہ کے شرائط پیدا اور زیادہ ہوں تو خداوندعالم اس(معصوم) کے لیے محافظ(یعنی گناہ کے راستہ میں رکاوٹیں ) پیدا کردیتا ہےجو اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔اس صورت میں عصمت کے حتمی معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ معصوم صاحب اختیار نہیں ہے بلکہ وہ مختار ہے ،لیکن جب اس پر نفس کی کمزوری طاری ہوتی ہے تو خداوندعالم مداخلت کرتا ہے۔)
     Answer :
    جواب ۔ عصمت کے بارے میں اس سے پہلے بھی ہم بیان کرچکے ہیں ، عصمت، علم تام اور کامل، ایمان کی طاقت ، اللہ تعالیٰ سے خوف اور مصلحت،مفسدہ اور نقصان سے پوری طرح آگاہی اور اس پر تسلط کی طرف پلٹتی ہے ، البتہ خدا کی توفیق اور تائید ، اور ایک ایسے ظرف کے لیے جو خداوندعالم کی عنایات کو قبول کرنے کی صلاحیت اور استعداد رکھتا ہو ،اس طرح کہ اس شخص کی طینت اور سرشت جو اس توفیق کے لیے ظرف ہے ، پاک اور پاکیزہ ہو کہ جسے خداوندعالم نے انتخاب کیااور دوسروں پر برتری دی۔ یہ وہ امور ہیں جو عصمت کو تشکیل دیتے ہیں ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معصوم اختیار نہ رکھتا ہو بلکہ عصمت کے باوجود وہ اپنے اعمال اور افعال میں مکمل اختیار رکھتا ہے ۔ خیر اور نیکی کی طرف رجحان اور جھکاؤ اس میں اقتضاء کی صورت میں پایا جاتا ہے ، علّت تامّہ کی صور ت میں نہیں۔ اور یہ ہی بات آیات اور روایات کے مجموعہ سے سمجھ میں آتی ہے۔ اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ با اختیار ہونے کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ نفس کی کمزوری معصوم پر عارض ہوتی ہو اور خداایسے مواقع میں دخالت کرتا اور اس کمزوری کو پورا کرتا ہے بلکہ اس لیے کہ خدا نے عصمت کو ان کے وجود میں رکھا ہے (اس معنیٰ میں جو ہم نے بیان کیے)، معصوم خود اپنے ارادۂ محض اور اختیار سے گناہوں،برائیوں اور بدی کو ترک کرتا ہے۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011