پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Friday 10 July 2020 - الجمعة 17 ذو القعدة 1441 - جمعه 20 4 1399
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 11933  
  • QDate :  
  • 2012-05-31  
  • ADate :  
  • 2012-05-31  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔آپ کی نظر ایسے شخص کے بارے میں جو " شفاعت "کے متعلق درجِ ذیل نظریہ رکھتا ہے ،کیا ہے ؟ (شفاعت کہاں سے وجود میں آتی ہے ؟شفاعت لوگوں کے درمیان ذاتی حالات کا نتیجہ ہے ۔ہم شفاعت کو اسی ذاتی حالت (ایک شخص کے لیے یہ حالت دوسرے شخص کے نذدیک ایک خاص اہمیت کاسبب بنتی ہے )سےحاصل کرتے ہیں۔اسی لیے جب ایک ایسا شخص جو ایک خاص مقام اور ذاتی حالت کا مالک ہے ،ایک ایسے شخص کے پاس آتا ہے جو ایک خاص مقام اور مرتبہ پر فائز ہے ، تو پہلے شخص کی ذاتی حیثیت جو دوسرے کے نذدیک پائی جاتی ہے ،دوسرے شخص پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی نظر کو تبدیل کردیتی ہے ۔ لیکن خداوندعالم کے لیے یہ بات معنیٰ نہیں رکھتی ۔خداتو کسی سے بھی ذاتی تعلقات نہیں رکھتا،کیوں کہ سب چیزیں اس کی مخلوق ہیں ۔اسی لیے یہ بات معنیٰ نہیں رکھتی کہ کوئی اس کے نذدیک دوسرے سے زیادہ مقرب ہو۔ اے انسان یہ تمہاری شان ہے، کہ تمہارا ایک بیٹا زیادہ خوبصورت ،ایک بیٹا زیادہ با فضیلت اور ایک اور بیٹا زیادہ رحم دل اور مہربان ہے۔تو یہ کہتے ہو کہ یہ بیٹا میرے زیادہ نذدیک ہے اور میری زیادہ خدمت کرتا ہے اور مجھ پر زیادہ مہربان ہیں ۔لیکن خدایٔ اعلم،افضل، اقویٰ کی نسبت سب برابر ہیں ۔ وہ خداوند متعال کی ذات ہے جس نے اسے اس درجہ کی زیبائی ،طاقت ،اور علم عطا کیا ہے ۔لہٰذا اگر اس نے کسی کو شفیع قرار دیا ہے تو اپنے اختیار اور ارادہ سے دیا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ اسے ذاتی شفاعت کی قدرت دی ہو۔ یعنی اگر تم یہ کہو کہ اے رسول ِ خدا ،اے امیرالمؤمنین،اے فاطمہ،میری شفاعت کیجیئے ،تو صحیح ہے ،لیکن جب تک خدا ،ان حضرات کو شفیع قرار نہ دے تو نہ پیغمبر نہ امیرالمؤمنین اور نہ ہی فاطمہ شفاعت پر قادر ہوسکتے ہیں ۔لہٰذا جب بھی یہ حضرات شفاعت کرتے ہیں تو یہ شفاعت انکے ذاتی حالات سے وجود میں نہیں آتی ہے ۔ یہ بات کہ فلاں شخص میرے نذدیک ہے ،میرا دوست ہے ،اس نے میرے لیے نذر کی ہے ،یا قربانی کی ہے ،یہ وہ کام ہیں جو ہم اپنے خیال میں انبیاء اور اولیاء کے لیے انجام دیتے ہیں ،اس کا شفاعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ آج ہم حضرت عباس علیہ السلام کے لیے قربانی کریں اور کل قیامت کے دن ہم ان سے کہیں کہ فلاں موضوع کے بارے میں سختی نہ کریں اور درگذر سے کام لیں ۔نہیں اس کی اساس اور بنیاد نہیں پائی جاتی ،(لاَ يَشْفَعُونَ إِلاَّ لِمَنِ ارْتَضَى)﴿الأنبياء، 28﴾ (اوروہ کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے)۔ جب خدا یہ چاہتا ہے کہ کسی کو بخش دے تو وہ،نبی اور امام پر کرم کرتا ہےاور انہیں شفاعت کرنے کا اختیار دیتا ہے ۔اس بنیاد پر یہ حضرات مخلوقات کے لیے خدا ی عزوجلّ تک پہنچنے کا واسطہ نہیں ہیں ،کیوں کہ خدا واسطہ کا محتاج نہیں ہےہمارا یہ سمجھنا کہ ہم خدا سے بات کرنے کے قدرت نہیں رکھتے اور اس سے بات کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ایسی بات ہے جو عرفا اور فلاسفہ سے نقل ہوئی ہے ۔انبیاء اور اولیای بر حق کی پوری کوشش اور مقصد یہ تھا کہ انسانوں کی ہدایت کریں ،اور یہ حضرات خدا اور خلقِ خدا کے درمیا ن واسطہ ہیں (خلق ِ خدا اور خدا کے درمیان واسطہ نہیں ہیں ) اور لوگوں کے لیے ، حامل وحی اور شریعت الٰہی ہیں۔
     Answer :
    جواب۔جب ہم نے قرآنی آیات ،اور متواتر اور متضافر(وہ روایت جو خبر غیر متواتر کا حصّہ ہے جو خود ہی واسطہ کے ساقط ہونے کے باوجود(واسطہ موجود ہونے کی صورت میں )عقلی علم کے لیے فائدہ مند ہے)روایات کی بنیاد پر ،انبیاء ،اوصیاء ،اولیاء اور بعض مؤمنین کے لیے مقامِ شفاعت کو قبول کرلیاتو یہ ضروری ہے کہ ہم یہ بھی تسلیم کریں کہ خداوند تبارک و تعالیٰ،اپنے بعض بندوں کو ان کی خصوصیات اور فضائل کی وجہ سے پسند کرتا ہے اورانہیں شفاعت کرنے کا اَعلیٰ درجہ عنایت فرماتا ہے ، ( وَ لَسَوْفَ يُعْطِيکَ رَبُّکَ فَتَرْضَى‌)﴿الضحى‏، 5﴾ (اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا (شفاعت کا حق )عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔) اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم خدا اور مخلوقات کے درمیان واسطہ ہیں ،جیسا کہ خداوندعالم نے فرمایا ہے : ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ )﴿المائدة، 35﴾ (اور خدا کی بارگاہ میں واسطہ اور شفیع تلاش کرو)۔ اس نبیاد پر صرف نماز اور اسی جیسی دوسری چیزیں وسیلہ نہیں ہیں بلکہ معصومین علیہم السلام بھی واسطہ ہیں ۔ جیسے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے ان سے درخواست کی کہ ( قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا )﴿يوسف‏، 97﴾ (ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں)۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ خدا کے نذدیک مجھے واسطہ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہےاور تم لوگ براہِ راست خدا سے استغفار کرو،بلکہ انہوں نے درخواست قبول کرلی اور کہا: ( قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَکُمْ ) ﴿يوسف‏، 98﴾ (میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا)۔ چونکہ اس بات میں شک نہیں ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام، تمام انبیاء اور اولیاء کی نسبت خدا کےزیادہ نذدیک ہیں ،تو لازمی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آیۂ (وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ) میں" الوسیلہ " سے مراد خاص طور پر یہ بزرگ ہستیاں ہیں ،کیوں کہ خدا وندعالم قرآن کریم میں ارشاد فرمارہا ہے : ( أُولٰئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ) ﴿الإسراء، 57﴾ (جن کو یہ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب تک رسائی کے لیے وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ ان میں کون زیادہ قریب ہوجائے)۔ان شواہد کی روشنی میں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کے لیے شفاعت کرنا ممکن ہے ،کیوں کہ خدا نے یہ مقام انہیں عطا فرمایا ہے ۔خدا نے اپنے بندوں کے درمیان اپنے آپ سے نذدیکی اور دوری کے لحاظ سے فرق نہیں رکھا ہے لیکن صرف اور صرف نیک اعمال ، خدا سے شدید محبت،کثرت ِعبادت،خوف ِخدا اور انہی جیسی خصوصیات کے ذریعہ سے ۔ جو بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ شافعین کی شفاعت ہر ایک کو میسّر نہیں ہوگی بلکہ صرف وہ لوگ جو اپنے بعض اعمال،فضائل اور خصوصیات مثلاً ناپسندیدہ کاموں پر ندامت اور پشیمانی،خدا کی طرف پلٹنے اور خدا اور اس کے اولیاء سے قرب حاصل کرنے کی کوشش وغیرہ ،کی وجہ سے یہ صلاحیت رکھتے ہوں گے کہ اس نجات عطا کرنے والی فرصت اور موقع سے فائدہ اُٹھا سکیں،صرف انہیں ہی شفاعت نصیب ہوگی ۔اسی وجہ سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور آئمہ علیہم السلام کی زیارت،ان حضرات کو عبادت کا ثواب ہدیہ کرنا،ان کے راستہ پر چلنا اور ان کے پیروی کرنا،اہلِ بیت علیہم السلام سے اخلاص اور محبت رکھنا وغیرہ، ان کوششوں میں شامل ہیں جو ان کی شفاعت حاصل کرنے کی شائستگی اور صلاحیت پیدا کرتی ہیں ۔ یہ بات صحیح ہے کہ خدا کی نسبت اس کی تمام مخلوقات ،اس لحاظ سے کہ اس کی مخلوق ہیں ،برابر ہیں ،کیوں کہ خالق اور مخلوق کے درمیان دوسرا کوئی اور رابطہ مثلاًرشتہ داری وغیرہ نہیں پایا جاتا ،لیکن خود خدا نے بعض افراد کو بعض پر برتری عنایت فرمائی ہے،جیسے انسانوں میں بعض خاص فضائل مثلاً کمال ِعقل کے لحاظ سے،فضیلت عطا کی ہے ۔( إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَ نُوحاً وَ آلَ إِبْرَاهِيمَ وَ آلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ‌)﴿آل‏عمران‏، 33﴾ (بے شک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالمین پر برگزیدہ فرمایا ہے)۔ شیعہ اور سنی روایتوں میں آیا ہے کہ عام انسانوں کے مقابلہ میں انبیاء ،اوصیاء اور آئمہ علیہم السلام کی منزلت اور درجات ،غیر قابل ِ تردید،بلند و برتر اور عالی تر ہے ۔لہٰذا نتیجہ میں سب کی برابری ممکن نہیں ہے کیوں کہ خدا نے خود ہی بعض کو بعض پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی ہے اور کچھ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ پسند فرماتا اور دوست رکھتا ہے ۔ یہ بات روشن اور واضح ہے کہ مؤمن اور کافر،مطیع اور گناہگاراس کے نذدیک برابر نہیں ہیں ۔اسی وجہ سے ان افراد کو جو اس کے نذدیک برتر، عزیز تراور عالی تر ہیں، انہیں عالی درجات اور مقامات ،من جملہ مقامِ شفاعت ،عطا فرماتا ہے ۔ کیوں کہ وہ "ارحم الراحمین "ہے لہٰذا گناہ گاروں کی عفو و بخشش کو پسند کرتا ہے اور انکی توبہ اور ندامت کے اظہار کی وجہ سے ان سے درگذر فرماتا ہے ،اسی طریقہ سے (ان کی شائستگی اور صلاحیت کی وجہ سے ) شافعین کی شفاعت کے ذریعہ انہیں بخش دیتا ہے ۔ لیکن یہ کہ خدا واسطہ کا محتاج نہیں ہے اور اس کے تمام بندے اس سے گفتگو اور اس کی طرف توجہ کی نعمت سے بہرہ مند ہیں ،صحیح ہے لیکن بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی وجہ سے (انہی میں سے اپنے برگزیدہ بندوں کے مقام اور منزلت کو ظاہر کرنے کے لیے ) اس نے اپنے بعض بندوں کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان واسطہ قرار دیا ہے ۔اور حکم دیا ہے کہ اُس کی عظیم بارگاہ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ،ان بزرگ ہستیوں کے ذریعہ سے مانگیں ، ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ )﴿المائدة، 35﴾ (اور خدا کی بارگاہ میں واسطہ اور شفیع تلاش کرو)۔ اس بنیاد پر جس طرح سے یہ حضرات خدا کے دستور اور احکام کو بیان کرنے کے لیے خدا اور لوگوں کے درمیں واسطہ ہیں ،اس طرح سے اس کی رحمت ،مغفرت اور لطف حاصل کرنے کے لیے بھی لوگوں اور خدا کے درمیان واسطہ ہیں ۔ شفاعت کے مسئلہ کو ثابت کرنا ،اس کی کیفیت اور اس کے شرائط کے متعلق بحث ، تفصیلی ہے کہ جس کی گنجائش یہاں پر نہیں ہے ۔
  • QaID :  
  • 11921  
  • QDate :  
  • 2012-05-29  
  • ADate :  
  • 2012-05-29  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔اس عقیدہ کے بارے میں شارع ِ مقدس کی رائے کیا ہے ؟ (قرآنی آیات کا ظاہر ،نبی اور معصومین کے لیے علم ذاتی کی حتیٰ تبعیت اور پیروی کی شکل میں بھی نفی کرتا ہے ۔اس معنیٰ میں کہ خداوندعالم نے اپنی قدرت سے پیغمبر کی ذات میں ،علم غیب کو قرار دیا ہو،جس طرح سے دوسرے تمام ملکا ت اور کمالات انہیں عطا فرمائے ہیں ۔بلکہ پیغمبر کے علم غیب رکھنے سے مراد یہ ہے کہ انہی خاص موارد اور مواقع پر علم غیب رکھنا ہے کہ جہاں پیغمبر کو اس کی ضرورت ہو اور وحی کےذریعہ اسے عطا کیا جائے)۔
     Answer :
    جواب ۔ ظاہر ِ آیات یہ ہے کہ علمِ غیب خداوندتبارک و تعالیٰ سے مخصوص ہے لیکن کسی بھی رسول اور امام کے لیے جب خدا کی مرضی ہو تو اس علم کو ظاہر کردیتا ہے ۔ لہٰذا جس طرح سے خداوند عالم ذاتاً یا بالذات ،عالم غیب ہے پیغمبر اور آئمّہ بالعرض ،غیب سے آگاہی حاصل کرتے ہیں ،لیکن یہ کہ کیا تمام علوم غیبی کو جانتے ہیں ،ثابت نہیں ہے ،بلکہ اس کا برعکس سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خداوندعالم نے ان علوم میں سے بعض کو اپنے آپ سے مخصوص قرار دیا ہے اور کسی کو بھی اس سے مطلع نہیں کرتا۔ لیکن کیوں کہ پیغمبر اور آئمہ اشرف المخلوقات ہیں اس فضیلت اور ان حضرات کے عالی مرتبہ کی وجہ سے ،خداوندعالم اکثر علوم غیبی کو ان کے اختیار میں قرار دیتا ہے :( قُلْ کَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَ بَيْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌)﴿الرعد، 43﴾( کہہ دیجئے : میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں)۔ صحیح تفاسیرِ اور روایاتِ متضافر کی مطابق جس کے پاس کتاب کا علم ہے ،اس سے مراد حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام ہیں ۔ آپ کی عظمت اور وسیع علم اس وقت پوری طرح سے ظاہر ہوتا ہے جب اس کا موازنہ آصف ابن برخیا سے کیا جائے ۔آصف نے صرف علم الکتاب میں سے کچھ حصّہ سے فائدہ اٹھایا تھا تو وہ اس سے ایک حیرت انگیز کام یعنی تخت بلقیس کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کرنے میں کامیاب ہوسکے ۔ جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام ،اس آیت کی تعبیر کی بنیاد پر ،تمام علم الکتاب کو رکھتے ہیں ۔ آئمّہ علیہم السلام کا علم غیب رکھنا صرف ان مقامات تک محدود نہیں ہے جب انہیں اس کی ضرورت ہو یا وہ کسی مشکل میں مبتلا ہو ں اور کس طرح سے محدود ہوسکتا ہے جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے لوگوں کے درمیان یہ اعلان کیا :( سلونی قبل ان تفقدونی)جو بھی چاہتے ہو مجھ سے پوچھو،اس سے پہلے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں ۔ آپ کا یہ جملہ کیا بے انتہا علم جو اس سمندر کی طرح ہے جس میں مسلسل جوش ہو اور اس میں ٹھہراؤ نہ آئے ،اس پر دلالت نہیں کررہا؟
  • QaID :  
  • 11912  
  • QDate :  
  • 2012-05-28  
  • ADate :  
  • 2012-05-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔کتاب شریف کافی (جلد نمبر ۱/کتاب الحجۃ،باب:أن الآئمۃلم یفعلوا شیئاً و لا یفعلون اِلّا بعد اللہ)میں آیا ہے کہ آئمّہ علیہم السلام کتابِ" مختوم یا خواتیم " کو ایک دوسرے سے ارث میں لیتے ہیں ۔ہر ایک امام اس کتاب کو کھولتا ہے اور جو کچھ اس سے متعلق اس کتاب میں لکھا ہے ،اس سے آگاہی حاصل کرتا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اسے کھولا اور اس میں دیکھا کہ لکھا ہے ، جنگ کرو، قتل کرو اور قتل ہوجاؤ اور ایک گروہ کو شہادت کے لیے اپنے ساتھ لے کر باہر نکلو کہ جو ہرگز بھی تمہارے ساتھ کے علاوہ شہادت کی منزلت پر نہیں پہنچ سکتا ،اور آپ امام علیہ السلام نے ایسا ہی کیا (اور روز عاشورہ واقعۂ کربلا وجود میں آیا)۔ حضرت زین العابدین علیہ السلام نے اسے کھولا ،دیکھا کہ اس میں لکھا ہے،خاموشی اختیار کرو اور سر کو جھکائے رکھو۔ امام باقر علیہ السلام نے اس کی پانچویں مہر کو کھولا ،دیکھا کہ اس میں ہے کہ کتاب خدا کی تفسیر بیان کرو ،اپنے والد کی امامت کی تصدیق کرو اور امامت کی میراث کو اپنے فرزند کو دو۔۔۔۔ اس بنا پر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ہر امام کے فیصلے اور اپنی ذمّہ داری کا تعیّن کرنا اپنی امامت کے زمانے کے شرائط ،ضروریات اور مصلحتوں کے لحاظ سے تھا ؟ بلکہ ہر امام کی سیرۃ پہلے سے معیّن تھی اور اس میں ان حضرات کا عمل دخل اور خلّاقیت نہیں تھی ۔ان سب چیزوں کے ساتھ تاریخ ِ آئمّہ علیہم السلام کی تحلیل اور سیرۃ آئمّہ سے نظریات کا اخذ کرنا اور اسلامی مفکّرین کا مختلف افکار کو حاصل کرنا کیا حیثیت رکھتا ہے ؟
     Answer :
    جواب: جو چیز روایات سے روشن ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر امام کے لیے خدا کی طرف سے ایک کتاب اور عہد ہے کہ جس میں اس امام کے لیے اجمالی طور پر ،سیاست ،طریقۂ کار اور حکمت عملی کو بیان کیا گیا ہے ۔لہٰذا یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب میں تمام خصوصیات ،حالات اور مواضع شامل ہیں ،شاید کلّی اصولوں کو امام کے لیے معیّن کیا گیا ہواور امام ان اصولوں کو مصادیق اور حالات اور شرائط سے تطبیق دینے میں مخیّر اور صاحب ِ اختیار ہوں ،ا س احتمال کی بنیاد پر اندیشمندوں کا تحلیل کرنا اس بات پر ناظر ہے کہ آئمہ علیہم السلام نے کونسے راستہ کا انتخاب کیا اور کونسا منہج اپنایا۔ جیسا کہ خود آئمہ علیہم السلام کی جانب سے کی گئی توجیہ اور تعلیل سے جو انہوں نے اپنے کردار اور طریقہ کے انتخاب کے بارے میں کی ہے یہ بات روشن ہے۔مثال کے طور پر جو کچھ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے متعلق،امام رضا علیہ السلام کے ولایت عہدی کو قبول کرنے کے بارے میں اور یا امام حسین علیہ السلام کا وہ کلام جس میں آپ نے فرمایا :" میں نے اپنے جدّ کی امّت کی اصلاح کے خاطر قیام کیا ہے "بیان ہوا ہے ۔ اور پھر اگر یہ فرض بھی کیا جائے کہ ان امور سے متعلق جزئیات اور تفصیلات اور ان کے اعمال لکھے ہوئے بھی ہوں اور خدا وندعالم کی جانب سے مکلّف بھی ہوں تو بھی صاحبان ِ نظر کی تجزیہ اور تحلیلات اسی حکمت الٰہی کی طرف معطوف ہیں اور یہ کہ خدا وندعالم نے کس دلیل اور حکمت کی بنیاد پر آئمہ علیہم السلام کو اس مقام اور اس سے متعلق امور کا حکم دیا ہے ۔ اس بنا پر یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اندیشمند حضرات اور دانشور ،سیرۃ معصومین علیہم السلام کی حقیقی وجوہات اور حکمت و مصلحت تک پہنچ پائے ہیں بلکہ ان کی تحلیلات اور تجزیہ اس سمجھ بوجھ کی بنیاد پر ہے جو ممکن ہے کبھی واقعیت اور حقیقت کے مطابق ہو اور کبھی اس کے مطابق نہ ہو۔ اصولی طور پر یہ کہنا درست ہے کہ جب آئمہ علیہم السلام کو ئی کام انجام دیتے ہیں اور کوئی طریقہ یا روش اپناتے ہیں ،اس کے باوجود کہ ہم ان کے افعال کی تعلیل اور تفسیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ،ضروری ہے کہ تعبّداً اسے قبول کریں ۔جس طرح سے ہم بعض عبادی احکام کی علّت کو نہیں جانتے لیکن اس کی شریعت کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ،کیوں کہ مجموعی طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ اس حکم کے پیچھے ایک مصلحت اور حکمت پوشیدہ ہے لیکن ہم اس سے آگاہی نہیں رکھتے ۔مثلاً ہم نماز مغرب کے تین رکعتی ہونےاور نماز عشاء کے چار رکعتی ہونے کے فلسفہ کو نہیں جانتے ،لیکن محض اس لیے کہ ہم نہیں جانتے اسے ترک نہیں کرتے ۔
  • QaID :  
  • 11837  
  • QDate :  
  • 2012-05-19  
  • ADate :  
  • 2012-05-19  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ہمارے اساتذہ میں سے بعض افراد کہ جن میں شیخ۔۔۔ بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ معصومین علیہم السلام کے لیے ولایت شرعی ثابت ہے ۔ ان ہی اساتذہ میں سے کچھ افراد سے مناقشہ میں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ افراد اس ولایت کے جو خداوند عالم نے آیۂ إِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَ هُمْ رَاکِعُونَ‌ ﴿المائدة، 55﴾ (تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں)۔میں معصومین علیہم السلام کو عطا کی ہے ،اس کے قائل نہیں ہیں ۔ اس آیت اور اسی جیسی دوسری آیا ت کی بنیاد پر ، جو امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں ،آئمّہ علیہم السلام حاکم ، ولی امریا سلطان اور مسلمانوں کے حاکم ہیں ۔اور اسی وجہ سے ان کے حکم کی اطاعت ضروری و قطعی اور واجب العمل ہے ،اور یہ وہی چیز ہے جسے امام خمینیؒ نے اپنی کتاب"تہذیب الاصول" میں رسول اعظم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے تین فرائض میں سے دوسرے فریضہ کے عنوان سے شمار کیا ہے ،اور وہ تبلیغ وحی اور رسالت کے بعد حکومت کو پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی ذمّہ داری جانتے ہیں ۔ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے تمام اوامر جب تک کہ ان میں تشریع کے لیے وحی نہ پائی جائے ،اسی طرح سے ہیں۔ اس بات سے ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم شریعت کو وضع یا رفع کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور یقیناً یہ سب کام شارع مقدّس (جلّ و علا ) کی جانب سے ہیں ۔ لیکن رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے اوامر اور احکامات ،اوامر ِ حکومتی ہیں کہ جو معصوم کے لیے اور ضرورت کے وقت ،ان کو قبول کرنا یا نسخ کرنا ممکن ہے ۔( تہذیب الاصول،جلد۲،صفحہ۴۸۱ سے ۴۸۳،تشریع قاعدۂ لاضرر،آیت اللہ سبحانی کے توسط سے امام خمینیؒ کے دروس کی تقریرات میں ہے) ،(اعلم ان للنبی الاکرم،مقامات ثلاثۃ؛ الاول:النبوۃ والرسالۃ۔۔۔،الثانی:الحکومۃ والسلطنۃ۔۔۔،الثالث:مقام القضاء وفصل الخصومۃ)۔ لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ دانش مند حضرات کا ایک گروہ ،معصوم علیہ السلام کے لیے ولایت تشریعی کو ثابت یا ردّ کرتا ہے ۔لہٰذا کیا معصوم استقلالی یا غیر استقلالی طور پر حکم شرعی کو بنانے یا جاری حکم کو منسوخ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں ؟ جنابِ عالی اس بات کو ردّ کرنے کے لیے کیا فرماتے ہیں ؟
     Answer :
    جواب۔ جو کچھ بھی رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے وہ خداوند عالم کے حکم کو کشف کرتا ہے جس طرح سے آیت میں ہے : وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى‌ ﴿النجم‏، 3﴾ إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحَى‌ ﴿النجم‏، 4﴾ (وہ خواہش سے نہیں بولتا۔ یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو (اس پر) نازل کی جاتی ہے)۔ لہٰذا کبھی رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا قول گذشتہ حکم کے لیے ناسخ ہے اس معنیٰ میں کہ حکم ِ سابق ،معیّن زمانے کے لیے محدود تھا (خاص وقت سے متعلق تھا )اور رسول صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا یہ دوسرا قول حکم خدا کو کشف کررہا ہے ۔یہ مسئلہ دوسرے معصومین کے لیے بھی اسی طرح سے ہے لہٰذا ان کے قول پر عمل کرنا واجب ہے ،جس طریقہ سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے قول کو قبول کرنا واجب ہے اور جیسا کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا فرمان احکام گذشتہ کے لیے ناسخ ہے ،عمومات کے لیے مخصّص اور اطلاقات کے لیے مقید ہے ،امام کا حکم بھی ،اس طرح سے ہے ۔
  • QaID :  
  • 11815  
  • QDate :  
  • 2012-05-16  
  • ADate :  
  • 2012-05-16  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ مندرجۂ ذیل خیالات کے بارے میں آپ کی نظر مبارک کیا ہے؟ "میں ولایت تکوینی کا قائل نہیں ہوں کیوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پورا قرآن ولایت تکوینی کے وجود نہ رکھنے پر دلالت کررہا ہے ،قرآن اس بات پر تاکید کررہا ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کسی چیز کے مالک نہیں ہیں مگر یہ کہ خدا نے عارضی طور ان کے اختیار میں دی ہو،یعنی وہ ارادہ کرتا ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اس چیز میں تصرف کریں تو وہ کرتے ہیں ۔ لہٰذا ،انبیاء اس چیز کا اختیار نہیں رکھتے کہ لوگ جس چیز کا بھی ان سے مطالبہ کریں تو وہ اسے پورا کریں کیوں کہ اگر وہ ولایت تکوینی کے مالک ہوتے تو ہر لمحہ اس بات کا امکان موجود تھا کہ کہ وہ لوگوں کے مطالبات کو مان لیں اور ان پر عمل کریں ۔لیکن ولایت تکوینی نہ ہی ان کی شان کے مطابق ہے اور نہ ہی ان کے اختیار میں ،کیونکہ خدای واحد ہی وہ خدا ہے جو نظام ہستی کو چلانے میں ،صاحب ِ ولایت خالقیت اور فعلیت (توحید خالقیت اور توحید افعالی) ہےاور اس کی کسی بھی مخلوق ،نظام ہستی کو چلانے میں حصّہ دار نہیں ہے ۔ اب اگر ہم اس بات کو قبول کرلیں کہ انبیاء کسی بھی مقام پر اور کسی بھی وقت(یہاں تک کہ دشمنوں سے مقابلہ کے وقت اور مقام اعجاز میں مخالفین کی للکار اور چیلنج کے وقت) ولایت تکوینی کا استعمال نہیں کرسکتے ،مگر یہ کہ خدا کا اذن اور اجازت رکھتے ہوں ،لہٰذا ایسی ولایت جو صاحب ِ ولایت کے لیے حتیٰ انفرادی ضرر کو دور کرنے کے لیے اور خطرات کے مقابلہ میں حمایت کرنے میں بھی کام نہ آئے اور اس کا استعمال نہ کرسکے ،تو ایسی ولایت کس کام کی؟"
     Answer :
    جواب۔ولایت تکوینی کا قائل اس بات کا دعویدارنہیں ہے کہ انبیاء اور آئمّہ علیہم السلام نظام ہستی میں ،خدا کی مشیت ، اس کے ارادہ سے علیحدہ اور استقلالی طور پر اور اپنی ذاتی قدرت کے ذریعہ ،تصرف کرتےہیں ۔جہاں پر بھی قرآن میں کوئی آیت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ یہ حضرات کسی چیز میں تصرف نہیں کرتے تو اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کے ارادہ ،اس کی مرضی اور اس کی قدرت کے علاوہ ،تصرف کا حق نہیں رکھتے ۔لیکن خدا کی عطا کی ہوئی وہ قدرت جو اس نے ان حضرات کے وجود میں رکھی ہے (خدا کے ارادہ سے نہ کہ مستقل طور پر ) کائنات میں تصرف کرنے میں اس قدرت کا استعمال میں، کوئی مانع اوررکاوٹ نہیں پائی جاتی ۔اور یہ سب اس طرح سے ہے کہ جب یہ ہستیاں ،کسی چیز سے کہتی ہیں کہ وجود میں آجا ،تو وہ چیز خدا کے ارادہ سے وجود میں آجاتی ہے ۔ کون ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا وند متعال نظام ہستی کو بغیر واسطہ اور اسباب اور انسانی تدبیر کے چلارہا ہے ؟ جبکہ وہ خود فرمارہا ہے :فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْراً ﴿النازعات‏، 5﴾(پھر امر کی تدبیر کرنے والوں کی قسم)۔ حق بات یہ ہے کہ خدا وند عالم نے علیت کے نظام علیت کو، نظام ہستی میں بہت سی چیزوں کے وجود میں آنے یا جاری ہونے کے لیے وسیلہ قرار دیا ہے ،اسی وجہ سے خدا وند عالم یہ نہیں چاہتا کہ کاموں کو ان کے اسباب کے علاوہ انجام دے ۔(ابی اللہ أن یجری الامور اِلّا بأسبابھا )۔ قرآنی آیات ،روایات اور تاریخی واقعات سے متعلق تحقیقات انجام دینے والے افراد معجزات اور غیر معمولی واقعات کی ایسی بہت سی مثالیں پاتے ہیں کہ جو انبیاء اور اوصیاء کے ہاتھوں اور ان کی قدرت اور ارادہ سے (البتہ خدا کے ارادہ اور مشیت کے راستہ اور سیدھ میں ) رونما ہوئی ہیں ۔اور ان سب امور کا انجام پانا اس طریقہ سے ہے کہ دوسرے افراد ان کاموں کو انجام دینے پر قادر نہیں دے ہیں ، جیسا کہ مُردوں کو زندہ کرنا ،نابینا اور برص میں مبتلا افراد کو شفا دینے کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلامکی طرف دی گئی ہے ، وَ تُبْرِئُ الْأَکْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَ إِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي﴿المائدة، 110﴾(اور تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہماری اجازت سے صحتیاب کر دیتے تھے اور ہماری اجازت سے مردوں کو زندہ کر لیا کرتے تھے۔۔۔)۔اور اسی طرح سے مُلک ِسبا کی ملکہ بلقیس کے تخت کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں لانےکی نسبت آصف ابن برخیا کی طرف دی گئی ہے ، أَنَا آتِيکَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْکَ طَرْفُکَ ﴿النمل‏، 40﴾(میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کر دیتا ہوں )۔ یہ بات مدّ نظر رہے کہ کسی اور کی طرف کسی کام کی نسبت دینا ،اس بات کو بیان کررہا ہے کہ وہ شخص ،اس کام کے لیے فاعل حقیقی ہے اور یہ کام اس کی قدرت اور طاقت سے انجام پایا ہے ۔ہاں یہ بات درست ہے کہ یہ کام خدا کے اذن اور اس قدرت اور طاقت سے جو اسے خدا نے عطا کی ہے وقوع پذیر ہوا ہے ،لیکن یہ اس معنیٰ میں نہیں ہے کہ مثال کے طور پر حضرت عیسیٰ نے خدا سے درخواست کی اور خدا نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے مردہ کو زندہ کیا ہو ۔اگر یہ سمجھا جائے تو پوری طرح سے ظاہر آیت کے خلاف ہے ۔ لیکن کیوں ؟ !انبیاء اور اوصیاءاس ولایت کو اپنی زندگی کی حفاظت اور خطرات سے مقابلہ کے لیے استعمال نہیں کرتے ،روشن اور واضح ہے ،کیوں کہ یہ افراد ولایت تکوینی کا استعمال نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا ان سے چاہے اور اس کی اجازت دے ، بَلْ عِبَادٌ مُکْرَمُونَ‌ ﴿الأنبياء، 26﴾لاَ يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ‌ ﴿الأنبياء، 27﴾(بلکہ یہ تو اللہ کے محترم بندے ہیں۔وہ تو اللہ (کے حکم) سے پہلے بات (بھی) نہیں کرتے اور اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں)۔اور اسی طرح فرماتا ہے : وَ مَا تَشَاءُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ‌ ﴿التكوير، 29﴾ (اور تم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے مگریہ کہ عالمین کا پروردگار خدا چاہے)۔
  • QaID :  
  • 11797  
  • QDate :  
  • 2012-05-13  
  • ADate :  
  • 2012-05-13  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ اگر خداوندعالم نے احکام شرعی کو صادر کرنے اور مخلوقات سے متعلق امور میں تصرف کے حق آئمہ علیہم السلام کو عطا کیا ہے تو اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کہ یہ حضرات خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ تمام کام اور اختیارات خدا کی جانب سے ہیں اور اسی نے انہیں یہ سب چیزیں عطا کی ہیں ، تو اس صورت میں آئمہ علیہم السلام کی ولایت تکوینی کے معنیٰ کیا ہونگے؟
     Answer :
    جواب۔ آئمہ علیہم السلام اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ تکوینی امور جیسے خلق کرنے ، موت دینے ،زندہ کرنے اور بیماروں کو شفاء عطا کرنے جیسے کاموں میں خدا تعالیٰ کے اذن اور اس کی قدرت سے تصرّف کریں اور براہِ راست ان کاموں کا انجام دینا خدا کے ارادہ ،اس کی مرضی اور اس کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔اس بات میں مانع ِعقلی نہیں پایا جاتا اور نقلی لحاظ سے بھی آیات اور روایات سے یہ مطلب ثابت ہے ۔ انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی ولایت تکوینی پر بہترین شاہد وہی آیات ہیں جو گذشتہ سوالوں کے جوابات میں ذکر کی گئی ہیں ،انہی آیات میں سے سورۂ مائدہ کی ۱۱۰ویں آیت ہے جو پرندہ کی خلقت کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دے رہی ہے ۔ اسی طریقہ سے سورۂ نمل کی چالیسویں آیت، مُلک سبا کی ملکہ (بلقیس ) کے تخت کو ایک پلک جھپکنے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں لانے کو آصف برخیا کی قدرت میں جانتی ہے ۔ اگر آصف برخیا ،آیت کے بیان کے مطابق علم کتاب الٰہی سے فائدہ اُٹھانے والے کے عنوان سے اس طرح کا تصرف کرسکتے ہیں تو کس طریقہ سے آئمہ اطہار علیہم السلام کہ جن کے پاس تمام علوم اور بطون کتاب الٰہی ہیں یہ حضرات اور قرآن ِ ناطق بھی ہیں ،وہ اس طرح کے تصرف کی قدرت نہ رکھتے ہوں ؟ اس بارے میں سورۂ رعد کی آخری آیت کی عبارت ( وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌) کہ جو امیر المؤمنین علیہ السلام کے وجود مبارک سے تفسیر ہوئی ہے ، توجہ فرمائیں : (وَ يَقُولُ الَّذِينَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلاً قُلْ کَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَ بَيْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌)﴿الرعد، 43﴾ ( اور کافر کہتے ہیں : کہ آپ رسول نہیں ہیں ، کہہ دیجئے : میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں)۔ آصف برخیا کے بارے میں کہا گیا ہے : (الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتَابِ)﴿النمل‏، 40﴾) جس کے پاس کتاب میں سے کچھ علم تھا (۔اس آیت میں ذکر ہورہا ہے کہ جس کے پاس کتاب کے علم میں سے تھوڑا سا علم ہے جبکہ گذشتہ آیت میں فرمارہا ہے کہ وہ جس کے پاس کتاب کا پورا علم ہے۔ یہاں پر فرق کو سمجھنے کے لیے اور زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔
  • QaID :  
  • 11782  
  • QDate :  
  • 2012-05-11  
  • ADate :  
  • 2012-05-11  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ آیۂ شریفہ(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْکُمْ)﴿النساء، 59﴾ (اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو)۔ کیا شیعہ علماء کی نظر میں " اولوالامر "سے مراد یہ ہے کہ بارہ امام علیہم السلام معصوم ہیں ۔اگر کوئی شخص اس نظریہ پراعتراض کرے اور یہ کہے ، جو ذیل میں بیان کیا جائے گا ، تو آپ کی نظر ایسے شخص کے بارے میں کیا ہے ؟ انتقاد : اطاعت کا حکم ،لازمی طور پر اس فرد کی عصمت کو بیان نہیں کررہا ہے جس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ۔شاید یہ حکم ،جس شخص کی اطاعت کا حکم دے رہا ہے اس کے قول کی حجیّت پر تاکید کرنے کے لیے آیا ہو،نہ کہ اس کی عصمت پر دلالت کرنے کے لیے ۔ جس طرح سے ہم اس مسئلہ کا مشاہدہ ،حکم کے کشف کرنے کے بہت سے طریقوں میں کرتے ہیں ۔جبکہ ہم یقین نہیں حاصل کرسکتے کہ یہ طریقے ،صرف اور صرف حقیقت (حکم حقیقی) تک پہنچاتے ہیں ۔خدا اوراس کے رسول نے ان طریقوں کے مطابق عمل کرنے اور اس کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔بہت سی ایسی روایات جو فقہاء کی پیروی پر دلالت کرتی ہیں ،وہ بھی اسی طرح کی ہیں ۔ کیوں کہ کبھی فقہاء شرعی حکم کی تشخیص میں واقعیت تک پہنچ پاتے ہیں اور کبھی خطا کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن ان حضرات کی پیروی کے نتیجہ میں مثبت نتائج یعنی مقلدین کے عمل کا صحیح ہونا اور ان کی پیروی نہ کرنے کی صورت میں منفی نتائج یعنی مقلدین کے عمل کا غیر صحیح ہونا ،قرار دیا گیا ہے ۔ اس بنیاد پر ہم اطاعت کے حکم کو اس معنیٰ میں نہیں لے سکتے کہ "اولوالامر " سے مراد معصومین ہیں ۔اور اسی طریقہ سے وہ احادیث جو اس بارے میں آئی ہیں ،اس معنیٰ سے دور ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ عصمت کے وسیع مفہوم کے لازمی معنیٰ کے ساتھ (نہ صرف انبیاء اور آئمّہ کے لیے بلکہ ان کے علاوہ دوسرے افراد کے لیے بھی ) ان احادیث کے بھی ساتھ ہوجائیں جو صراحت کے ساتھ آئمہ ٔ معصومین کے اولی الامر ہونے کو بیان کررہی ہیں ۔ہمارا، اس طریقہ سے اس بات کو سمجھنا بالکل ویسے ہی ہے جو آئمّہ کی احادیث میں استعمال ہوا ہے ،جس طرح سے ایک آیت کی تفسیر کے لیے ،اس کے مصادیق پر تطبیق سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اور آیات کی تفسیر کرنے کا یہ طریقہ ،قرآن کریم کے فکری اور عملی میدانوں میں اس مسلسل تعلق سے ہے جو بشریت کی پوری زندگی میں پھیلا ہوا ہے ۔
     Answer :
    جواب۔ وہ روایات جو اس معنیٰ پر دلالت کررہی ہیں کہ اس آیۂ مبارکہ میں "اولوالامر " سے مراد معصومین ہیں ،اولی الامر کے معصومین کی ذوات میں منحصر ہونے کو بھی صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں لہٰذا ،اگر معصومین علیہم السلام پر اولی الامر کے اطلاق ہونے کو باب جری اور تطبیق سے جانیں تو گویا ہمارا یہ کام " اجتھاد کے مقابلہ میں نصّ سے مشابہ ہوگا ۔ آیت کا سیاق بھی "اولی الامر" کے معصومین کی ذوات میں منحصر ہونے کو بیان کررہا ہے کیوں کہ ان کی اطاعت سے مراد وہی اطاعت ہے جو خدا اور رسول کی نسبت واجب ہوئی ہے ۔ لہٰذا یہ جو کہا گیا ہے کہ ،یہ تطبیق کے باب سے ہے "اجتہاد کے مقابلہ میں نص" سے شباہت رکھتا ہے ۔ اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ مطاع یعنی جس کی اطاعت کی جارہی ہے وہ خدا اور رسول ہی سے مطابقت رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ اطاعت کا حکم ہر لحاظ سے مطلق ہے اور ایسے شخص کی مکمل اطاعت کا حکم جو پوری طرح سے جو گناہ اور خطا سے محفوظ نہ ہو ،شدّت کے ساتھ غیر پسندیدہ ہے ۔ہاں یہ ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں فقیہ عادل کی اطاعت یعنی فقیہ کی صلاحیت کے مطابق ،کاحکم دیا جائے ، اس صورت میں اگر ہم اس کی ایک مستند خطا اور اس کے حکم کے برخلاف حاکم شرع کی دلیل کو پالیں تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہوگی۔
  • QaID :  
  • 11717  
  • QDate :  
  • 2012-05-05  
  • ADate :  
  • 2012-05-05  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ اگر کوئی اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ آئمہ علیہم السلام ایسے مقام پر فائز ہیں کہ جہاں پر کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی نبی مرسل نہیں پہنچ سکتا ، تو کیا یہ غلو اور نتیجتاً سورۂ مائدہ کی ۶۴ ویں آیت میں لعن کیے گئے افراد میں شامل نہیں ہے؟ جو یہ فرمارہی ہے : وَ قَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَ لُعِنُوا بِمَا قَالُوا ﴿المائدة، 64﴾ ( اور یہودی کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں جب کہ اصل میں ان ہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور یہ اپنے قول کی بنا پر ملعون ہیں)۔
     Answer :
    جواب۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ خدا وند متعال نے، انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کو ایسی قدرت عطا فرمائی ہے کہ یہ حضرات مختلف موجودات کو خلق کرسکیں ،رزق و روزی دے سکیں ، عالَم غیب کا علم رکھتے ہوں یا اسی جیسے دوسرے کاموں پر قادر ہوں ،اور یہ سب اس طرح سے ہوکہ خداوند عالم ان حضرات سے اس قدرت کو سلب کرنے پر قادر ہو، غلو اور ممنوعہ تفویض نہیں ہے (کہ جس پر یہودی عقیدہ رکھتے ہیں) اور آیۂ شریفہ میں لعنت کے موارد اور مقامات میں سے بھی شامل نہیں ہے ، کیوں کہ یہودی اس بات پر عقیدہ رکھتے تھے کہ خداوند عالم نے حضرت عزیر علیہ السلام کو خلق کرنے کی قدرت عطا فرمائی ہے اور اپنے ہاتھوں کو ،حضرت عزیر سے اس قدرت کو سلب کرنے سے ایسا باندھ لیا ہے کہ وہ خود بھی حضرت عزیر کی مرضی کے خلاف تصرّف نہیں کرسکتا ۔اور یقیناً یہ عین کفر ہے ۔ لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء اور اماموں کو غیر معمولی کام کرنے کی قدرت (جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے ) عطا فرمائی ہے ، یہ قدرت اس طرح سے ہے کہ یہ حضرات ہر لحظہ ،خدا کے ارادہ ،ا س کی قدرت سے مدد حاصل کرنے اور اس کے فیض و کرم کے محتاج ہیں ۔ اور یقیناً جب بھی مصلحت نہ ہو تو خدا ان کے تصرف اور اختیار کو واپس لے سکتا ہے ۔ درج ذیل بعض مثالوں کی طرف توجہ فرمائیں : وَ إِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ کَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَکُونُ طَيْراً بِإِذْنِي وَ تُبْرِئُ الْأَکْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَ إِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي ﴿المائدة، 110﴾ (اور جب تم ہماری اجازت سے مٹی سے پرندہ کی شکل بناتے تھے اور اس میں پھونک دیتے تھے تو وہ ہماری اجازت سے پرندہ بن جاتا تھا اور تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہماری اجازت سے صحتیاب کر دیتے تھے اور ہماری اجازت سے مردوں کو زندہ کر لیا کرتے تھے۔۔۔)۔ (وَ مَا نَقَمُوا إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ) ﴿التوبة، 74﴾ (اور ان کا غصہّ صرف اس بات پر ہے کہ اللہ اور رسول نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو نواز دیا ہے ۔) (قُلْ يَتَوَفَّاکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِي وُکِّلَ بِکُمْ) ﴿السجده‏، 11﴾( آپ کہہ دیجئے کہ تم کو وہ ملک الموت زندگی کی آخری منزل تک پہنچائے گا جو تم پر تعینات کیا گیا ہے)۔ (حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ) ﴿الأعراف‏، 37﴾(جب ہمارے نمائندے فرشتے مّدت حیات پوری کرنے کے لئے آئیں گے)۔ (قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِيکَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْکَ طَرْفُکَ) ﴿النمل‏، 40﴾(ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے)۔ (فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْراً) ﴿النازعات‏، 5﴾(پھر امور کاانتظام کرنے والے ہیں)۔ ان آیات میں انبیاء ،ان کے اصحاب و انصار اور فرشتوں کی جانب مختلف کاموں میں تصرف اور غیر معمولی کاموں کی نسبت دی گئی ہے جبکہ خدا کی طرف نہیں ، لہٰذا یہ لوگ اس طرح کے کاموں کو براہ راست انجام دیتے ہیں۔لیکن کلیدی نکتہ یہ ہے کہ ان کاموں کا انجام دینا خدا کی اجازت اور اس کی عطا کی ہوئی قدرت کے ذریعہ سے ہے ۔ آپ ایک مرتبہ پھرسورۂ مائدہ کی آیت نمبر 110میں لفظ " بِإِذْنِي " (میری اجازت سے ) پر توجہ فرمائیں ۔ لیکن سورۂ زمر کی 42ویں آیت میں مارنے کو اپنی طرف نسبت دے رہا ہے : ( اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ ) (اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے)۔ ان آیات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ، نبیوں ،اماموں ،فرشتوں اور ۔۔۔کی جانب سے یہ تمام کام انجام دینا خدا کی مصلحت ،اس کے ارادہ کے مطابق اور ان کی سیدھ میں ہیں ۔ کتاب ِ " بصائر الدرجات" کے بابِ"آئمہ مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور پیدائشی اندھوں کو شفا ء دیتے ہیں " میں ابوبصیر سے جو نابینا تھا، روایت نقل ہوئی ہے کہ :( میں نے امام صادق علیہ السلام اور امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا، آپ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے وارث ہیں ؟ فرمایا: ہاں ۔ میں نے کہا : رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم انبیاء کے وارث ہیں ،اور جو کچھ بھی انبیاء جانتے تھے وہ بھی جانتے ہیں ؟ فرمایا: ہاں ۔میں نے عرض کیا : کیا آپ بھی مُردوں کو زندہ کرسکتے ہیں ،پیدائشی نابینا اور برص کے مریضوں کو شفا ء عطا کرسکتے ہیں ؟ فرمایا: ہاں ،خدا کی اجازت سے ۔اس کے بعد فرمایا : اے ابا محمد (ابو بصیر کی کنیّت ) میرے نذدیک آؤ ؛ اس کے بعد اپنے ہاتھ کو میرے چہرے اور آنکھوں پر پھیرا ،اور میں دیکھنے لگا اورمیں نے سورج ،آسمان ، زمین،گھر اور جو کچھ بھی وہاں تھا ،اسے دیکھا ۔پھر ارشاد فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسی طرح دیکھتے رہو، قیامت کے دن تمہارے ساتھ بھی وہی ہو جو لوگوں کے ساتھ ہوگا اور جو چیز دوسروں کے لیے باعث ضرر ہوگی وہی تمہارے لیے بھی ضرر کا سبب بنے ؟ (یعنی تم بھی بینا افراد کی طرح شرعی فرائض کے مکلّف ہو) یا پہلے کی طرح نابینا ہوناچاہتے ہواور جنّت کے خالص درجہ پر فائز ہونا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں چاہتا ہو ں کہ جس طرح سے تھا ویسے ہی رہوں ،اس کے بعد امام نے دوبارہ میری آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور میں پھر سے نابینا ہوگیا ۔) اور اسی طرح آئمہ نے دوسری روایات میں فرمایا ہے : ہمیں (حمد و ستائش کے وقت ) ربوبیت خداوندی سے نچلے درجہ پر رکھو اور پھر جو کچھ بھی ہماری تعریف میں کہنا چاہتے ہو، کہو(اور ہمارے فضائل کو شمار کرو)۔ اس بنا پر ، جو چیز زیارت جامعہ کبیرہ میں آئی ہے ، مثلاً" مخلوقات آپ کی طرف پلٹتی ہیں اور ان کا حساب کتاب آپ کے ساتھ ہے" ( اِیاب الخلق اِلیکم و حسابہ علیکم) ، غلو نہیں ہے اور درج ِ ذیل آیت میں خدا کے فرمان سے منافات نہیں رکھتا : إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ‌ ﴿الغاشية، 25﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ‌ ﴿الغاشية، 26﴾) پھر ہماری ہی طرف ان سب کی بازگشت ہے ،اور ہمارے ہی ذمہ ان سب کا حساب ہے)۔ لہٰذا آیہ ٔ کریمہ کی شہادت کے مطابق ، آئمہ کا علم : عِبَادٌ مُکْرَمُونَ‌ ﴿الأنبياء، 26﴾ لاَ يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ‌ ﴿الأنبياء، 27﴾ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لاَ يَشْفَعُونَ إِلاَّ لِمَنِ ارْتَضَى ﴿الأنبياء، 28﴾)وہ سب اس کے محترم بندے ہیں ،جو کسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں ، وہ ان کے سامنے اور ان کے پس پشت کی تمام باتوں کو جانتا ہے اور فرشتے کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے )۔خدا کے اذن و ارادہ سے ہے ،اس علم کی خدا اور آئمہ علیہم السلام ،دونوں کی طرف نسبت دینا صحیح ہے ۔اسی طریقہ سے قرآن کریم کی ایک آیت میں مارنے کی نسبت خود خدا وند متعال کی طرف دی گئی ہے اور دوسری آیات میں ملک الموت اور دوسرے فرشتوں کی طرف دی گئی ہے ،اور غیر خدا کی طرف مارنے کی نسبت دینا غلو نہیں ہے ۔ اور شاید زیارت جامعہ کبیرہ پڑھنے سے پہلے ،سو تکبیروں کے ذکر کی تاکید اسی بات کو یاد دلانے کے لیے ہو کہ اس زیارت میں ذکر کئے گئے اوصاف ،آئمہ علیہم السلام کو مقام خدائی تک نہیں پہنچاتے اور انہیں باری تعالیٰ کا شریک نہیں بناتے چونکہ مقام ربوبیت انتہائی عظیم اور اعلی ہے ۔ جیسا کہ مفاتیح الجنان میں آیا ہے ،علامہ مجلسی ؒ بھی ان تکبیرات کو غلو سے روکنے کے لیے جانتے ہیں کہ جس کی طرف انسان کی طبیعت مائل ہے ۔
  • QaID :  
  • 11677  
  • QDate :  
  • 2012-04-29  
  • ADate :  
  • 2012-04-29  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔برائے مہر بانی درج ذیل عبارت جو ماہ رجب کی دعا میں آئی ہے ، کے معنی ٰ بیان فرمائیں: (۔۔۔اَسئَلُكَ بِما نَطَقَ فيهِمْ مِنْ مَشِيَّتِكَ فَجَعَلْتَهُمْ مَعادِنَ لِكَلِماتِكَ وَاَرْكاناً لِتَوْحيدِكَ وَآياتِكَ وَمَقاماتِكَ الَّتى لاتَعْطيلَ لَها فى كُلِّ مَكان يَعْرِفُكَ بِها مَنْ عَرَفَكَ لا فَرْقَ بَيْنَكَ وَبَيْنَها اِلاّ اَنَّهُمْ عِبادُكَ وَخَلْقُكَ)۔ ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جو کچھ تیری مشیت سے ان میں ظاہر اور گویا ہے تاکہ ان کو اپنے کلمات کا خزانہ اور توحید کی اساس ،اپنی نشانیاں اور اپنے مقامات کہ کبھی بھی اس میں معطلی نہیں ہے ، قرار دیا ہے ؛ جس نے بھی تجھے پہچانا ،انہی کے ذریعہ پہچانا ،تیرے اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے لیکن یہ کہ یہ سب تیرے بندے اور تیری مخلوق ہیں )۔
     Answer :
    جواب ۔ اس دعای شریف کے معنیٰ یہ ہیں کہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ،معصومین علیہم السلا م کے لیے بھی ہے ،لیکن بالعرض اور بالواسطہ ، بالذات نہیں ۔ لہٰذا ان کے درمیان کوئی نہیں ہے مگر بس یہ کہ خدا نے انہیں اس طرح بنایا ہے کہ اس کی اجازت سے اور اس کے ارادہ کے مطابق مختلف کام انجام دیتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں نہیں ۔مثال کے طور پر ،بادشاہ اور وزیر کے درمیان پائی جانے والی نسبت پر توجہ فرمائیں ۔ وزیر ،بادشاہ کی اجازت سے کام کرتا ہے ،جب کہ اس کا شریک اور ہم مرتبہ بھی نہیں ہے ،اور اس مراتب کے سلسلے میں مجموعی طور پر ماتحت ملازمین اپنے اعلیٰ افسران کی نسبت یہی حکم رکھتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں مردوں کا زندہ کرنا ،غریبی اور فقیری سے نجات دلانا ، تخت بلقیس کو حضرت سلیمان کی خدمت میں لانا اورزندہ کو مارنے وغیرہ کی نسبت پیغمبروں ،اولیاء اور فرشتوں کی طرف دی گئی ہے ۔لہٰذا یہ عقیدہ رکھنا کہ جس چیز پر خد اقادر ہے ، معصومین بھی خدا کے حکم سے اسے انجام دیتے ہیں ،شرک نہیں ہے بلکہ خدا کی اور بھی زیادہ تعظیم ہے ۔ مثال کے طور پر اگر حیاتیات کا ایک طالب علم ، استاد کی جانب سے سکھائے گئے علوم کی مدد سے ایک کامیاب آپریشن کرتا ہے تو یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ اس کا استاد علم حیاتیات کا ایک بڑا عالم اور ایک ماہر سرجن ہے کہ شاگرد نے اس کی اجازت اور جو کچھ اس نے سکھایا ہے اس کی مدد سے آپریشن کیا ہے ۔
  • QaID :  
  • 11606  
  • QDate :  
  • 2012-04-20  
  • ADate :  
  • 2012-04-20  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ایسی روایات کے بارے میں جو صدر اسلام کے زمانے میں خلفاء کے ہاتھوں ،حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام پر ڈھائے جانے والے مسلسل ظلم و ستم ،من جملہ آپ علیہا السلام کا پہلو زخمی کرنے ،حضرت محسن کے جنین کےساقط ہونے،آپ کو طمانچہ مارنےاور آپ کو گریہ سے روکنے وغیرہ کو بیان کرتی ہیں ،ان کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
     Answer :
    جواب۔ اس موضوع سے متعلق روایات تظافر اور تواتر کی حدّ تک ،اجمالی صورت میں بہت زیادہ ہیں ۔ یہاں پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ان روایات میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جائے ،پہلے ہم ان روایات کو بیان کریں گے جو اہل سنت علماء کی جانب سے بیان کی گئی ہیں: ۱۔ تاریخ طبری،تیسری جلد،صفحہ ۲۰۲: عمر بن خطاب حضرت علی علیہ السلام کے گھر آیا اور کہا : خدا کی قسم پورے گھر کو آگ لگا دوں گا ،یا بیعت کے لیے گھر سے باہر آجائیے۔ ۲۔ بلاذری نے انساب الاشراف کی پہلی جلد،صفحہ نمبر ۵۸۶پر استناد کرتے ہوئے بیان کیا ہے: ابو بکر نے عمر کو بیعت لینے کے لیے علی علیہ السلام کی طرف بھیجا، لیکن انہوں نے بیعت نہیں کی ،نتیجہ میں عمر اس حالت میں کہ آگ کا شعلہ اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا ، آیا اور دروازہ کے پاس حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سامنے آیا ،بی بی نے فرمایا: اے خطاب کے بیٹے ، میں دیکھ رہی ہوں کہ میرے گھر کے دروازے کو آگ لگا رہے ہو! پسر خطاب نے کہا :ہاں یہ میرا کام ،جو آپ کے والد لائے ہیں ،اس کے لیے بہتر ہے۔ ۳۔ عقد الفرید ،تیسری جلد،صفحہ نمبر ۶۳ میں بھی تقریباً یہی تحریر نقل ہوئی ہے ۔ ۴۔ مسعودی نے اثبات الوصیہ کے صفحہ نمبر ۱۱۶ سے ۱۱۹ تک لکھا ہے کہ : حضرت علی علیہ السلام پر حملہ کیا اور آپ کو زبر دستی گھر سے باہر نکالا اور سیدۃ النساء العالمین کو در و دیوار کے درمیان دبا دیا یہاں تک کہ محسن ساقط ہوگیا۔ ۵۔ منتخب کنز العمّال،صفحہ۱۷۴۔ ۶۔ الشافی،صفحہ ۳۹۷: محمد ابراہیم ثقفی نے الغارات میں امام صادق علیہ السلام سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ : خدا کی قسم علی نے بیعت نہیں کی یہاں تک کہ ان دونوں کو اپنے گھر میں دیکھا۔ ۷۔ الامامۃ والسیاسۃ،ابن قتیبہ ،صفحہ ۱۹:لوگوں نے عمر سے کہا ، فاطمہ گھر میں ہیں ۔اس نے کہا : چاہے گھر میں ہوں ۔ ۸۔ ملل و نحل،صفحہ ۸۳:بیعت کے دن عمر نے ایسی ضرب بی بی فاطمہ کے شکم پر ماری کہ آپ کا حمل ضایع ہوگیا ۔اور یہ عمر تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ : گھر کو آگ لگا دو چاہے جو بھی اس گھر میں ہو۔ ۹۔ تاریخ ابو الفداء،پہلی جلد، صفحہ نمبر ۱۵۶۔ توجہ رہے کہ جب بھی آپ اہل سنت مأخذ اور مصادر کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو پرانے اور قدیم ایڈیشنز کو مدّ نظر رکھیں کیوں کہ نئے ایڈیشنز سے پہلے اور دوسرے کے کرتوتوں کو نکال دیا گیا ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اور حقانیت کو حذف کر دیا گیا ہے۔ اب ہم بعض شیعہ روایات کی طرف اشارہ کررہے ہیں : ۱ ۔ امالی صدوق ؒ ،صفحہ ۶۸ سے ۸۲ تک : اور میری بیٹی فاطمہ ،گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کے گھر کو بے اہمیت،اس کی ہتک حرمت،اس کا حق غصب اور اس سے اس کے حق کو دور کردیں گے،اس کے پہلو کو زخمی اور اس کے بچہ کو ساقط کردیں گے۔۔۔ اے خدا ہر اس شخص پر لعنت بھیج جو اس پر ظلم کرےاور جو بھی اس کا حق غصب کرے اسے عذاب میں مبتلا کردے، جو بھی اس کی بے حرمتی کرے اس ذلیل کردےاور جو بھی اس کے پہلو پر اس طرح ضرب لگائے کہ اس کا بچہ ضایع ہوجائے اسے آگ کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے ڈال دے ،اس کے بعد سب فرشتوں نے آمین کہا ۔ ۲۔ امالی شیخ صدوقؒ ،صفحہ۸۱ اور ۸۲ :اور اس(فاطمہ) کے منہ پر طمانچہ مارنا۔۔۔ ۳۔ کامل الزیارات، صفحہ۲۳۲ سے ۲۳۵: اور تمہاری بیٹی تمہارے بعد ظلم و ستم دیکھے گی اور اسے ماریں گے اس حالت میں کہ وہ حاملہ ہوگی ، بغیر اجازت کے اس کے حریم اور گھر میں داخل ہونگے اور اس کے جنین کو ساقط کردیں گے ،اور پہلا انسان جس کے بارے میں روز قیامت فیصلہ سنایا جائے گا وہ،محسن بن علی علیہ السلام ہے۔ ۴۔ احتجاج طبرسی،پہلی جلد ،صفحہ۱۰۵: جب عمر آگ اور لکڑیوں کے ساتھ چلّایا : گھر سے باہر نکل جاؤ ورنہ میں ضرور گھر کو آگ لگادوں گا ؛اس سے کہا گیا : فاطمہ گھر میں ہیں ۔ ۵۔ تفسیر عیاشی،دوسری جلد،صفحہ۶۶ اور ۶۷:جب فاطمہ نے حملہ آوروں کو دیکھا ،دروازہ کو ان کے لیے بند کردیا ،اس کے بعد عمر نے اپنا پیر دروازہ پر مارا اور دروازہ توڑ دیا۔ ۶۔ تفسیر عیاشی، دوسری جلد،صفحہ ۳۶۰،حدیث نمبر۲۳۴: عمر نے ایک مرد کو بھیجا جس کا نام قنفذ تھا ،حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اس شخص اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیا ن میں کھڑی ہوگئیں ،قنفذ نے آپ کو مارا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ گھر کے نذدیک لکڑیاں لیکر آئیں، اس وقت عمر نے ان لکڑیوں کو آگ لگائی ۔ ۷۔ شیخ مفید نے امالی ،صفحہ۳۸ میں : گھر والوں نے یہ قبول نہ کیا کہ باہر نکلیں تو عمر نے کہا :ان کے گھر کو آگ لگادو۔ ۸۔ بحار الانوار،جلد نمبر ۴۳،صفحہ نمبر ۱۷۹،ساتویں سطر:کتاب سلیمان بن قیس ہلالی میں ابان بن ابی عیاش سے اس نے سلمان اور عبداللہ ابن عباس سے ، دیکھا کہ (سلمان اور ابن عباس ) نے کہا : جب رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے وفات پائی ،ابھی آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کو دفنایا بھی نہیں گیا تھا کہ لوگوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا اور مرتد ہوگئے ۔(اس حقیقی دین سے جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کےمدار پر تھااور انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے۔) اور انیسویں سطر میں آیا ہے کہ :عمر نے علی کے گھر کا رُخ کیا اور دروازہ کو پیٹا ، اور بلند آواز کے ساتھ چلّایا : اے ابو طالب کے بیٹے ،دروازہ کھولو۔اس وقت فاطمہ علیہا السلام نے فرمایا : اے عمر ہمیں تجھ سے کیا کام؟ کیوں ہمیں ،جو کام ہم کررہے ہیں (رحلت پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی عزاداری)،کرنے نہیں دیتے؟ اس نے جواب دیا : دروازہ کھولو ،ورنہ اسے تمہارے اوپر جلادوں گا ۔پھر (فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا : اے عمر !کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ گھر پرحملہ آور ہو؟ عمر نہ مانا ،آگ مانگی اور دروازہ کو آگ لگادی ،اوردروازہ کو بھی پیٹا۔پھر فاطمہ سلام اللہ علیہا اس کے نذدیک آئیں اور فریاد اور نالہ و زاری بلند کی : اے با با ، اے رسول خدا ۔ اس وقت عمر نے تلوار کو اُٹھایا اور اس کے غلاف سے حضرت فاطمہ کے پہلو پر ضرب لگائی تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے رونے کی آواز بلند ہوئی اور پھر حضرت فاطمہ کے بازو پر تازیانہ مارا۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام پکاریں : اے بابا۔اس وقت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پہنچے ، عمر کا گریبان پکڑا اور اسے زمین پر گرا دیا ،جس کی وجہ سے اس کی ناک اور گردن پر چوٹ لگی اور وہ سخت تکلیف میں مبتلا ہوااور زخمی ہوگیا۔حضرت نے اسے قتل کرنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی وصیّت یاد آگئی کہ جس میں آپ علیہ السلام کو صبر اور پیروی کی تلقین کی تھی،لہٰذا فرمایا: اے پسر صھّاک(عمر)اس کی قسم جس نے حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم مبعوث برسالت کیا ،اگر خدا کی مرضی نہ ہوتی تو تم کچھ بھی کرلیتے لیکن میرے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کے بعد عمر نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا ، لوگ آئے ،علی کے گھر میں داخل ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام کی گردن میں رسی ڈالی ۔ اس حالت میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا دروازہ کے برابر میں علی اور حملہ آوروں کے درمیان حائل ہوگئیں اور اس وقت قنفذ نے آپ علیہا السلام کو ایسا تازیانہ مارا کہ جب آپ دنیا سے گئیں تو اس ملعون کے تازیانہ کا نشان ،ایک پھوڑہ کی طرح آپ کے بازو پر موجود تھا ،اس کے بعد گھر کے دروازہ کو اس طرح دھکّا دیا کہ آپ علیہا السلام کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور آپ کا بچہ ساقط ہوگیا۔اس کے بعد بستر بیماری سے اُٹھ نہ پائیں یہاں تک کہ آپ نے شہادت پائی ۔ روایت یہاں تک بیان کرتی ہے کہ ابن عباس نے کہا :حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو جب خبر دی گئی کہ ابو بکر نے فدک پر قبضہ کر لیا ہے تو حضرت فاطمہ علیہا السلام خواتینِ بنی ہاشم کو لیکر گھر سے باہر نکلیں ۔۔۔اور پھر فکرمندی اور پریشانی کے عالم میں واپس گھر آئیں اور بیمار ہوگئیں ۔حضرت علی علیہ السلام پنجگانہ نمازیں مسجد میں پڑھتے تھے ، ابو بکر اور عمر نے علی علیہ السلام سے دریافت کیا :رسول خدا کی بیٹی کا کیا حال ہے ؟ ۔۔۔حضرت فاطمہ علیہا السلام نے اپنے چہرہ پر نقاب ڈال لی اور دیوار کی طرف رُخ کرلیا (تاکہ ابو بکر اور عمر کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیں) اس وقت وہ دونوں آئے ، سلام عرض کیا اور کہا : ہم سے راضی ہوجاؤ ،خدا تم سے راضی ہو؛آپ علیہا السلام نے فرمایا : جس چیز کے بارے میں تم سے پوچھ رہی ہوں مجھے جواب دو،اگر تم لوگ سچ بولو۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا: تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں ، کیا تم لوگوں نے یہ سنا ہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا:فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے بھی اسے ستایا اس نے مجھے ستا یا ہے۔؟ ان دونوں نے جواب دیا : ہاں۔ اس کے بعد آپ علیہا السلام نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا : ان دونوں نے مجھے ستایا ہے میں ان دونوں کی تجھ سے اور تیرے رسول سے شکایت کرتی ہوں ؛نہیں ، بخدا میں تم دونوں سے تا ابد راضی نہیں ہوں گی یہا ں تک کہ اپنے بابا رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے ملاقات کروں اور جو کچھ تم لوگوں نے میرے ساتھ کیا ہے وہ بیان کروں ،وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ ابن عباس کہتے ہیں :فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے بابا کی رحلت کے بعد چالیس روز تک زندہ رہیں اور جب آپ کی بیماری میں شدت پیدا ہوئی تو آپ نے علی علیہ السلام کو بلوایا ، اپنی وصیتیں کیں کہ آپ کو رات کے وقت غسل و کفن دیں اور دفن کریں اور جن لوگوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے ان خدا کے دشمنوں میں سے کوئی ایک بھی میری تشییع،دفن اور نماز میں شریک نہ ہونے پائے۔ آگے چل کر ابن عباس کہتے ہیں کہ : اس رات کی صبح سویرے ،ابو بکر،عمر اور دوسرے لوگ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نماز جنازہ پڑھنے کے ارادہ سے آئے ۔۔۔عمر نے کہا:بخدا میں نبش قبر (قبر کھود کر ) کرکے ان پر نماز پڑھوں گا ۔علی علیہ السلام نے فرمایا : خدا کی قسم ،اے عمر! اگر تم نے ایسا کیا ۔۔۔اگر میں نے تلوار کھینچ لی ، تمھاری موت سے پہلے راضی نہیں ہوں گا ۔اس وقت عمر پیچھے ہٹا اور خاموش ہوا ،اور سمجھ گیا کہ اگر علی نے قسم کھائی ہے تو اس پر عمل بھی ضرور کریں گے ۔(بحار الانوار،جلد نمبر۲۸،صفحہ نمبر۲۹۷،حدیث نمبر۴۸) ۹۔ شیخ صدوق نے خصال میں (حضرت زہرا علیہا السلام کو رونے سے روکنے کے متعلق) کہا ہے:فاطمہ زہرا علیہا السلام رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم پر ایسا روئیں کہ اہل مدینہ تنگ آگئے اور ان سے کہا کہ : اپنے رونے سے آپ نے ہمیں اذیّت میں مبتلا کردیا ہے ،اس کے بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا مدینہ سے باہر شہداء کی قبروں پر جاکر رویا کرتی تھیں تاکہ صبر آجائے ،اور پھر اپنے گھر کو پلٹتی تھیں ۔(بحار الانوار،جلد۴۳،صفحہ۱۵۵) ۱۰۔ بحار الانوار کی جلد نمبر ۴۳،صفحہ نمبر ۱۵۸پر معانی الاخبار سے : مہاجرین اور انصار کی خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : بے شک عہد خداوندی کی بھاری ذمہ داری ان کی گردنوں پر سنگینی کرے گی چونکہ عدل و انصاف کو قتل کرنے کی ذلّت اور بے شرمی کو ان کی جھولی میں ڈال دیا ہے ، ان مکاروں پر خدا کی لعنت،اور ظالم اور ستم گر رحمتِ حق سے دور رہیں ۔ ۱۱۔ بحار الانوار کی جلد نمبر ۴۳ ، صفحہ نمبر ۱۷۰پر کتاب دلائل الامامۃ طبری سے استناد کرتے ہوئے امام صادق علیہ السلام سے : حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ، منگل کے دن تیسری جمادی الثانی ، سن گیارہ ہجری کو رحلت فرمائی ، ان کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ عمر کے غلام قنفذنے اس کے حکم سے تلوار کا دستہ آپ علیہا السلام کو مارا اور آپ کے بیٹے محسن شہید (سقط) ہوگئے ۔ اسی وجہ سے آپ علیہا السلام شدید بیمار ہوگئیں اور آپ نے اجازت نہ دی کہ وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اذیتیں پہنچائیں تھیں ، آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔ (امام صادق علیہ السلام نے ان دونوں کے آنے کا قصّہ آخر تک بیان کیا ہے اور نبش قبر سے متعلق عمر کے قول کا بھی تذکرہ کیا ہے)۔ ۱۲۔ احتجاج ،پہلی جلد،صفحہ۵۱: عمر نے ،قنفذ جو ایک سنگ دل اور غصور شخص تھا ،اسے بلوانے کے لیے،ایک شخص کو بھیجا ،اس کے بعد لوگوں کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ چلیں اور لوگ عمر کے ساتھ لکڑیا ں لیکر آئے اور علی علیہ السلام کے گھر کے اِرد گِرد جمع کردیں ،اس وقت علی ،فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے علیہم السلام گھر کے اندر تھے ،عمر یہ چلّایا کہ : بخدا یا آپ لوگ گھر سے باہر آجائیں یا میں گھر کو آگ لگا دوں گا ۔اس وقت ابو بکر نے قنفذ سے کہا : اگر باہر آجائیں تو ٹھیک ہے ورنہ گھر پر حملہ کردینا،اور اگر بیعت نہ کریں تو ان کے گھر کو آگ لگا دینا۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا دروازہ کے پاس حضرت علی علیہ السلام اور حملہ آوروں کے درمیان میں حائل ہوگئیں اس کے بعد قنفذ نے بی بی کے بازو پر تازیانہ مارا جس کی وجہ سے آپ کا بازوپر ورم ہوگیا اور نیل پڑ گئے ۔ ۱۳۔ بحار الانوار ، جلد نمبر ۴۳، صفحہ ۲۲۷پر تفسیر فرات بن ابراہیم سے ،ایک طویل حدیث کے آخر میں : رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: ای میری بیٹی ،بے شک خدا وند عالم کی جانب سے جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ میری رحلت کے بعد میرے اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی ۔لہٰذا وای ہو ان پر جو تجھ پر ظلم کریں اوربہترین کامیابیاں اور نجات پائیں وہ لوگ جو تیری مدد کریں ۔ کیوں کہ یہاں پر اس موضوع سے متعلق تمام اخبار اور روایات کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا بس اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔یقیناً جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے ، چونکہ بیان کی گئی روایات اور اخبار ،تواتر کی حدّ تک ہیں ۔ جس چیز کی یہاں تاکید کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ ، یہ بات روشن ہوگئی کہ عمر اور قنفذ نے کئی بار حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مارا ،اور بعض دوسری روایات جن کا تذکرہ ہم نے یہاں نہیں کیا ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ مغیرۃ بن شعبہ بھی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مارنے میں شریک تھا ۔ کیا اس کے علاوہ کچھ اوربھی ،ان لوگوں سے جو رسول کے بعد مرتد ہوگئے ، توقع کی جاسکتی ہے ؟ جیسا کہ قرآن کی یہ آیت صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہے : وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَ فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاکِرِينَ‌ ﴿آل‏عمران‏، 144﴾ (اور محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل ہوجائیں تو تم اُلٹے پیروں پلٹ جاؤ گے تو جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور خدا تو عنقریب شکر گذاروں کو ان کی جزاء دے گا)۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011