پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Friday 10 July 2020 - الجمعة 17 ذو القعدة 1441 - جمعه 20 4 1399
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 11550  
  • QDate :  
  • 2012-04-16  
  • ADate :  
  • 2012-04-16  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ولایت تکوینی سے متعلق آپ کی نظر مبارک کیا ہے ؟ کیا جو شخص بھی ولایت تکوینی کا انکار کرے وہ تشیع کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ ولایت تکوینی سے مراد یہ ہے کہ خداوند متعال اپنی قدرت کے ذریعہ ، انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کو نظام ہستی اور اس میں پائی جانے والی موجودات سے متعلق امور میں تصرف کی صلاحیت عطا کرتا ہے ، اس طرح سے کہ یہ حضرات مُردوں کو زندہ کرنے اور بیماروں کو شفاء عطا کرنے جیسے امور میں ،خدا کے اذن و ارادہ سے تصرف کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں ۔البتہ جب بھی خداوندعالم اپنی مصلحت اور مشیت جانتے ہوئے ارادہ کرے تو ان حضرات سے تصرف کی قدرت کو سلب کرسکتا ہے۔ یہ تصرفات ،صرف ان کی دعاؤں کی قبولیت کی وجہ سے نہیں ہے کیوں کہ دعاؤں کی اجابت ،ہر مومن کی شان ہے بلکہ یہ حضرات اس صلاحیت کو خداوند عالم کی جانب سے حاصل کرتے ہیں ۔ قرآن کریم نے بھی اس مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے :( تُبْرِئُ الْأَکْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ) (اور تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہماری اجازت سے صحتیاب کردیتے تھے۔)﴿المائدة، 110﴾۔ جو بھی آئمہ علیہم السلام کی ولایت تکوینی کا منکر ہوجائے ،اس نے تشیع کے حقیقت اور اس کے مسلّمات کو نہیں پہنچانا ہے ، بلکہ وہ آیات قرآنی کو مکمل طور پر درک نہیں کرسکا اور بطور کامل اور باریک بینی سے نہیں سمجھا ہے ۔
  • QaID :  
  • 11542  
  • QDate :  
  • 2012-04-15  
  • ADate :  
  • 2012-04-15  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے حمل ٹہرنے اور پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے لیے جنت سے کھانا آنے سے متعلق حدیث ، اور آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا کچھ دنوں کے لیے حضرت خدیجہ علیہا السلام سے دور رہنا وغیرہ کا تعلق کیا حضرت زہرا علیہا السلام کی روح کی خلقت سے ہے یا آپ علیہا السلا م کے جسم کی تخلیق سے متعلق ہے ؟ اور کیا اصولی طور پر معصومین کے مادّی عنصر اور بدن کی ہیئت اور صورت ، دوسرے لوگوں سے مختلف ہے ؟اگر ایسا ہے تو وہ حضرات بیما ر کیوں ہوتے ہیں ؟ اور ایسا کیوں ہے کہ ان میں سے بعض لاغر اور بعض فربہ اور تنومندتھے؟اور جو کچھ معصومین کی جسمانی خصوصیات کے بارے میں بیان کیا گیا ہے مثلاً ان حضرات کا نہ سونا ، آگے کی طرح پیچھے کی طرف بھی دیکھنا ،ریت اور نرم مٹی کی طرح پتھر پر بھی قدموں کے نشانات باقی رہ جاناوغیرہ کس حدّ تک صحیح ہے ؟
     Answer :
    جواب ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا حمل ٹہرنے سے متعلق حدیث کا تعلق آپ کے جسم مبارک سے ہے اور جسم اور روح میں تناسب اور سنخیت کی وجہ سے اللہ کی جانب سے بہت سی خاص عنایات آپ کے جسم پر ہوئی ہیں تاکہ آپ کا جسم ، آپ کی عالی مرتبت روح کو قبول کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوسکے۔ بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے کہ آئمہ علیہم السلام کی سرشت اور طینت ، علیین میں سے ہے ، لیکن دوسرے تمام انسانوں کی طرح عام جسمانی نشو نما اور حالات اور شرائط کے مالک ہیں ۔کھاتے پیتے ہیں ،سوتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں ،علاج معالجہ کرتے ہیں اور آخر میں اس دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں ۔(قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ يُوحَى إِلَيَّ ۔۔۔﴿الكهف‏، 110﴾ اے رسول کہہ دیجیے کہ میں بھی تم لوگوں کی طرح سے بشر ہوں ، مگر میری طرف وحی آتی ہے ۔۔۔)۔ لیکن ان کا سونا اور مرنا دوسروں سے مختلف ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ( ہم مر جاتے ہیں ،اس طرح سے کہ ہم میت اور مردہ نہیں ہوتے اور ہم بوڑھے اور کمزور ہوجاتے ہیں لیکن دوسروں کی طرح سے نہیں )۔ روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: مجھے کفن دینے کے بعد بٹھا دینا اور جو کچھ بھی مجھ سے معلوم کرنا چاہو ، پوچھ لینا ، امیر المؤمنین نے بھی ایسا ہی کیا ۔
  • QaID :  
  • 11509  
  • QDate :  
  • 2012-04-13  
  • ADate :  
  • 2012-04-13  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ،حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلا م کے مصائب سے متعلق دل سے عقیدہ رکھیں،اور کیا یہ عقیدہ شیعہ عقائد کا لازمی حصّہ ہے اس طرح سے کہ اگر ہم یہ عقیدہ نہ رکھتے ہوں کہ حضرت زہرا علیہا السلام کا بچہ سقط ہوا اور دروازہ کی میخ آپ کے سینۂ اقدس میں پیوست ہوئی اور ۔۔۔جو اہل منبر بیان کرتے ہیں ، ہمارے عقیدہ کو نقصان پہنچائے یا یہ مطالب اور باتیں صرف ، تاریخی حادثات اور واقعات کی حدّ تک ،قابل اعتبار ہیں ؟
     Answer :
    جواب۔ جی ہاں ! جو مصائب آپ علیہا السلام پر ڈھائے گئے ہیں ، شیعہ مذہب کے عقائد اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کی ضروریات میں سے ہیں اور محض ایک تاریخی حادثہ اور واقعہ نہیں ہیں ۔ حضرت امیر المؤمنین کے علاوہ دوسروں کی خلافت اور ان کے مذہب کے باطل ہونے پر دلیل یہ ہے کہ دوسرے افراد کی خلافت کی بنیاد ، خدا اور رسول کے غضب اور ناراضگی پر رکھی گئی ہے ،اور جو بھی خدا اور رسول کو غضب ناک اور نا راض کرے ، اس بات میں شک نہیں ہے کہ ، وہ خود ، اس کی خلافت اور اس کا مذہب ، نا حق اور باطل ہے ۔ گذشتہ سوالات کے جوابات میں بعض روایات اور قابل اعتماد دلائل کی طرف اشارہ ہوا اور ثابت کیا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت زہرا علیہا السلام کو تکلیفیں پہنچائیں اورآپ کو نا راض اور غضب ناک کیا ،اور شیعہ اور سنی اس بات میں متفق ہیں کہ جو بھی آپ کو نا راض اور غضب ناک کرے ، اس نے خدا اور رسول کو ناراض اور غضب ناک کیا ۔شاید ،پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی جانب سے مختلف روایات میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے غم اور غصّہ کے ساتھ خدا کے غضب اور نا راضگی اور ان کی خوشی میں خدا کی خوشی اور رضا کو اس لیے بیا ن اور اس پر تاکید کی گئی ہے کہ ،آپ سلام اللہ علیہا پر ڈھائے جانے والے مصائب کی داستان ،ہر طرح کی فکری اور اجتماعی صلاحیت رکھنے والے افراد کے لیے قابل درک ، مفید اور روشن دلائل میں سے ہے تاکہ دوسروں کی خلافت اور انکے مذہب کے بطلان اور امیر المومنین علیہ السلام اور اہل بیت کی خلافت اور ان کے مذہب کی حقّانیت ،ہر زمانے اور ہر نسل کے لیے آشکار ہوجائے اور مخالفین سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہتھیار اور حقیقت کی تلاش کرنے والوں کے لیے ایک تابندہ چراغِ ہدایت کی حیثیت رکھتا ہو۔ بعض اوقات آپ پر ڈھائے جانے والے مصائب کے علاوہ دوسرے دلائل کو سمجھنا ،بعض لوگوں کے لیے سخت ،مبہم اور غیر واضح ہو لہٰذا یہ ضروری تھا کہ حضرت زہرا علیہا السلام کو ناراض کرنے کے مصادیق اور عینی شواہد وجود رکھتے ہوں تاکہ صراط مستقیم اور مذہب حقّہ کی جانب انسان کی ہدایت کے لیے ان حادثات اور واقعات کے اعتقادی اثرات پر واضح اور روشن دلیل ہو،اور اسی وجہ سے یہ واقعہ اور اس پر دلائل ، انسان کے لیے اہم ترین مسائل میں سے ہیں کیوں کہ صراط مستقیم اور صحیح مذہب کی طرف ہدایت اور نجات کا واحد راستہ ،اس مسئلہ پر متوقف ہے ۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ انسان کی خلقت کا مقصد ،اس کی صحیح مذہب اور راستہ کی طرف ہدایت اور اس کو دنیا اور آخرت کی کامبابی کی راہ دکھانا ہے ، انبیاء کا مبعوث ہونا ،شرایع الٰہی کا آنا اور انبیاء اور اولیاء کی ساری قربانیاں اسی وجہ سے ہیں ،لہٰذا وہ چیز جس پر صحیح مذہب کی شناخت اور اس کو ثابت کرنا متوقف اور منحصر ہے ، انتہائی اہم اعتقادی مسائل میں شمار ہوتا ہے ، یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام کے مصائب ایک انفرادی واقعہ اور ذاتی مسئلہ نہیں ہے اور اہم ترین اسلامی اور اعتقادی مسائل میں سے ہے اور اسی وجہ سے حضرت فاطمہ زہرا نے وصیت فرمائی کہ آپ کو رات میں دفن کیا جائے۔
  • QaID :  
  • 11444  
  • QDate :  
  • 2012-04-07  
  • ADate :  
  • 2012-04-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ایک شخص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل کا منکر ہے اور کہتا ہے کہ : ( وہ دوسری خواتین کی طرح ایک عام خاتون ہیں اور زیادہ سے زیادہ وہ اپنی کوشش ،عبادت اور بندگی کی وجہ سے مقامِ عالیہ پر پہنچی ہیں اور یہ چیز دوسروں کے لیے بھی ممکن ہے )۔اور کہتا ہے کہ :( تجربہ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ بی بی کے فضائل سے زیادہ فضائل اور ان کے مصائب سے زیادہ شدید مصائب دوسرے مقامات اور زمانوں میں ملتے ہیں )۔ اس طرح سے اس نے آپ پر ڈھائے گئے مصائب میں شکوک اور شبہات پیدا کیے ہیں اور حملہ آور گروہ کے ظلم اور ستم مثلاً آپ کے پہلو پر ضرب لگانا ، حضرت محسن کی شہادت اور اسی طرح ان مظالم کے نتیجہ میں خود آپ کی شہادت وغیرہ کی نسبت ،انکاری ہے ۔ایسے شخص کے بارے میں آپ کی نظر کیا ہے ؟ ایسے شخص کی کتابوں کی خرید و فروخت اور ان کے مطالعہ سے متعلق کیا حکم ہے؟
     Answer :
    جواب۔ سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے فضائل بے شمار اور ان گنت ہیں ۔ آپ کے فضائل اور مناقب شیعہ اور سنی روایات میں تواتر کی حد تک ہیں ۔ان روایات کے مجموعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام کے لیے ایسی خصوصیات اور مقام ہے کہ جہاں تک دوسروں کی دسترسی حتیٰ کثرتِ عبادت اور سعی اور کوشش کے ذریعہ بھی ممکن نہیں ہے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ عبادت کی کثرت ،نفس انسانی کے کمال میں حیرت انگیز اثرات رکھتی ہے ،ہر شخص کے لیے روحانی کمال کے راستہ میں انفرادی تکامل اور ترقّی ممکن ہے ، کیوں کہ خداکی جانب سے تمام انسانوں کے لیے توفیقات اور تائیدات کے دروازے کھلے ہیں ، لیکن حضرت زہرا علیہا السلام کی تخلیق اور پیدائش میں تکوینی خصوصیات اور مافوق الطبیعی عوامل کار فرماں ہیں کہ جنہوں نے دوسروں پر آپ کی برتری کو لازم اور ضروری کردیا ہے اور کسی اور کے لیے اس مقام تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔تکوینی اورغیر اکتسابی فضائل کے علاوہ آپ نے عبادت ،تلاش و کوشش ، ایثار اور دوسرے میدانوں میں بھی بہت سے کمالات کو کسب کیا ہے۔چہاردہ معصومین علیہم السلام کے فضائل اکتسابی اور فضائل غیر اکتسابی سے متعلق بحث ، ان شبہات کو دور کرنے کے لیے جو عام طور سے اس موضوع سے متعلق بیان کیے جاتے ہیں اور رائج ہیں ، فائدہ مند اور راہ گشا ہے۔ سیوطی نے تفسیر درّالمنثور میں آیۂ (سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ)﴿الإسراء، 1﴾ پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو اپنے بندہ کو راتو ں رات مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ لے گیا جس کے اطراف کو ہم نے با برکت بنایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیا ں دکھائیں بے شک وہ پرور دگار سب کی سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے ۔ کے ذیل میں عائشہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: جب شب معراج مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا ، میں جنّت میں داخل ہوا اور جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کے پاس کھڑا ہوا کہ اس کے پتوں کی طرح لطیف، صاف ستھرے اور پر نور پتے اس سے قبل نہ دیکھے تھے اور اس کے پھلوں کی طرح لذیذ اور پاک و پاکیزہ پھل اس سے پہلے نہ دیکھے تھے ۔ اس درخت کا ایک پھل میں نے کھایا اور وہ میرے سلب میں نطفہ میں تبدیل ہوگیا ۔ جب میں زمین پر واپس آیا اور حضرت خدیجہ کے ساتھ ہم بستر ہوا تو وہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کی صورت میں باردار ہوئیں ۔ اس کے بعد جب بھی جنت کی خوشبو سونگھنے کا دل چاہتا ہے تو حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خوشبو کو استشمام کرتا ہوں ۔ موصوف نے اپنی سیرۃ کی کتاب میں روایت بیان کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: (حضرت جبرئیل ایک بہشتی سیب لیکر میرے پاس آئے اور میں نے وہ سیب کھایا ، اس کے بعد حضرت خدیجہ کے ساتھ ہمبستر ہوا اور وہ حضرت فاطمہ سے باردار ہوئیں )۔ حضرت خدیجہ علیہا السلام نے بیان کیا ہے :( حاملگی کے ایام میں آسانی اور ہلکے پن کا احساس کیا اور جب بھی پیغمبر میرے پاس نہیں ہوتے تھے تو جنین(فاطمہ) میرے شکم میں مجھ سے کلام کرتی تھیں ۔ولادت کے وقت قریشی عورتوں کو اطلاع دی کیوں کہ ایسے وقت میں خواتین کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن وہ نہ آئیں اور مجھے پیغام بھیجا کہ تمہارے پاس نہیں آئیں گے کیوں کہ تم نے ہماری بات نہ مانی اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ شادی کرلی۔) اس وقت خدا کے لطف و کرم سے چار خواتین حضرت خدیجہ کے پاس آئیں کہ جو نورانیت اورحُسن و جمال کے لحاظ سے قابل بیان نہیں ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کہا : میں تمہاری ماں حوّا ہوں۔ (حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ) دوسری نے کہا: میں آسیہ، مزاحم کی بیٹی ہوں ۔( فرعون کی بیوی) تیسری نے کہا : میں کلثوم ہوں۔(حضرت موسیٰ کی بہن) اور آخری نے کہا: میں مریم ،عمران کی بیٹی ہوں ۔(حضرت عیسیٰ کی والدہ) ہم یہاں آئے ہیں تاکہ وضع حمل میں آپ کی مدد کریں۔اس کے بعد جب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دنیا میں آئیں اور آپ کو زمیں پر رکھا گیا تو آپ نے سجدہ کیا اور شہادتین ادا کرنے کی نشانی کے طور پر اپنے ہاتھ کوبلند کیا۔(ذخائر العقبی،محب الدین الطبری،ص۴۴) اس مضمون کی بہت سی حدیثیں کتب اہلِ سنّت مثلاً مستدرک الصحیحین ، ذخائر العقبی اور تاریخ بغداد وغیرہ میں پائی جاتی ہیں ۔ لیکن امامیہ نے ایسی روایات کو توتر کی حدّ تک بیان کیا ہے اور صحیح سند کے ساتھ کثرت سے موجود ہیں ۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت حاصل کرنے کے لیے خدا کی اُن خاص عنایات کی طرف توجہ ضروری اور مفید ہے جن سے بی بی ،ولادت سے لیکر اپنی پوری زندگی میں بہرہ مند رہیں ۔ اس لحاظ سےہم، آپ کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کررہے ہیں : پہلی خصوصیت:آپ کے وجود کی تخلیق اور اس کے مراحل۔ ایک ایسا پیغمبر کہ جس کی طرف تمام مخلوقات کھنچی چلی جاتی ہیں ، وہ خود ایک بہشتی درخت کی طرف مائل ہوگیا کہ جو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی خلقت کا منشاء ہے جیسا کہ خود آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا کلام آپ کی توجہ اس درخت کی جانب جلب ہونے کا پتہ دے رہا ہے ، آپ نے فرمایا: (میں نے جنّت میں کوئی درخت بھی اس درخت کے جیسا خوبصورت اور اس درخت کے نورانی پتوں جیسے پتے نہیں دیکھے۔) آپ کا نطفہ اس درخت کے میوہ سے ہے ، چاہے اس میوہ کوپیغمبر نے ( بعض روایات کی بنا پر ) جنت میں کھایا ہو یا (بعض دوسری روایات کی بنا پر) چالیس روز تک روزہ رکھنے کے بعد حضرت جبرئیل کے ہاتھ سے زمین پر کھایا ہو۔ دوسری خصوصیت: ایام حاملگی میں جب آپ شکم حضرت خدیجہ میں تھیں تو وہ آپ سے کلام کرتیں تھیں اور آپ کی ہمدم تھیں۔ تیسری خصوصیت: شیعہ اور سنی روایات میں آیا ہے کہ آپ سلام اللہ علیہا کی ولادت کے وقت چار خواتین یعنی بی بی حوّا،بی بی آسیہ ،بی بی مریم اور بی بی کلثوم تشریف لائیں اور حضرت خدیجہ اور آپ کی دختر نیک اختر کی خدمت میں کمر باندھی۔ اب تک جو ذکر کیا گیا وہ صرف حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت اور آپ کی جسمانی تخلیق کے مراحل کی طرف ایک اشارہ تھا۔ لیکن آپ کی روح کی خلقت کے بارے میں جتنا بھی بیان کیا جائے کم ہے کیوں کہ جسم اور روح سنخیت رکھتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روح جو ایسے جنّتی جسم کے لیے مہیا کی گئی ہے کتنی عظیم اور اہمیت کی حامل ہے۔ معتبر حدیث میں آیا ہے کہ آپ علیہا السلام کا اپنی تخلیق سے پہلے ایک نور تھا جو عرش الٰہی کے سائے میں حضرت حق کی تقدیس اور تحمید (سبحان اللہ ، لا اِلہ الّا اللہ ،الحمد للہ ) میں مصروف تھا اور آپ کے نور کے ذریعہ سے وہ تاریکی جسنے فرشتوں کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا ، رفع ہوئی۔(بحار الانوار،جلد۴۳،صفحہ۴) ۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام پر خدا وند عالم کی خاص عنایات میں سے ایک آپ کی حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ شادی کا قصّہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ۔(الریاض النضرۃ ، جلد ۲ ، صفحہ۱۸۰)،اور خداوندعالم نے آسمان پر حضرت فاطمہ کو حضرت علی ابن ابی طالب کی زوجیت میں قرار فرمایا۔ روایات میں آیا ہے کہ (ہم رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ مسجد میں تھے کہ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے علی علیہ السلام سےفرمایا :جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارا عقد فاطمہ کے ساتھ کیا ہے اور اس شادی پر چالیس ہزار فرشتوں کو گواہ قرار دیا ہے ۔(ذخائر ال عقبی،صفحہ۳۲؛ فضائل الخمسہ، جلد ۲،صفحہ ۱۴۷)) چوتھی خصوصیت: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل میں سے ،جیسا کہ تاریخ بغدادی میں حضرت ابن عباس سے نقل ہوا ہے ،ایک یہ ہے کہ کہا : ( رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: میری بیٹی فاطمہ حوریۂ انسیہ ہے جسے حیض (ماہانہ عادت ) نہیں آتا اور خون اور نجاست (استحاضہ اور نفاس) نہیں دیکھتی۔) اور ذخائر العقبی میں ہے کہ :( پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ میری بیٹی طاہرہ اور مطہرہ ہے اور وہ حیض اور نفاس کا خون نہیں دیکھتی۔(تاریخ بغداد،جلد۲، صفحہ۳۳۱)) ذکر کئے گئے نکات ،بی بی دو عالم کے بعض فضائل اور مقام و مرتبہ میں سے ہے اور ہرگز بھی کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔یہ فضائل قرآن کریم کی آیات میں ،مثلاً آیۃٔ تطہیر :(إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيراً) یعنی فقط خدا کا ارادہ یہ ہے کہ آپ اہل بیت کوہر طرح کی نجاست اور پلیدی سے دور رکھے اور پوری طرح سے آپ کو پاک و پاکیزہ کردے۔﴿الأحزاب‏، 33﴾، آیۃٔ مباہلہ(فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ أَبْنَاءَکُمْ وَ نِسَاءَنَا وَ نِسَاءَکُمْ وَ أَنْفُسَنَا وَ أَنْفُسَکُمْ) یعنی ان سے کہہ دیجیئے کہ : آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی خواتین اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔﴿آل‏عمران‏، 61﴾،آیۃٔ قربیٰ(قُلْ لاَ أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى) یعنی آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا اس کے علاوہ کہ میرے اقرباء سے محبت کرو ۔﴿الشورى‏، 23﴾،سورۃٔ ھل أتی اور دوسری آیات میں ظاہر ہوئے ہیں ۔ اور اسی طرح پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی زبان مبارک سے (جو ھوا یٔ نفس سے بات ہی نہیں کرتے )حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں فضائل نقل ہوئے ہیں ،یہ سب حضرت زہرا علیہا السلام کی عظمت اور ان کے وجود کے خاص کمالات میں سے بعض اشارے ہیں ۔جیسا کہ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: ( اے فاطمہ سلام اللہ علیہا آپ اس جہان کی اول سے آخر تک ،تمام خواتین کی سید اور سردار ہیں۔) اور فرمایا:( خدا وند عالم غضب فاطمہ پر غضب ناک اور ان کی خوشی میں خوش ہوتا ہے ۔)اور فرمایا: (فاطمہ اپنے پدر بزرگوار کی ماں ہیں۔) لہٰذا کس عورت میں اس بلند مقام اور بلند درجہ تک پہنچنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے ؟ فاطمہ یگانہ گوہر اور بے مثال تحفہ ہیں جو خداوند کریم کی جانب سے پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کو عطا ہوا اور ہر لحاظ سے لا ثانی اور بے نظیر ہیں ۔ لیکن آپ کے مصائب کے لحاظ سے اور جو مظالم آپ کے سر پر ڈھائے گئے ،آپ کا حق غصب کرنا اور آپ کا پہلو زخمی کرنا ، ایک ایسے شخص کے لیے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صحیح اسلامی تاریخ، جو شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود ہے اس سے آگاہی رکھتا ہے ، اس کے لیے شائستہ نہیں ہے کہ وہ اس میں شک کرے۔اس بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں ، بلکہ اجمالی طور پر تواتر رکھتی ہیں اور خبر متواتر میں سند کی بحث کی کوئٰ گنجائش نہیں ہے ،جیسا کہ علم اصول میں یہ ثابت ہوچکا ہے۔ اس بارے میں اہل سنت کی بعض روایات کی طرف توجہ فرمائیے: الف) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بابا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی وفات کے بعد آپ کی میراث کا ابو بکر سے مطالبہ کیا ابو بکر نے آپ سے کہا کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے : (ہم انبیاء ارث نہیں چھوڑتے ہیں ،اور جو کچھ بھی جھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔) اس بے بنیاد بات کو سن کر بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو غصّہ آگیا اور ابو بکر کے پاس سے چلی گئیں اور ناراض ہوگئیں یہاں تک کہ دنیا سے چلی گئیں ۔( صحیح بخاری،جلد دوم،صفحہ۱۸۶؛ کتاب الخمس و باب غزوۂ خیبر ؛کتاب الفرائض)۔ ب) ابن قتیبہ نے نقل کیا ہے ، حضرت فاطمہ علیہا السلام نے ابوبکر اور عمر سے فرمایا: تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں ،کیا تم لوگوں نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے سنا ہے کہ ( فاطمہ کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور اس کا غضب میرا غضب ہے ، جو بھی میری بیٹی فاطمہ کو دوست رکھے گا اس نے صحیح معنیٰ میں مجھے دوست رکھا اور جس نے اسے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا )،انہوں نے جواب دیا :ہاں ہم نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے یہ فرمان سنا ہے ۔حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا : خدا اور فرشتوں کو گواہ قرار دیتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے رنجیدہ اور غضب ناک کیا ہے اور میں تم دونوں سے راضی نہیں ہوں اور جب میں رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے ملاقات کروں گی تو تم لوگوں کی شکایت کروں گی۔ ابوبکر نے کہا : میں غضب الٰہی اور فاطمہ آپ کے غضب سے خدا کی پناہ مانگتا ہو۔اس کے بعد ابو بکر اتنا رویا کہ نذدیک تھا کہ اپنی جان دیدے، اس وقت بی بی نے فرمایا: خدا کی قسم ہر نماز میں ، میں تم پر نفرین اور بد دعا کرتی ہوں ۔ ابو بکر آپ کے پاس سے باہر آیا اور لوگ اس کے اطراف میں جمع ہوگئے ،اس نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اے لوگوں تم میں سے ہر ایک جب راتوں کو اپنی بیویوں کی گردنوں میں ہاتھ ڈالتے ہو اور شادمانی اور خوش حالی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گذارتے ہو اور مجھے میری اس بد بختی کے ساتھ اور اس برے کام کے ساتھ جس کا میں مرتکب ہوا ہوں چھوڑ دیا ہے ، مجھے تمہاری بیعت کی ضرورت نہیں ہے ، تم لوگوں نے جو میری بیعت کی ہے وہ واپس لے لو۔(الامامۃ والسیاسۃ، ابن قتیبہ،صفحہ۱۴)۔ ج) بلازری نے روایت کی ہے کہ ابو بکر نے عمر کو ،علی علیہ السلام کے پاس بھیجا تاکہ ان سے بیعت لے سکے ، حضرت علی نے بیعت نہیں کی ۔ اس وقت وہ جلتی ہوئی لکڑیوں کے ساتھ آیا ،گھر کے دروازہ کے برابر میں حضرت فاطمہ سے رو برو ہوا ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: اے پسر خطاب ! کیا میرے گھر کے دروازہ کو آگ لگانا چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا : ہاں۔(انساب الاشراف ،بلازری،جلد۱،صفحہ ۵۸۶؛العقد الفرید،جلد۳، صفحہ ۶۳)۔ د) مسعودی نے لکھا ہے : خلافت کی جانب سے حملہ آوروں نے حضرت علی پر حملہ کردیا اور زبر دستی آپ کو گھر سے باہر نکالا اور سیدۃ النساء العالمین حضرت زہرا کو دروازہ کے پیچھے دبا دیا ، یہاں تک کہ محسن سقط ہوگیا ۔(اثبات الوصیۃ، مسعودی ،صفحہ ۱۱۶ سے ۱۱۹ تک؛منتخب کنز المّال ، صفحہ۱۷۴)۔ ھ)ابن قتیبہ نے کہا ہے : ( عمر سے کہا گیا :تم جو اس گھر کو آگ لگانا چاہتے ہو ،فاطمہ رسول کی بیٹی اس گھر میں ہیں ،اس نے کہا : چاہے فاطمہ ہو ں۔(الامامۃ و السیاسۃ ، ابن قتیبہ،صفحہ ۱۹)۔ و)شہرستانی نے نظام سے نقل کیا ہے کہ (بیعت کے دن ،عمر نے حضرت فاطمہ علیہا السلام کے شکم پرایسی ضرب لگائی کہ ان کا بچّہ ساقط ہوگیا، اور عمر چلّایا : اس گھر کو گھر والوں کے ساتھ آگ لگادو۔(الملل والنحل، شہرستانی،صفحہ۸۳)۔ ابن ابی الحدید ،نہج البلاغہ کے مشہور شارح نے کہا ہے : میری نگاہ میں صحیح بات یہ ہے کہ اس دنیا سے حضرت فاطمہ گذر گئیں اس حالت میں کہ وہ ابو بکر اور عمر پر خشم گین تھیں ،انہوں نے وصیّت کی کہ وہ دونوں آپ کی نماز جنازہ نہ پڑھیں ۔(شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید،جلد۲، صفحہ ۲۰ اور جلد ۶ ،صفحہ۵۰)۔ تاریخ طبری کہتی ہے : عمر بن خطاب، علی علیہ السلام کے گھر آیا اور کہا : خدا کی قسم تمہیں آگ لگا دوں گا ،یا بیعت لینے کے لیے تمہیں گھر سے باہر لے آؤں گا ۔(تاریخ طبری،جلد۳،صفحہ۲)۔ جو کچھ بیان کیا گیا وہ صرف بعض روایات تھیں جنہیں اہل سنت نے نقل کیا ہے ۔لیکن اس بارے میں شیعہ روایات بہت زیادہ ہیں ۔ مزید جاننے کے لیے بحار الانوار کی جلد نمبر ۴۳ کا مطالعہ فرمائیں ۔ ان روایات کی بنیاد پر روشن ہوگیا کہ جو مصائب آپ پر ڈھائے گئے وہ حقیقت رکھتے ہیں ، اور حقیقت سے رو گردانی ،گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ یہاں پر ضروری ہے کہ آپ جانیں کہ وہ کتابیں جو آپ پر ڈھائے جانے والے مظالم اور مصائب کا انکار کرتی ہیں ،کتب ضلال اور گمراہ کرنے والی کتابیں ہیں ، اور ایسی کتابوں کی خرید و فروخت ،ان کو رکھنا اور پڑھنا حرام ہے ۔لیکن صرف اس کے لیے جائز ہے جو یہ چاہتا ہو اور اس بات کی صلاحیت رکھتا ہو کہ ان پر تحقیق اور انتقاد کرے۔ توجہ فرمائیں : اگر آپ اہل سنت مصادر اور منابع و مأخذ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو یہ کوشش کریں کہ پرانے ایڈیشنز کا مطالعہ کریں کیوں کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ نئے ایڈیشنز میں بعض مطالب اور شواہد کو ،حقائق واقعیات کو چھپانے کے خاطر ،حذف کردیا گیا ہو۔
  • QaID :  
  • 11385  
  • QDate :  
  • 2012-04-03  
  • ADate :  
  • 2012-04-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ کیا اہل بیت علیہم السلام سے محبت اور انہیں دوست رکھنا اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرنا اور دشمنی رکھنا ، بغیر اس کے کہ اسےعبادت اور اس کے کردار کی اصلاح کی طرف دعوت دے ، اس کے لیے فائدہ مند ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ اکثر اوقات دوستی کردار اور برتاؤ سے علیحدہ نہیں ہے ،کیوں کہ محبت انسان کو اگرچہ آئندہ ،اپنا کردار صحیح کرنے پر آمادہ کرتی ہے ۔سارے اعمال صرف جوارحی نہیں ہیں کہ فزیکلی طور پر ظاہر ہوں اور اعضاء و جوارح کے ذریعہ انجام دیئے جائیں کہ یہ کہا جائے کہ اہل بیت علیہم السلام کے محب اور دوستوں میں ،ایسا کردار جو ان کے کردار کے مطابق ہو اور ان کی محبت میں رشد پائے ، نظر نہیں آتا۔بعض ردّ عمل ،قلبی اور احساسی ہوتے ہیں ،نیتِ خیر ، نیک افکار اور خدا کے خاطر دوستی اور دشمنی ( تولّیٰ اور تبرّیٰ) ، جیسا کہ روایات میں آیا ہے : ( ایک گھنٹہ غور و فکر کرنا ، ایک سال کی عبادت سے(یا ساٹھ برس ) کی عبادت سے افضل ہے ۔ بحار الانوار، جلد ۷۱،صفحہ۳۲۷، حدیث۲۲) اسی طرح روایت میں ہے کہ (تم میں سے ہر ایک نے اگر کسی گناہ کار کو دیکھا اس پر لازم ہے کہ اپنے ہاتھ سے اس کی اصلاح کرے اور اگر نہ کرپائے تو زبان سے اصلاح کرے اور دل سے اس کا انکار ایمان کی کم ترین حدّ ہے ۔ بحار الانوار، جلد۶۹، صفحہ ۲۹۳، حدیث۲۳)۔ لیکن ایسا دوست رکھنا جو عبادت اور نیک کردار کی طرف نہ بلائے (اگر ایسی دوستی وجود رکھتی ہو ) تو اس کے بارے میں ضروری ہے کہ یہ کہا جائے : خود محبت اس کے لیے مفید ہے ، جیسا کہ اس شخص کے اس دنیا میں گناہ دھلنے کے بعد اسے قیامت کے دن شفاعت کی طرف لے جائے گی ۔ البتہ یہ چیز دوستانِ اہل بیت اور ان کی امامت کے معتقد افراد سے مخصوص نہیں ہے بلکہ شیعہ اور سنی نصوص میں آیا ہے کہ :( اہلِ بیت کی دوستی خصوصاً امیر المؤمنین علیہ السلام کی دوستی اور محبت ((فزع اکبر)) ہے ، فشارِ قبر سے رہائی دلاتی ہے اور دوسرے بہت سے فائدے رکھتی ہے ) اور یہ عدل الٰہی سے منافات بھی نہیں رکھتی۔ شیعیان ان حضرات کی شفاعت کے ذریعہ سے جہنم سے نجات پائیں گے اور جنّت میں داخل ہوں گے ، لیکن جنت کے مختلف درجات ہیں کہ جس کے بلند درجات تک صرف ان کی محبت،عمل اور عبادت کے ذریعہ ہی پہنچا جاسکتا ہے اور اسی طرح سے آخر میں جہنم سے نجات حاصل کرنا ، خدا کی جانب سے گناہ کے مرتکب افراد کو دی جانے والی وعید سے بھی منافات نہیں رکھتی ،کیوں کہ جب بھی خدا اپنے گناہ گار بندے کے لیے خیر کا ارادہ فرماتا ہے ،اسے دنیا میں سخت بیماریوں ،چاہنے والوں کے فراق اور ان کی موت،مال و دولت کے چھن جانے،زندانوں میں قید ہونے اور حاکموں کے زیر ستم ،اور موت کے وقت سختی ،شدّت اور بے ہوشی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ اگر ایسا انسان اس دنیا میں اپنے مکافاتِ عمل کو نہ دیکھے ،مرنے کے بعد برزخ میں عذاب میں مبتلا ہوگا اور اگر دوزخ میں چلا جائے تو وہ جہنم میں زیادہ عرصہ نہیں رہے گا اور جلد ہی اہلِ بیت کی شفاعت سے بہرہ مند ہوگا اور بہشت میں داخل ہوجائے گا ، لیکن وہاں اعلٰی درجات تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ اس بنا پر اب تک جو بیان ہوا اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں : ۱۔ دوستانِ اہل بیت کا گناہ کرنا، ان بزرگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے اور کوئی محب یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا محبوب تکلیف میں مبتلا اور رنجیدہ ہو ،اسی وجہ سے زیادہ تر گناہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہیں ۔ ۲۔ گناہ اگرچہ ظاہری طور پر ایک عمل ہے لیکن حقیقت میں دو گناہ ہیں ، ایک خود گناہ اور دوسرا اہل بیت علیہم السلام کو تکلیف اور اذیّت پہنچانا ، خصوصاً امام زمانہ ارواحنا فداہ ، کو ، جب ان کے سامنے انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
  • QaID :  
  • 11368  
  • QDate :  
  • 2012-04-01  
  • ADate :  
  • 2012-04-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ بعض افراد کا یہ عقیدہ ہے کہ آئمہ علیہم السلام کےمقام،ان کے معجزات اور تمام انسانوں پر ان کے برتر ہونے کی شناخت بہت زیادہ اہم نہیں ہے اور ایک طرح سے افکار کا محدود ہونا ہے بلکہ وہ چیز جس کی طرف پوری توجہ اور اسے اہمیت دینا واجب اور ضروری ہے وہ اپنی زندگی کو آئمہ علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا اور ان کے فرمودات پر عمل کرنا ہے ۔اور پہلی چیز کو اہمیت دینا ہمیں دوسری چیز یعنی ان کی علمی اور عملی سیرت سے دور کردیتا ہے ۔آپ کی نظر اس بارے میں کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ اس بات کے کہنے والے نے آئمّہ علیہم السلام کے مقام اور منزلت کونہیں پہچانا اور ابھی تک اس کی فکر ان حضرات کے بلند درجات تک نہیں پہنچی ہے ۔انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی میں چاہے عقائد ہوں یا اخلاق یا سیاست یا اقتصاد اوریا فرہنگ ،ان سب میں امام کی شناخت کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ یہاں پر ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں: ۱)اعمال کے قبول ہونے کی شرط آئمہ علیہم السلام کی ولایت کا اقرار ہے اور ان کی ولایت کا اقرار ان کی معرفت سے وابستہ ہے ۔لہٰذا اسے حاصل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔ ۲) شیعہ اور سنی روایات میں پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے آیا ہے :(جو شخص مر جائے اور اپنے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔) اور دعاؤں میں آیا ہے کہ : اے اللہ مجھےاپنی حجت کی معرفت عطا فرما کہ اگر تونے یہ معرفت عطا نہ فرمائی تو اپنے دین سے گمراہ ہوجاؤں گا ۔ یہ چیز دلالت کررہی ہے کہ آئمہ علیہم السلام کی شناخت حاصل کرنا ضروری ہے اور یہ فکر کا محدود ہونا نہیں ہے ۔اور یہی وہ مقام ہے کہ جہاں ایک ایسا زائر جو امام کےحق کو پہچانتا ہے اس زائر کے مقابلہ میں جو ان کے حق کے مطابق ان کی شناخت نہیں رکھتا ، ممتاز اور برتر ہے ۔ ۳)امام کی شناخت اور ان کی زندگی سے متعلق غیر معمولی خصوصیات اور مسائل مثلاً ان کے معجزات اور کرامتیں ، خدا کی شناخت اور معرفت میں بھی بہت زیادہ مؤثر ہے کیوں کہ یہ حضرات خدا کی جانب رہنمائی کرتے ہیں ؛لہٰذا جو بھی آئمہ علیہم السلام کی شناخت رکھتا ہے ، لازمی طور پر خدا کو بھی پہچانتا ہے اور جو بھی ان کی شناخت نہیں رکھتا وہ خدا کی بھی شناخت نہیں رکھتا ۔اگر چہ خدا کی شناخت فطری ہے لیکن یہ شناخت ، سمجھ بوجھ اور شعور کے اندازے کے مطابق مختلف درجات کی ہے ، مثلاً اگر ایک نابینا شخص ہاتھی کی ٹانگ کو چھوئے تو وہ یہ کہے گا کہ ہاتھی ایک عمودی ستون ہے ،یا اس کی سونڈھ کو ہاتھ لگا کر کہے گا کہ ہاتھی ایک نرم اور مخروطی مخلوق ہے ۔ ہم خدا کی شناخت حاصل کرنے کے لیے سوائے امام کی شناخت کے کوئی راستہ نہیں رکھتے ۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات جمالی اور جلالی اور اس کی عظمت اور قدرت ،آئمہ علیہم السلام میں تجلّی پیدا کرتی ہیں اور یہ حضرات خدا کی صفات کا مظہر ہیں اور خدا کی قدرت کے کمال پر دلیل ہیں ۔ اس طرح کہ آئمہ علیہم السلام سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جن کا صادر ہونا ایک عام انسان سے نا ممکن ہے ۔یہ بات خداوندِ متعال کی قدرتِ کاملہ ،اس کے محکم ارادہ اور مشیت پر دلالت کرتی ہے ، کیوں کہ مخلوق میں غیر معمولی کاموں اور معجزات انجام دینے کی قدرت ،اس مخلوق کے خالق کی قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ ۴)آئمہ علیہم السلام کی زندگی کی تاریخ اور ان کے فضائل اور مناقب کی معرفت ایسا درس اور نمونۂ عمل ہے جس سے مسلمین اور غیر مسلمین دونوں بہرہ مند ہوتے ہیں اور اپنے سیرۂ علمی اور عملی کو اس سے ہم آہنگ کرسکتے ہیں ۔یہ حضرات اجتماعی مسائل میں بھی عوام الناس کے رہنما اور رہبر ہیں اور ان کا پیغام انسانی کمال اور معاشرہ کی ارتقاء کی جانب ہدایت ہے۔ ۵) آئمہ علیہم السلام سے محبت میں اضافہ اور ان کی ولایت کا اقرار ، معرفت امام ،ان کی کرامتوں اور ان کے فضائل اور مناقب کے آثار میں سے ہے ۔جتنی زیادہ محبوب کی صفاتِ حسنہ ظاہر ہوتی ہیں اتنی ہی زیادہ محبوب سے دوستی پر کشش تر ہوتی جاتی ہے اس کے علاوہ کہ آئمہ کی دوستی عبادت ہے اور باعث ثواب ہے انسان کے لیے اپنے کردار کو بہتر بنانے کا ایک قوی جذبہ بھی پیدا کرتی ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے : محب اپنے محبوب کا مطیع ہوتا ہے ۔لہٰذا اگر آئمہ علیہم السلام کی دوستی اگر ان کی معرفت کے نتیجہ میں ہو تو اس بات کا سبب بنتی ہے کہ انسان فوراً ان کی دعوت کا جواب دے اور یہ چیز دنیا اور آخرت میں اس کی سعادت اور کامیابی کا سبب ہے ۔ ۶)آئمہ کی شناخت ،ان حضرات کی جانب سے معجزات کا صادر ہونا اور ان میں پائی جانے والی صفات اور خصوصیات بندوں پر خدا کی اتمام حجت کا سبب بنتی ہے ۔ جب آئمہ علیہم السلام مکمل قدرت ، عالی منزلت اور تکوینی امور میں تصرّف کے اختیار کے باوجود ،خداوند متعال کے مطیع ِمحض ہیں اور نہایت بندگی اور خضوع و خشوع کے ساتھ عذابِ الٰہی سے ڈرتے ہیں تو ہم معمولی انسان اور کمزور بندے اپنےکاموں کے انجام سے ڈرنے اور خوف کھانے کے زیادہ سزاوار ہیں۔ ایک ایسے حاکم کو تصور کیجیے جو اپنی پوری طاقت اور انجام گناہ کے لیے راہ ہموار ہونے کے باوجود اس سے پرہیز کرتا اور خدا کی اطاعت کرتا ہے ، اس کا یہ کردار اس کی رعایا اور عوام کے ،گناہوں سے دور رہنے کے لیے حجت اور دلیل ہے ۔ ۷)آئمہ علیہم السلام کی سیرت اور ان کی زندگی کی تاریخ ،مختلف نوعیت کی رہی ہے ان میں سے بعض نے خلافت حاصل کرنے اور عدل کو قائم کرنے کی جد و جہد کی ہے حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے ستمکار اور غاصب حکمران کے خلاف قیام کیا اور اپنی اور اپنے انصار تک کی شہادت پیش کی۔ بعض دوسرے آئمہ ہمیشہ حکمرانوں کے تحت نظر یا زندانوں میں رہے اور ظاہری طور پر اپنی فعالیت انجام دینے کا موقع نہیں رکھتے تھے ۔اور بعض دوسرے ان تمام مشکلات کے باوجود معارف اور علوم الٰہی کی ترویج اور اسے عام کرنے اور علمی میدانوں میں گفتگوکرنے میں کامیاب ہوسکے ۔ یہ طریقہ کا اختلاف اور سیاست کے انتخاب میں فرق ، یہ بتا رہا ہے کہ ان میں سے ہر امام اپنے زمانے کے حالات اور شرائط کے لحاظ سے حکمت عملی اپناتے اور اس کا لحاظ رکھتے تھے اور ان کا طریقۂ کار اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق رہا ہے ۔ یہ مسلمانوں اورہر زمانے کے انسانی معاشروں کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ وہ اصول ِ اعتقادی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ،اپنے زمان اور مکان کے مطابق کردار اپنائیں ۔ ہماری گذشتہ گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی معرفت ، ان حضرات کے ارشادت پر عمل کرنے کے لیے اثرِ سوء نہیں رکھتی بلکہ انسان کی زندگی میں دینی تعلیمات کےاثر ات اور اس کی روحی اور فکری آمادگی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔
  • QaID :  
  • 11357  
  • QDate :  
  • 2012-03-31  
  • ADate :  
  • 2012-03-31  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔آپ کی نظر ایسے شخص کے بارے میں جو عصمت کو جبری جانتا ہے اور شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے بارے میں یہ کہتا ہے کیوں کہ وہ عصمت کے اختیاری ہونے کے قائل ہیں ، کیا ہے؟ کہتا ہے: (عصمتِ اختیاری سے متعلق اس قسم کا قول ،لازمی طور پر عصمت تکوینی سے تعارض رکھتا ہے۔یعنی اگر ہم عصمت کو انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے لیے خداوندعالم کے تکوینی افعال میں سے جانیں تو عصمت کو اختیاری جاننے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر یہ کہ وجوب عصمت کی دلیل اور اختیار کے لازمی ہونے کی دلیل کو جمع کرکے ایک مفہوم کو حاصل کیا جائے۔ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس بات میں کیا مشکل ہے کہ خداوند متعال لوگوں کی ضرورت اور ان کی مصلحت کے لیے ،اپنے بعض بندوں کا معصوم ہونے کے عنوان سے انتخاب کرے ۔ اگر اس بات میں کوئی مشکل بھی پائی جاتی ہے تو یہ ہے کہ معصومین اپنے غیر اختیاری کاموں کی وجہ سے ثواب کے حقدار ہوں۔ جواب یہ ہے کہ : اگر ثواب تفضل کی وجہ سے ہے یعنی یہ خدا کا فضل و کرم ہے کہ انسان کے لیے اس اطاعت کے بدلے جو اس نے کی ہے ثواب کا حق قرار دیا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ وہ خود اپنے عمل کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوا ہو، اگر سب انسانوں کا ثواب اسی خدا کے فضل و کرم کی وجہ سے ہے اور ایسا نہیں ہے کہ وہ خود ثواب کے مستحق ہوں تو کیوں ایسا ممکن نہیں ہے کہ بغیر واسطہ اور شرط کے اطاعت انجام پائے۔ یقیناً تفسیری بحثوں میں جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ آیات جن کا ظاہر انبیاء کے لیے گناہ اور خطا ہے ،اسے اس طرح تأویل کرتے ہیں کہ ان حضرات کی عصمت سے منافات نہ رکھتا ہو ۔ لیکن یہاں پرقرآن ،قارئین کے اذہان میں اس سوال کواُبھارتا ہے کہ : قرآن کے طریقۂ بیان میں ایک راز پوشیدہ ہے کہ جب انبیاء کے بارے میں بات کرتا ہے تو خود عصمت اور گناہ کے تضاد کو افکار میں پیدا کرتا ہے ۔لیکن قرآن اس درجہ کی بلاغت کے ساتھ کس طرح سے قابل تأویل ہے ؟ اس اعتراض کی جڑ یہ ہے کہ تأویل آیات کے بہت سے طریقوں میں اس طرح لفظ کو ظاہر کے برخلاف حمل کیا جاتا ہے کہ اس میں بلاغت باقی نہیں رہتی اور قرآن کے اعجازِ بلاغی کے منافی ہوجاتاہے) ۔
     Answer :
    جواب ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ عصمت خدا کی جانب سے انبیاء اور آئمہ علیھم السلام کے وجود میں ایک امانت ہے جو ایک تقاضے کی صورت میں (علت تامّہ کی صورت میں نہیں) ایک توفیق اور رہنما ہے۔ اس بنا پر ،اختیار ،معصوم کے عمل اور کردار میں مؤثر ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ ایک ایسا انسان جو اطاعت اور ترک گناہ میں مجبور ہو یا اس کی سرشت اور فطرت اس طرح سے ہو ،ایک ایسے انسا ن کے مقابلہ میں جو اختیار اور ارادہ کے ساتھ اطاعت اور ترک گناہ کرے ، کوئی فضیلت نہیں رکھتا ۔اسی وجہ سے ایک انسان کامل جو مطیعِ خداوند ہے ،فرشتوں سے برتر ہے ۔ تفضل اور خدا کے فضل و کرم کے بارے میں ضروری ہے کہ ہم یہ کہیں کہ جو عصمت کے اختیاری ہونے کا قائل ہے وہ ثواب کے مرتّب ہونے کی وجہ سے نہیں ہے کہ آپ اسے تفضل کے ذریعہ سے حل کریں اور یہ کہیں کہ ثواب ، تفضل کی وجہ سے ہے اور تفضل ایک ایسے شخص پر جو عمل کو مجبوراً انجام دیتا ہے ،ممکن ہے ؛لہٰذا ان حضرات کے اعمال کا ثواب رکھنا ،ان افراد کی عصمت کے اختیاری ہونے پر دلیل نہیں ہے بلکہ عقل اختیاری اطاعت کوجبری اطاعت پر فضیلت رکھنے کا حکم دیتی ہے ۔ اور پھر اگر عصمت جبری ہو تو معصومین کا اطاعت کرنا اور ترک گناہ کےفریضہ کا ثواب ساقط بلکہ باطل ہوجائے گا ۔ کیوں کہ اس صورت میں وہ گناہ کو ترک کرنے پر قادر نہیں ہوں گے لیکن ہم یقیناً جانتے ہیں کہ یہ حضرات فرائض اور ذمہ داریاں رکھتے ہیں ، اس بنا پر ان کی عصمت جبری نہیں ہے ۔ اور یہ وہی قرآن کے بیان میں انبیاء کے بارے میں راز ہے کہ جو ظاہراً ان کے معصوم ہونے کے عقیدہ ، چاہے جبری ہو یا اختیاری کے مخالف سامنے آتا ہے ۔ اس اختلاف کو دو دلائل کے ذریعہ سے بیان کیا جاسکتا ہے : پہلی دلیل یہ کہ : غلوّ کے راہ کو ،کہ عام طور پر افراطی پیروکار اس سے دچار ہوتے ہیں ، ختم کردیتا ہے ۔ دوسری یہ کہ : الوہیتِ خدائے متعال میں انبیاء کے شریک ہونے کی نفی پر تاکید کرتا ہے ۔ قرآن میں نقل کی بنا پر یہ انحراف ، گذشتہ ادیان کے پیروکاروں میں پایا جاتا تھا ، اس بنا پر اس مسئلہ سے متعلق آیات ، انبیاء کی طرف ان چیزوں کی نسبت دیتی ہیں جو انسان کی حالت سے مناسبت رکھتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ یہ ارتکابِ گناہ نہیں ہے بلکہ ترکِ اَولیٰ یا ایک مباح فعل ہے جو نبوّت کے مقام سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ قرآن صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ انبیاء دوسرے عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے، راستہ چلتے اور زندگی گذارتے تھے ۔ اس بنا پر تفسیر کے یہ طریقے بلاغتِ قرآنی کا تقاضا کرتے ہیں اور ان سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔
  • QaID :  
  • 11351  
  • QDate :  
  • 2012-03-30  
  • ADate :  
  • 2012-03-30  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔آیۂ : وَ لَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَ کَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْکَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَ لٰکِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَکّاً وَ خَرَّ مُوسَى صَعِقاً فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَيْکَ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ‌ (سورۂ اعراف/۱۴۳) ترجمہ: (تو اس کے بعد جب موسیٰ ہمارا وعدہ پورا کرنے کے لیے آئے اور اُن کے رب نے ان سے کلام کیا تو انہوں نے کہا کہ پروردگار مجھے اپنا جلوہ دکھادے ،ارشاد ہوا تم ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے ہو البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہ گیا تو پھر مجھے دیکھ سکتے ہو ۔اس کے بعد جب پہاڑ پر پروردگار کی تجلّی ہوئی تو پہاڑ چور چور ہوگیا اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گر پڑے پھر جب انہیں ہوش آیا تو کہنے لگے کہ پروردگار تو پاک و پاکیزہ ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں )۔ کے بارے میں ایک شخص کہتا ہے : حضرت موسیٰکا ہی سوال ، واقعی میں تھا ، یعنی وہ نہیں جانتے تھے کہ خدا کو نہیں دیکھا جاسکتا ، کیونکہ حضرت موسیٰ وحی کے ذریعے اس حقیقت سے آگاہ نہیں تھے۔۔۔۔ ہمارے لیے یہ احتمال دینا بعید نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ  کے ذہن سے ذاتِ الٰہی کے بارے میں یہ تفصیلی تصور نہ گذرا ہوں، کیوں کہ ان کے لیے معرفت الٰہی اس حدّ تک نازل نہیں ہوئی تھی ۔خدا کے لیے جسمانیت کے ناممکن ہونے اور اس کے لیے لا مکانی جیسے مسائل سے متعلق فلسفی تحلیل اور تأمّل کے لیے مناسب زمینہ بھی ہموار نہیں تھا ، کیوں کہ یہ مسئلہ حضرت موسیٰ کے سامنے پیش ہی نہیں کیا گیا تھا ۔ اور اسی وجہ سے ہم مکمل طور پر ،نبی کے شخصی افکار میں ایمانی تصوّرات کی تدریجی تکمیل کے مفہوم کو پاتے ہیں۔ ان مسائل سے متعلق اپنی نظر مبارک بیان فرمائیے۔
     Answer :
    جواب۔ اکثر عاقل افراد یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ خداۓ خالق،صانع،عظیم،جبّار کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ خدا وندعالم ،محدود اور محتاج جسم رکھتا ہو۔لہٰذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ جیسے پیغمبر جو اللہ کے اولوالعزم انبیاء میں سے ہے اور جسے خدا نے اس زمانے کے انسانوں کے لیے معلّم اور استاد قرار دیا ، اس مسئلہ کو نہ جانے ۔اس بنیاد پر مذکورہ آیت اور اسی جیسی دوسری آیات میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں : ۱۔ قوم بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے خدا کو دیکھنے کی خواہش کی تھی اور سچ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد سے خدا کی رؤیت کا ناممکن ہونا پوشیدہ تھا اور اس کے علاوہ ان سے اور کیا توقع کی جاسکتی تھی اور ان سے یہی توقع کیوں نہ کی جائے ، جب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ انہوں نے گوسالہ (بچھڑا) پرستی کی یا انہوں نے حضرت موسیٰ سے چاہا کہ وہ بھی بت پرستوں کے خداؤں کی طرح ، ان کو بھی خدا بنا کے دے۔لہٰذا ایسےحضرت موسیٰ کی خدا سے رؤیت کی درخواست ،ممکن ہے اپنی قوم کو جواب دینے اور ان کی حالت کا لحاظ کرتے ہوئے ہو ۔اس مسئلہ سے متعلق بعض تفاسیر میں روایات بھی نقل ہوئی ہیں ۔(تفسیر برہان،جلد ۲ ، صفحہ۳۳ اور ۳۴) ۲۔ ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی اس درخواست کے ذریعہ سے کامل قلبی رؤیت کی درخواست کی ہو نہ کہ بصری رؤیت کی ۔کیونکہ خدا کی معرفت کے بہت سے درجات اور مراتب ہیں ۔ اور حضرت موسیٰ نے اس کے اعلیٰ درجہ یعنی ضروری وجدانی علم کا خدا سے تقاضا کیا ہو۔ ضروری وجدانی علم ، اپنی نفسانی صفات اور حالات سے متعلق آگاہی کی قسم سے ہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے : میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ مجھے فلاں چیز کھانے کی خواہش ہے ،یہ بات واضح ہے کہ اس دیکھنے اور اس مثال : میں زید کو دیکھ رہا ہوں ،یا : میں زید کو شجاع دیکھ رہا ہوں ، میں دیکھنے میں فرق ہے ۔ کیوں کہ زید کی مثال میں دیکھنا حسّی ہے اور خواہش والی مثال میں دیکھنا ایک ضروری وجدانی امر ہے کہ جو شناخت اور آگاہی کے اَعلیٰ درجات میں سے ہے ۔ اور یہی درجہ مولیٰ علی  کی اس قول میں مراد ہے : لَو کشف الغطاء ما ازددت یقیناً۔ اگرمیری آنکھوں کے سامنے سے پردۂ غیب اٹھا لیا جائے تب بھی میرے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ اور اپنے اس یقین کے درجہ پر افتخار کرتے تھے ۔اور یہ معنیٰ ان کے کلام کے سیاق سے معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ آگے چل کر فرماتے ہیں : موسیٰ بن عمران نے خدا سے عرض کیا کہ اے پروردگار اپنا جلوہ دکھا دے۔ صاحب تفسیر المیزان علامہ طباطبائی  نے بھی اسی معنیٰ میں تفسیر کی ہے ۔
  • QaID :  
  • 11324  
  • QDate :  
  • 2012-03-27  
  • ADate :  
  • 2012-03-27  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔درجِ ذیل قول کے بارے میں اپنی نظر بیان فرمائیے اور اسی طرف یہ بات کہنے والے سے متعلق شارع کا حکم کیا ہے ؟ ایک شخص یہ کہتا ہے:اس چیز کا امکان پایا جاتا ہے کہ نبی کسی آیت کو پہنچانے میں خطا کا مرتکب ہو یا کسی آیت کو کسی خاص وقت بُھلا بیٹھے ،لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اپنی خطا کا جبران کرے اور جو چیز بھلا بیٹھا ہے اسکی طرف توجہ دے تاکہ آیت مکمل اور صحیح ہوجائے۔ اس کے بعد علامہ طباطبائیؒ کے اس قول پرکہ تبلیغ رسالت سوائے گناہ سے معصوم ہونے اور خطا و غلطی سے محفوظ ہونے کے مکمل نہیں ہوتی،تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے : بعض اوقات زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کی بنیاد پر یا انفرادی حالات اور شرائط کی وجہ سے اور یا انسان اندرونی یا بیرونی دباؤ میں آکر ایسا کام کر بیٹھتا ہے کہ اس کی اجتماعی موقعیت اور پوزیشن سے (مثلاً تبلیغ ) سے مطابقت نہیں رکھتا ۔لہٰذا ضروری ہے کہ اس کام کو ترک کردے تاکہ وہ اپنی رسالت کی مصلحت جو لوگوں کے لیے بیان کی ہے (نہ اپنی ذاتی مصلحت ) پر عمل کرے ۔ جس طرح سے ہم صالحین، عہد و پیمان پر پورا اترنے والے افراد حتّیٰ کہ نیک افراد کے کردار اور برتاؤ میں دیکھتے ہیں کہ جب ان کے قدم راستہ سے بھٹکتے ہیں تو کیسے برتاؤ کرتے ہیں ۔
     Answer :
    جواب ۔ پیغمبر کے لیے آیت کی تبلیغ میں خطا کا تصور اور فراموشی ممکن نہیں ہے ۔ چونکہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے :وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى‌ ﴿﴾ إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحَى‌﴿النجم‏،۳۔4﴾ اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتے ہیں ؛ ان کا کلام تو وحی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔اور سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسَى‌ ﴿الأعلى‏، 6﴾ ہم عنقریب تمہیں اس طرح پڑہائیں گے کہ بھول نہ سکو گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نبی یا پیغمبر کے ہر قول و فعل اور انفرادی ، اجتماعی اور سیاسی برتاؤ یا رویّہ کا سرچشمۂ وحی الٰہی ہو، اور یہ افراد انفرادی دشمنی میں حتّیٰ دین کی حفاظت کے خاطر بھی ،حالات اور برتاؤ کی بنیاد پر کوئی کام انجام نہیں دیتے سوائے اس کے ، کہ وہ عمل خدا کی جانب سے الہام اور تائید ہوا ہو۔ البتہ بداء کا مسئلہ اس سے جدا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کچھ فرمائیں یا کوئی کام انجام دیں اور لوگ ان کی پیروی کرتے ہوئے اس کام کو ایک جاری حکم کے عنوان سے سمجھیں ، لیکن کچھ وقت گذرنے کے بعد کسی مصلحت کی بنیاد پر خدا کا ارادہ اس کام میں تبدیلی کا ہوجائے ،کہ جسے اصطلاح میں بداء حاصل ہونا کہتے ہیں ۔ نتیجتاً یہ کہ ہدف وسیلہ کی توجیہ نہیں کرتا ، خاص طور پر اگر رسالت کے طریقہ ٔ کار کا مخالف ہو۔ اسی بنیاد پر ،امام علی علیہ السلام ، معاویہ لعنت اللہ علیہ کے شام کی حکومت پر گرچہ کچھ دنوں کے لیے ہی باقی رہنے پر راضی نہ تھے۔ اگرچہ مغیرۃ بن شعبہ اور عبداللہ بن عباس جیسے افراد اس کے والی شام باقی رہنے کے متعلق مشورہ دے رہے تھے کہ جس وقت تک امام حالات پر قابو پائیں اسے گورنری پر باقی رہنے دیں ۔
  • QaID :  
  • 11311  
  • QDate :  
  • 2012-03-26  
  • ADate :  
  • 2012-03-26  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔کیا سورہٗ یوسف کی آیت نمبر ۲۴ وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَ هَمَّ بِهَا اور یقیناً اس عورت(زلیخا)نے ان سے برائی کا ارادہ کیا اور اس (یوسف) نے بھی اس کا ارادہ کیا ۔ کی عبارت وَ هَمَّ بِهَا کی طرف توجہ دیتے ہوئے کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حُسن کی نسبت انسانی نفس کی کمزوری اور زلیخا کی دعوت کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کے احساسات متحرک ہوگئے تھے،لیکن یہ پروردگار کا لطف و کرم اور اس کی دلیل تھی جس نے یوسف کو نجات عطا فرمائی؟
     Answer :
    جواب۔ آیت کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام ، زلیخا کی طرف نفسانی توجہ اور آلودہ رجحان رکھتے تھے کہ خدا کے لطف نے انہیں گناہ سے رہائی عطا فرمائی ہو ۔ اسی آیت میں ہم پڑھتے ہیں : کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَ الْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ‌ ۔﴿يوسف‏، 2۴﴾ لیکن ہم نے اس طرح کا انتظام کیا کہ ان سے برائی اور بد کاری کا رخ موڑ دیں کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے۔اور اسی طرح سے زلیخا کا یہ کہنا: وَ لَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ۔﴿يوسف‏، 32﴾ اور میں نے اسے کھینچنا چاہا تھا کہ یہ بچ کر نکل گیا ۔اور مصری خواتین کا یہ کہنا : مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ ﴿يوسف‏، 51﴾ ہم نے ہرگز ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔، اس بات پر گواہ ہیں ۔اس بنا پر آیت کےمعنیٰ کچھ اس طرح سے ہیں کہ ؛ جو عصمت خدا نے حضرت یوسف کو عطا فرمائی ،اگر وہ نہ ہوتی تو وہ بھی دوسرے عام انسانوں کی طرح اس فریب دینے اور وسوسہ میں مبتلا کرنے والے موقع پر ، زلیخا کی طرف مائل ہوجاتے۔ بعض تفاسیر نے ھمّ بھا کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ زلیخا کی جانب سے گناہ کی دعوت کے اصرار کے مقابلہ میں حضرت یوسف نے اسے قتل کرنے کا ارادہ(ا نتظام) کیا وھمّ بقتلھا ۔آیت نمبر ۵۱ زلیخا کے قول میں حضرت یوسف کی پاکیزگی پر تین روشن گواہیاں آئی ہیں : ۱ ۔ اب حق عیاں ہو گیا۔ ۲۔ میں نے خود اسے اپنی طرف راغب کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ ۳۔اور وہ(یوسف) یقیناً سچوں میں سے ہے۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011