پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Friday 10 July 2020 - الجمعة 17 ذو القعدة 1441 - جمعه 20 4 1399
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 12073  
  • QDate :  
  • 2012-06-18  
  • ADate :  
  • 2012-06-18  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:غیر شیعہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنا۔ سوال۔ بعض اسلامی ممالک کے مدارس اور اسکولوں کی موجودہ حالت کہ جن کا مختلف مضامین مثلاً عقائد تفسیراور تاریخ وغیرہ کا تعلیمی نصاب شیعہ نظریات سے اختلاف رکھتا ہے ،اس بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے ؟اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کہ بعض پڑوسی ممالک میں والدین بعض رسوم و رواج اور بعض تعلیمی اور تمدّنی مسائل کی وجہ سے اپنے بچوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔
     Answer :
    جواب۔ جب بھی اس طرح کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنا ،طالب علم کے عقائد فاسد ہونے کا سبب بنے ،تو ایسے مدارس اور اسکولوں میں جانا جائز نہیں ہے اور یہ باپ کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے مدارس سے نکال لے۔لیکن صرف اس صورت میں جائز ہے کہ باپ اس بات کی صلاحیت رکھتا ہو کہ فاسد عقائد اور باطل شبہات کو اپنے بچوں کے ذہن سے نکال سکے۔
  • QaID :  
  • 12058  
  • QDate :  
  • 2012-06-17  
  • ADate :  
  • 2012-06-17  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:سنّی مذاہب کے مطابق عمل۔ سوال۔ ہم نے یہ سنا ہے کہ بعض افراد علم اور شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سنی مذاہب کے احکام پر عمل کے جائز ہونے کے قائل ہیں ،اس بارے میں آپ کی نظر کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ تقیّہ کی صورت کے علاوہ ،اُن کے مذاہب کے مطابق عمل جائز نہیں ہے ۔ اور پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: " میری امّت بہت جلد ستّر اور کچھ فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ان میں سے ایک فرقہ اہلِ نجات ہے اور بقیہ دوزخ کی آگ میں ہیں ۔"اور فرقۂ ناجیہ وہ ہے کہ جس میں اہلِ بیت علیہم السلام ہیں ۔
  • QaID :  
  • 12057  
  • QDate :  
  • 2012-06-17  
  • ADate :  
  • 2012-06-17  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:خطبۂ تطنجیہ۔ سوال۔کیا جو کچھ "حافظ برسی " نے اپنی کتاب "مشارق انوارالیقین" میں خطبۃ الافتخار(التطنجیہ) کے بارے میں ذکر کیا ہے ،امام علیہ السلام کی جانب سے ثابت ہے ؟کیوں کہ میں نے بعض ایسے افراد کو دیکھا ہے جو اس خطبہ میں پائے جانے والے فرامین کا انکار کرتے ہیں ،اگرچہ میں اس پورے خطبہ کی تصدیق کرتا ہوں۔
     Answer :
    جواب۔ ہمارے نذدیک یہ خطبہ صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہوا ہے اورصرف مشارق الانوار میں اس کا ذکر اس کے اعتبار پر دلالت نہیں کرتا۔
  • QaID :  
  • 12050  
  • QDate :  
  • 2012-06-15  
  • ADate :  
  • 2012-06-15  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:کتابِ سلیم ابن قیس سوال۔کتابِ سلیم ابن قیس کے بارے میں جنابِ عالی کی تفصیلی نظر کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔سلیم ابن قیس ،ایک بلند مرتبہ،گرانقدر اور قابلِ اعتماد(ثقہ) انسان تھے۔ان کے مقام کے لیے ،"برقی" کی اس بات پر گواہی کہ وہ اولیاء اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بزرگ اصحاب میں سے تھے ،کافی ہے اس طرح سے علّامہ حلّی ؒ نے بھی ان کی عدالت کا حکم دیا ہے ۔کتابِ غیبت میں نعمانی کے قول کی بنیاد پر ،کتابِ سلیم اصولِ معتبر میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑےاصول ہیں ، اس کا سارا محتویٰ صحیح ہے اور یا معصوم علیہ السلام سے یا ایسے شخص سے ہے جس کی روایت کی تصدیق اور اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ،صادر ہوا ہے ۔وسائل الشیعہ کے مؤلف نے کتاب کے اختتام میں کہا ہے کہ : کتاب سلیم قابل اعتماد کتابوں میں سے ہے کہ جس کے قرائن اس کے ثبوت پر قائم ہیں اور یہ کتاب مؤلفین سے تواتر کی حدّ تک پہنچی ہے، یا ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کتاب کی نسبت اس کے مؤلفین کی طرف صحیح ہے ،اس طرح سے کہ اس میں کسی قسم کا شک باقی نہیں رہتا ۔ البتہ اس کتاب کے بعض نسخوں میں ،دو مطالب پائے جاتے ہیں : ۱۔یہ کہ آئمہ ،تیرہ ہیں ،البتہ اس نسخہ میں غلطیاں موجود ہیں ۔صاحبِ وسائل نے فرمایا ہے : "کتاب سلیم میں سے جو نسخہ ہم تک پہنچا ہے اس میں کسی قسم کا فساد نہیں پایا جاتا اور شاید جعل کیا گیا فاسد نسخہ اس کے علاوہ ہو ۔اور اسی وجہ سے وہ نسخہ مشہور نہیں ہوا اور ہم تک نہیں پہنچا۔" اور شاید مراد یہ ہو کہ آئمہ علیہم السلام پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ ملا کر تیرہ عدد ہیں ،جیسا کہ دوسرے نسخوں میں ہے کہ آئمہ فرزندانِ اسماعیل میں سے ہیں اور پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ تیرہ عدد ہیں ۔ ۲۔اس کتاب میں محمد ابن ابی بکر کی اپنے باپ کو ان کی موت کے وقت نصیحت ،شامل ہے جبکہ ان کی عمر تین سال سے بھی کم تھی۔لیکن یہ چیز بھی اس کتاب کو خدشہ دار نہیں کرتی ،کیوں کہ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نسخہ مخدوش ہے لیکن دوسرے نسخے اس طرح کے مطالب اور باتوں سے خالی ہیں ۔ بعض بزرگ رجالی علماء نے (میرزا نے رجالِ کبیر میں ) کہا ہے :جو کچھ ہم تک پہنچا ہے (کتابِ سلیم میں سے) اس بات کو بیان کررہا ہے کہ محمد ابن ابی بکر نے اپنے باپ کی موت کے وقت نصیحت کی ،اور یہ چیز ممکن ہے اور اس کتاب کے جعلی ہونے کے حکم پر دلالت نہیں کررہی۔اسی طرح سے " تفرشی " نے کتابِ"نقد الرجال" کے حاشیہ میں کہا ہے :سلیم کی احادیث میں سے زیادہ تر ،شیعہ اور سنی کتابوں میں دوسرے طریقوں سے بھی روایت ہوئی ہیں ،اور یہ بات خود اس کتاب کی صحت پر دلالت کررہی ہے ۔
  • QaID :  
  • 12025  
  • QDate :  
  • 2012-06-12  
  • ADate :  
  • 2012-06-12  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:آئمّہ علیہم السلام کے حرموں کی تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش۔ سوال۔کتابِ"عروۃ الوثقیٰ" کی فصلِ مکروہات میں آیا ہے کہ :"۔۔۔ساتواں:انبیاء،اوصیاء اور صالحین وغیرہ کے مقبروں کے علاوہ دوسری قبروں کے پرانے اور بوسیدہ ہونے کے بعد ان کی تعمیر نو یا جدید تعمیرات۔ نواں : ذکر کی گئی قبروں کے علاوہ دوسری قبروں پر عمارت تعمیر کرنا ۔دسواں :ذکر کی گئی قبروں کے علاوہ دوسری قبروں کو مسجد قرار دینا۔گیارہواں :انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی قبروں کے علاوہ دوسری قبروں کے پاس رہنا۔ انبیاء ،اوصیاء اور صالحین کی قبروں کو مستثنیٰ قرار دینے کی کیا وجہ ہے ؟ اور آپ کی نظر ان قبروں کی موجودہ تزئین و آرائش کے بارے میں کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی قبر وں کے استثنائی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کراہت کے دلائل مطلق ہیں اور اطلاق ،تقیید کی قابلیت رکھتا ہے، جس چیز نے آئمہ علیہم السلام کی قبروں کی تعمیر کے مکروہ ہونے کی نسبت قید لگائی ہے ،وہ یہ عبارت ہے : الف)ان قبروں کو بنانا اور ان کی تعمیرِنو،شعائر دینی کی تعظیم اور دینی مظاہر کی یاد تازہ کرنا شمار ہوتا ہے ،اس بنا پر یا تو سرے سے مکروہ ہی نہیں ہے ،یا اس کام میں ایسی خوبی اور حسن پایا جا تا ہے جو کراہت پر غلبہ رکھتا ہے ۔ ب)ان قبروں کی تعظیم اور انہیں تازہ رکھنا،مسلمانوں کے کردار اور عمل کی تاریخ (سیرۂ متشرعہ) میں خود آئمہ علیہم السلام کی زمانے تک پہنچتا ہے لہٰذا اگریہ عمل مکروہ ہوتا تو لازمی طور پر خود آئمہ علیہم السلام اس عمل سے مسلمانوں کو روکتے ۔ ج)جو "ابو عامر" واعظ شیرازی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے (اور انہوں نے اپنے آباؤ اجدادسے ) کہ ((رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے علی علیہ السلام سے سے فرمایا: اے ابالحسن !بے شک خداوند متعال نے تمہاری اور تمہارے بیٹے کی قبر کو جنّت کی زمین کا ٹکڑا اور جنت کے صحنوں میں سے ایک صحن قرار دیا ہے ۔خدا نے پاک ،نیک اور منتخَب دلوں کو تمہارا مشتاق قرار دیا ہے ۔وہ تمہارے راستہ میں سختیوں اور مصیبتوں کو قبول کرتے ہیں اور خدا کی قربت اور اس کے رسول کی محبت کے لیے تمہاری قبروں کو آباد کرتے ہیں اور کثرت کے ساتھ تمہاری زیارت کے لیے آتے ہیں ۔اے علی! وہ میری شفاعت کے خاص مستحق ہیں اور حوض کوثر پر وارد ہوں گے ۔وہ لوگ جنّت میں میرے زائر ہونگے اور وہاں پر میرے ہمسائے ہیں۔ یا علی! جس نے بھی تمہاری اور تمہارے فرزند کی قبر وں کو آباد کیا ،اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے بیت المقدس بنانے میں سلیمان بن داؤد کی مدد کی ہو۔جو بھی تمہارے مزاروں کی زیارت کرے وہ واجب حج کے بعد ستّر حج کا ثواب پائے گا اور وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوجائے گا جس دن پیدا ہوا تھا ۔ لہٰذا اے علی!تمہارے لیے اور تمہارے دوستوں کے لیے ایسی نعمتوں کی خوش خبری ہے کہ جنہیں اس سے پہلے نہ کسی نے یکھا اور نہ کسی نے سنااور نہ ہی کسی کے دل میں ان نعمتوں کا خیال آیا۔ لیکن ذلیل و خوار اور پست لوگ ، تمہارے زائروں کوتمہاری زیارت کی وجہ سے بُرا بھلا کہیں گےجس طرح سے زنا کار کی اس کے گناہ کی وجہ سے سرزنش کی جاتی ہے ۔وہ لوگ میری امّت کے بد ترین لوگ ہیں کہ جو میری شفاعت تک نہیں پاسکیں گےاور حوض کوثر تک نہیں پہنچ پائیں گے))۔(تہذیب، جلد نمبر ۶،صفحہ نمبر۱۰۷،حدیث نمبر ۱۸۹)۔ لیکن مقبرہ کو مسجد قرار دینا اگر مسجد کے متعارف معنیٰ میں ہوتو ہاں کراہت رکھتا ہے بلکہ حرام کہا جاسکتا ہے ۔کیوں کہ اس کا نتیجہ نبش ِقبر ہے۔ لیکن اگر قبر کے نذدیک یا قبر پر نماز پڑھنے کے معنیٰ میں ہے تو لازمی طور پر یہ کہنا پڑے گا: ۱۔کراہت پر دلیل وہ روایت ہے کہ جس کی سند کے سلسلے میں "ابو الجارود " پایا جاتا ہے کہ جس پر آئمہ علیہم السلام نے لعنت کی ہے اگر چہ یہ کہا گیا ہے کہ نقلِ روایت میں سچا ہے ۔ ۲۔یہ ممکن ہے کہ وہ روایت جو کراہت کو بیان کررہی ہے اس کی مراد دوسری قبریں ہوں اور اولیاء کی قبروں کو شامل نہ کرتی ہو۔ ۳۔ ( لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِداً )﴿الكهف‏، 21﴾ ( ہم ان کے غار پر ضرور ایک مسجد بناتے ہیں)۔، یہ آیت ،روایت کے اطلاق پر(اگر اس کے وجود کو فرض بھی کیا جائے)قید لگاتی ہے اور اس سے اولیائ حق کی قبروں پر نماز پڑھنے کا رجحان اور تمایل سمجھ میں آتا ہے ۔ اور ہم اس حکم کو جو اصحاب کہف کے زمانے کی شریعت سے متعلق ہے ،اسے اپنی شریعت میں باقی سمجھتے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر ،یہ آیت اصحاب کہف پر ناظر ہے اور یقیناً آئمہ علیہم السلام ان سے افضل ہیں ۔ان سب باتوں پر اس روایت کا اضافہ کریں کہ جو آئمہ علیہم السلام کے مزاروں اور حرموں میں ان کی زیارت کے بعد نماز کے مستحب ہونے سے متعلق وارد ہوئی ہیں ۔ آئمہ علیہم السلام کی قبروں کے جوار میں قیام کرنے سے متعلق یہ کہ :اگر ہم یہ قبول کرلیں کہ مکروہ ہونے سے متعلق روایات آئمہ علیہم السلام کی قبروں کو بھی شامل کیے ہوئے ہے،تو اس صورت میں بھی ان روایات کا اطلاق ،اجماع اور سیرۃ کے ذریعہ مُقیّد ہوجاتا ہے درجِ ذیل مطالب میں سے ہر ایک مطلب ، ہمارے اس دعوے پر گواہ ہے : حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا حضرت حمزہ سید الشہداء علیہ السلام(پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے چچا ) کے روضہ پر قیام کرنا، اور اسی طرح سے امّ المصائب حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کا اپنے بھائی کے روضہ پر یہ فرمانا:"آپ کے پاس رُکنے کو انتخاب کروں گی چاہے درندے میرا گوشت کھا جائیں لیکن میں کیا کروں کہ مجھے یہاں رکنے کی اجازت نہیں دیتے"۔ اور اسی طرح سے وہ روایت جو عید الاضحیٰ کی رات حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ کے کے نذدیک شب بیداری کرنے کے ثواب اور اس کی فضیلت پر دلالت کررہی ہے ۔ اس طریقہ سے ابن مردویہ نے انس بن مالک اور بریدہ سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی : ( فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْکَرَ فِيهَا اسْمُهُ )﴿النور، 36﴾ ((ہدایت پانے والے ) ایسے گھروں میں ہیں جن کی تعظیم کا اللہ نے اذن دیا ہے اور ان میں اس کا نام لینے کا بھی)۔ ناگاہ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا:یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،ان گھروں جیسے گھر کہاں ہیں ؟ حضرت نے فرمایا: انبیاء کے گھر۔ ابوبکر نے سوال کیا: کیا یہ گھر( علی و فاطمہ علیہما السلام کا گھر)بھی انہی گھروں میں سے ہے ؟ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: اِنہی گھروں میں سےبا فضیلت ترین گھر ہے۔ لیکن ہم آئمہ علیہم السلام کے مزاروں اور حرموں کی تزئین و آرائش کی کراہت پر کوئی دلیل نہیں رکھتے چونکہ زینت سے منع کرنا ،مساجد سے مخصوص ہے ۔اور آئمہ علیہم السلام کے روضوں کو سجانا اچھا عمل ہے کیوں کہ یہ عمل ان حضرات سے محبت اور ان کی طرف توجہ کی علامت ہے اور یہ چیز پسندیدہ ہے ۔
  • QaID :  
  • 12018  
  • QDate :  
  • 2012-06-11  
  • ADate :  
  • 2012-06-11  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: خطبۃ البیان۔ سوال۔"خطبۃ البیان " جو امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منسوب ہے ،اس کے بارے میں جنابعالی کی کیا رائے ہے ؟ بعض افراد نے اس خطبہ کے تجزیہ اور تحلیل سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حضرت مہدی عجّل اللہ فرجہ الشریف کا ظہور نذدیک ہے ۔ برائے مہر بانی اس خطبہ سے متعلق عملی،عقلی اور عبارتی لحاظ سے اپنی نظر بیان فرمائیں۔
     Answer :
    جواب۔یہ خطبہ سند کے لحاظ سے معتبر نہیں ہے اور قابل اعتبار اسناد کے ساتھ بھی ہم تک نہیں پہنچا ہے ۔نہج البلاغہ اور دوسری معتبر کتابوں میں بھی نہیں آیا ہے ۔متن اور عبارت کے لحاظ سے بھی آشفتہ اور بے ربط ہے ایسی تعبیروں ،الفاظ اور مفاہیم پر مشتمل ہے جو امام علیہ السلام کی جانب سے صادر ہونے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
  • QaID :  
  • 11994  
  • QDate :  
  • 2012-06-07  
  • ADate :  
  • 2012-06-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے زمانے میں شیعہ مذہب کا وجود میں آنا۔ سوال۔بعض نشستوں میں وہابی، شیعوں سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو شیعہ مذہب کی ضدّ پر مبنی ہوتی ہیں۔مثلاًیہ کہ :"شیعہ مذہب امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں وجود میں آیا اور رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے زمانے میں نہیں"۔ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ :"آپ کے مذاہب کے آئمہ(آئمۂ اربعہ)،سب امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ کے شاگرد ہیں ۔" وہ کہتے ہیں :"ہم اس سنتِ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم جس میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہ ہوئی ہو ،عمل کرتے ہیں ،لیکن آپ لوگ جو کچھ آپ کے امام کہتے ہیں ،اس پر عمل کرتے ہیں ،مثلاً آپ کی نماز کسالت آور(سُستی پیدا کرنے والی) ہے اور آپ کا وضو سُبک اور آسان ہے ۔آپ مٹی (خاک شفا) پر سجدہ کو کہاں سے لائے،جبکہ پیغمبر کے زمانے میں خاکِ شفا نہیں تھی۔بہت سی احادیث ہیں کہ علی علیہ السلام ،ابوبکر ، عمر اور عثمان کے زمانے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا تھا "۔ ہم حضرت عالی کے حضور ان شبہات کے جوابات کے طالب ہیں ۔
     Answer :
    جواب۔بہت سارے دانشمند حضرات نے ،امام صادق علیہ السلام کے حضور ،مذاہب اربعہ کے آئمہ اور علماء کی شاگردی کو بیان کیا ہے ۔ابو حنیفہ کا یہ قال مشہور ہے :" اگر وہ دو سال(کہ جب امام صادق علیہ السلام کی خدات میں تھا) نہ ہوتے تو نعمان(ابوحنیفہ) ہلاک ہوجاتا ۔ " کمال الدین محمد بن طلحہ الشافعی اپنی کتاب " مطالب السؤال"میں کہتا ہے :"بزرگوں اور رہنماؤں کا ایک ایسا گروہ تھا جو امام صادق علیہ السلام سے حدیث نقل کرتا تھا اور ان کے علم سے بہرہ مند ہوتا تھا ،ان میں سے یحییٰ بن سعیدانصاری،ابن جریح ،مالک بن انس (مالکی مذہب کے امام)،سفیان ثوری،ابن عیینہ،ابو حنیفہ(حنفی مذہب کے امام) شعبۃ بن حجاج،ایوب سجستانی اور دوسرے بہت سے ہیں۔ قرمانی صفحہ نمبر۱۱۲ پر کہتے ہیں :" امام صادق علیہ السلام حدیث میں امام اور رئیس(صدراور سربراہ)تھےاور ان سے یحییٰ بن سعید،ابن جریح ، مالک بن انس،سفیان ثوری،ابن عیینہ،ابو حنیفہ ،شعبہ اور ایوب سجستانی نے روایت کی ہے ۔"اور یہ حضرات ،عامّہ (اہل سنت) کے نذدیک بزرگ فقہاء اور مذاہب کے رہنما ہیں ۔" یہ جو کہا جاتا ہے کہ عامّہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی سنت پر عمل کرتے ہیں کہ جس میں ہرگز بھی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے ،صحیح نہیں ہے ۔کیوں کہ ان کے مذاہب کے آئمہ نے اجتہاد کیا ہے اوروہ رائے،استحسان،قیاس اور مصالح مُرسلہ پر عمل کرتے ہیں ۔اور یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ مکمل طور پر سنت نبوی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ان تک نہیں پہنچی ہے بلکہ اس میں سے بہت ساری ضایع ہوگئی ہے اور اس کے آثار باقی نہیں ہیں ۔پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے، تمام احکامات اور دنیا اور آخرت سے متعلق قیامت تک کے لیے جس چیز کی بھی لوگوں کو ضرورت تھی،بیان فرمادیا، جبکہ ہم صحاح ستّہ اور ان کی دوسری کتابوں میں ،سوائے مختصر سنن نبوی کے کچھ بھی نہیں پاتے۔اسی وجہ سے مجبوراً انہیں قیاس اور استحسان کی طرف رُخ کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ان کے ہاں اجتہاد کا باب ،سنن اور اخبار کے ضایع ہونے کہ وجہ سے بند ہوچکا ہے ۔(چونکہ خلفاء نے خاص طور پر عمر نے احادیث کی تدوین پر پابندی لگادی تھی اس لیے عامّہ کے ہاں سنت نبوی ضایع ہوگئی)۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احکام اور سنت ،جو پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے بیان فرمائی کہاں چلی گئی ہے ؟ کیا اس کو اصحاب کے پاس امانت رکھوا دیا ہے؟اور جبکہ یہ روشن ہوچکا کہ بعض احکام اور سنن ضایع ہوچکی ہیں ۔ لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے تمام علوم اور امّت کے لیے ضروری شرعی احکام کو امام علی علیہ السلام کے پاس امانت رکھوایا ہے ۔وہ امام جس کے بارے میں قرآن نے (وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌)﴿الرعد، 43﴾(اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔)تعبیر کیا ہے ۔ علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ : "پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے علم کے ہزار باب مجھے سکھائے کہ جن سے دوسرے ہزار باب کُھلتے ہیں ۔" حاکم نے مستدرک کی تیسری جلد کے صفحہ نمبر ۱۲۶پر صحیح سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اپنی زندگی میں فرماتے تھے : " خدا کی قسم ،میں بھائی ،دوست،چچا کا بیٹا اور پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے علم کا وارث ہوں ۔لہٰذا کون ہے جو ان کی نسبت ،مجھ سے زیادہ حق دار ہے ؟" شیعہ اور سنی دونوں نے روایت کی ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا:"اَنا مدینۃُ العِلمِ و علیٌ بٰابُھا" میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ کیوں کہ ان علوم اور احکام کو اہل بیت علیہم السلام نے ارث میں حاصل کیا ہے تو انہوں نے اس بات پر بنا رکھی کہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بیان اور روشن کریں ۔اسی وجہ سے فقہی ،روائی اور سنن پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے مراکز شیعوں کے پاس زیادہ اور وسیع رہے ہیں ۔یہ سنت نبوی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور قو ل امام پر عمل کے صحیح معنیٰ ہیں ۔ عامّہ کے لیے اجتہاد کا دروازہ ،چاروں آئمہ کے زمانے تک کُھلا تھا ، لیکن اس کے بعد بند ہوگیا اور امّتی چاہے دانشمند ہوں یا نادان ،ان آئمہ کے مُقلّد ہوگئے ۔وہ آئمہ جنہوں نے پیغمبر کا زمانہ درک نہیں کیا اور مختصر سنن نبوی کے علاوہ کچھ بھی ان تک نہیں پہنچا ،اور نتیجہ میں قیاس اور استحسان کی طرف چلے گئے۔ لیکن امامیہ (شیعہ) قیامت تک کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رہنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔اور اجتہاد کو ،کتاب خدا (قرآن) ،سنت نبوی،اجماع اور عقل سے شرعی حکم کا استنباط ،جانتے ہیں ،اس طرح سے کہ ذکر کیے گئے منابع اور مأخذ سے تمام پیش آنے والے جدید مسائل سے متعلق حکم کا استنباط ممکن ہے ۔ لیکن علمای عامّہ ، جہان میں رونما ہونے والے واقعات کی نسبت حیران اور سرگردان ہیں ،کیوں کہ ان کے لیے سنت نبوی سے احکام کو استنباط کرنا ممکن نہیں ہے،چوں کہ جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ محدود اور مختصر ہے ۔اسی بنا پر وہ اپنے چار آئمہ کی پیروی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رکھتے ،اور انہوں نے آج کے زمانے کی ضرورت کے مسائل کو نہیں چھیڑا ہے ۔ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے سے متعلق ( کہ جسے وہ حضرات کسالت اور سستی کی نماز سے یاد کرتے ہیں ) بہت ساری روایات عامّہ کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم بغیر کسی اضطرار اور خوف کے بہت سارے مواقع پر دو نمازوں (مثلاً ظہر و عصر اور مغرب و عشاء) کو اکٹھا یا ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے،اور یہ چیز (پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا عمل) ایک ساتھ اور الگ الگ(وقت کے فاصلہ کے ساتھ پڑھنے)کے درمیان اختیار پر دلالت کررہی ہے۔اگرچہ وقت کے فاصلہ کے ساتھ پڑھنا ،افضل ہے ،کیوں کہ اس صورت میں نماز اپنی فضیلت کے وقت پڑھی جاتی ہے۔ مٹی پر سجدہ کرنے سے متعلق مسئلہ میں ایسا اس لیے ہے کہ امامیہ سجدہ کو زمین اورزمین سے اگنے والی چیزوں(جو کھانے اور پہننے والی نہ ہوں) پر صحیح اور اس کے علاوہ پر باطل جانتے ہیں ،اور اسی طرح سے سجدہ کی جگہ کے پاک ہونے کو معتبر جانتے ہیں ۔ عامّہ کی وہ روایات جو اس بات پر دلالت کررہی ہیں : پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا وہ فرمان کہ : خداوندعالم نے زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی چیز قرار دیا ہے ۔ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم گرم سنگ ریزوں پر سجدہ کرتے تھے اور اپنی عبا کو (ان کی گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے ) ان پر نہیں ڈالتے تھے۔ ابن اثیر نے جامع الاصول کی جلد نمبر ۶میں صفحہ نمبر ۲۵۶ پر ابی سعید خدری سے روایت کی ہے کہ اس نماز میں جو پیغمبر لوگوں کے ساتھ ادا کرتے تھے مٹی کا نشان آپ کی پیشانی اور ناک پر نظر آتا تھا ۔اور یہ نشان مٹی پرسجدہ کرنے پر دلالت کررہا ہے ۔چونکہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم یہ فرماتے تھے :" صلّوا کما رأیتموني اُصلّي "اسی طرح نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض شیعہ حضرات ،امام حسین علیہ السلام کی قبر کی مٹی یا تربت کوسجدہ کے لیے انتخاب کرتے ہیں ،ایسا اس لیے ہے کہ یہ مٹی ( خاک شفا) ،طاہر ،شریف اور مقدس ہے ۔عامّہ سے بہت سی روایات پائی جاتی ہیں کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے کربلا کی مٹی کو ایک شیشی میں ڈال کر ، امّ سلمہ کے پاس امانت رکھوایا تھا اور انہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر دی تھی۔یہ مٹی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے دن سرخ ہوگئی تھی ۔(محب الدین طبری نے "ذخائر العقبی " کے صفحہ نمبر ۱۴۸ پر ذکر کیا ہے کہ احمد بن ضحاک نےعلی علیہ السلام سے نقل کیا کہ :میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انکی آنکھوں کو (انہیں ) روتا دیکھا ۔میں نے عرض کیا کہ : کیا کسی نے آپ پر ظلم کیا ہے ؟ کیوں آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں ؟ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا:ابھی جبرئیل میرے پاس تھے اور مجھ سے کہہ رہے تھے کہ حسین علیہ السلام کو شطّ فرات کے کنارے قتل کردیا جائے گا ۔اس کے بعد کہا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی قتل گاہ کی مٹی آپ کو دوں ؟ میں نے کہا :ہاں۔پھر جبرئیل نے ہاتھ اُٹھایا اور ایک مُٹھی خاک مجھے دی ،اس کے بعد میرے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے)۔ اس لے علاوہ یہ مٹی ہمارے لیے خدا کے راستہ میں دینِ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو یاد دلاتی ہے ۔ لہٰذا جو بھی اس پاک مٹی پر سجدہ کرتا ہے تو یہ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ لازمی طور پر شائستہ اور خالص اعمال و کردار رکھتا ہو۔ اور اس بات کے لیے تیار رہے کہ اپنی جان اور ہر وہ چیز جو اس کے لیے قیمتی ہے،خدا کے راستہ میں پیش کردے،اور اس طرح سے خدا کے لیے خضوع اور خشوع اور زیادہ ہوجاتا ہے ۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی جانب سے خلفاء کی مخالفت نہ کرنے سے متعلق مسئلہ میں،اگر مراد یہ ہے کہ امام ان کو قبول کرتے تھے اور ان کی تائید کرتے تھے ،انہوں نےان کے مقابلہ میں دلیل قائم نہیں کی ،کیوں کہ خلافت کے لیے کہ خود کو ان سے زیادہ برحق اور برتر نہیں جانتے تھے تو یہ ایک ایسے مسئلہ کا انکار ہے جو پوری طرح سے آشکار اور واضح ہے۔کیوں کہ تاریخ ،روایات اور سیرتوں نے امام کی بہت ساری مخالفتیں ،احتجاجات،ناراضگی کے اظہار، ان کی پیروی سے امام کا انکار اور پہلوتہی اور اسی طریقہ سے جو ظلم و ستم آپ پر کیے گئے اور آپ کا حق غصب کیا گیا ،ان سب پر راضی نہ ہونے کے بارے میں لکھا ہے اس بات کی مزید وضاحت کے لیے کتاب " المراجعات " کے صفحہ ۲۸۳ سے ۲۹۰اور اسی طرح سے نہج البلاغہ کے تیسرے خطبہ (شقشقیہ کے نام سے مشہور)،اسی طرح سے مہاجر اور انصار خواتین کے سامنے مسجد نبوی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم میں حضرت زہرا علیہا السلام کے خطبہ اور اسی طریقہ سے امام علی علیہ السلام کے خلفاء سے احتجاج کو مرحوم طبرسی کی کتاب"احتجاج" میں ملاحظہ فرمائیں ۔ حضرت علی علیہ السلام خود کو وصی پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم، ان کا جانشین،امیرالمؤمنین اور غدیر کے دن صاحب بیعت جانتے تھے ۔شیعہ روایات کے علاوہ عامّہ کی کتابوں میں متواتر روایات ،اس مسئلہ پر دلالت کررہی ہیں۔ اور اگر حضرت علی علیہ السلام کی جانب سے عدم ِمخالفت سے مراد یہ ہے کہ آپ نے مخالفین کے ساتھ جنگ نہیں کی اور اپنے حق کو طاقت سے حاصل نہیں کیا ،توہاں یہ بات صحیح ہے ۔
  • QaID :  
  • 11981  
  • QDate :  
  • 2012-06-06  
  • ADate :  
  • 2012-06-06  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع : آئمہ کو سلام کرنا۔ سوال۔ اس بات پر کونسی قطعی دلیل پائی جاتی ہے کہ ،معصومین علیہم السلام ہمارے کلام کو سنتے ہیں اور ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں ؟ (مثلاً ہم نماز میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سلام بھیجتے ہیں یا مختلف زیارتوں میں آئمہ پر سلام بھیجتے ہیں اور دوسری باتوں کو ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں ،اگر ان کی طرف سے جواب نہیں دیا جاتا تو پھر انہیں سلام کرنا کیسے صحیح ہے)۔
     Answer :
    جواب۔ وسائل الشیعہ کی دسویں جلد،چوتھے باب ،صفحہ نمبر۲۶۳،پہلی حدیث میں پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے روایت اس مضمون کے ساتھ آئی ہے :( بے شک ،میری رحلت کے بعد ،بہت فاصلہ سے بھی سلام مجھ تک پہنچے گا اور میں اسے نذدیک سے سنوں گا۔)اس صورت میں ،یہ بات بعید ہے کہ وہ سلام کا جواب نہ دیں (جب وہ خود فرمارہے ہیں کہ ہم سنتے ہیں ) اور خاص طور پر آنحضرت نے ہمیں سلام کے جواب کا حکم فرمایا ہے ۔حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے وقت ان کے حرم میں داخل ہونے کی اجازت مانگتے ہوئے ہم عرض کرتے ہیں :"امام علیہ السلام ہماری جگہ کو دیکھتے ہیں ، ہمارے کلام کو سنتے ہیں اور ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں "۔(یرون مقامی و یسمعون کلامی و یردّون سلامی)۔ وسائل الشیعہ کی دسویں جلد ، صفحہ نمبر ۲۴۶،پانچویں حدیث ،مزار سے متعلق ابواب کے چوتھے باب میں امیرالمؤمنین علیہ السلام سے آیا ہے کہ : " جو شخص بھی اس زمین کے کسی کونے سے بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے ،وہ مجھ تک پہنچتا ہے اور جو بھی میری قبر کے پاس مجھے سلام کرے گا ، میں اسے سنوں گا"۔( من سلّم علیّ فی شیء من الارض ابلغتہ و من سلّم علیّ عند القبر سمعتہ)۔ عُدّۃ الداعی میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام کے سر کے نذدیک یہ کہتے تھے : " اے ابا عبداللہ ،میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ میرے مقام کو دیکھتے ہیں ،میرے کلام کو سنتے ہیں اور بے شک آپ خدا کی بارگاہ میں زندہ اور اس کی نعمتوں سے بہرہ مندہیں۔۔۔"۔(عُدۃالدّاعی،ابن فہد حلّی،مفاتیح الجنان ،امام حسین علیہ السلام کے حرم کے اعمال میں دعا نمبر ۱۶،صفحہ نمبر۵۵۲)۔ جامع الاحادیث میں ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: " بے شک ،ایک فرشتہ نے خدا سے عرض کی کہ اسے لوگوں کے کلام کو سننے کی صلاحیت اور خصوصیت عطا فرما،تو اسے خدا نے عطا فرمادی،اس وقت سے قیامت تک وہ فرشتہ کھڑا ہے ،اور مومنین میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو کہے، صلّی اللہ علیہ و آلہٖ اور وہ فرشتہ نہ کہے،و علیک السلام ۔اور اس کے بعد کہے: اے رسول خدا،فلاں شخص آپ پر سلام بھیج رہا ہے ،اس کے بعد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم فرماتے ہیں: وعلیہ السلام"۔(جامع الاحادیث ،جلد نمبر ۱۵،صفحہ نمبر۴۲،دوسرا باب ،زیارۃ النبی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی کیفیت ،ح۱۱،امالی طوسی سے)۔ جعفریات ، علی علیہ السلام سے استناد کرتے ہوئے،کہتے ہیں: "رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: چار چیزوں کو خدا نے واسطہ اور شفیع قرار دیا ہے : جنّت،جہنم،حورالعین اور وہ فرشتہ جو میری قبر کے پاس میرے سر کے نذدیک ہے ۔پھر جب بھی میری امّت میں سے کوئی بندہ یہ کہتا ہے : اللھمّ زوّجنی من الحور العین،تو حورالعین کہتی ہے :خدایا مجھے ،اسے عنایت فرما۔اور جب بھی کہتا ہے :اے میرے خدا مجھے آتش جہنم سے رہائی عطا فرما،تو آتش جہنم کہتی ہے : خدایااسے مجھ سے رہائی عطا فرما۔جب بھی کہتا ہے : اے خدا میں تجھ سے جنّت کا طالب ہوں ،تو جنت کہتی ہے :اے خدا مجھے ،اسے عطا کردے ۔اور جب بھی کہتا ہے : اللھمّ صلّی علی محمد و آل محمد،میرے سر کے نذدیک فرشتہ یہ کہتا ہے :اے محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،فلاں ابن فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے ،اس کے بعد میں کہوں گا : صلّی اللہ علیہ کما صلّی علیّ۔خدا اس پر درود بھیجے جس طرح سے اس نے مجھ پر درود بھیجا ہے "۔(جامع الاحادیث،حدیث نمبر ۲۳)۔
  • QaID :  
  • 11969  
  • QDate :  
  • 2012-06-04  
  • ADate :  
  • 2012-06-04  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: آئمّہ علیہم السلام کے معجزات اور کرامات۔ سوال۔آپ کی نظر مبارک آئمہ علیہم السلام کے معجزات اور کرامات کے بارے میں کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔اس بارے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں : ۱۔ امام علیہ السلام خدا کو پکارتے (دعا کرتے) ہیں اور خداوندعالم ان کی دعا کو مستجاب کرتا ہے اور جو چیز معجزہ یا غیر معمولی کام ہوتا ہے اسے متحقق کرتا ہے۔ ۲۔ پیغمبرصلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور امام علیہ السلام خود اس کرامت یا معجزہ کو خدا کی اجازت اور ارادہ سے انجام دیتے ہیں ، مثلاً امام خود بیمار کو شفا دیتے ہیں ۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ خدا تعالیٰ نےانہیں یہ قدرت اور توانائی بخشی ہے۔ اگرچہ یہ دونوں نظریات ممکن اور محتمل ہیں لیکن ظاہر آیات کی روشنی میں اس قسم کی کرامات اور معجزات خود پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی طرف نسبت دیئے گئے ہیں : ( وَ إِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ کَهَيْئَةِ الطَّيْرِ۔۔۔)﴿المائدة، 110﴾ (اور جب تم نے مٹی سے پرندے کے شکل کی ایک چیز بنائی۔۔۔)۔ ( وَ مَا نَقَمُوا إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ )﴿التوبة، 74﴾ (انہیں اس بات پر غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان (مسلمانوں ) کو دولت سے مالا مال کر دیا ہے )۔ لہٰذا جس طرح سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،امام علیہ السلام اور دوسرے افراد کا کردار،خدا کے اذن اور اس کی قدرت سے ،اختیار کے ساتھ ہے ،پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور امام علیہ السلام کی کرامات بھی ان کے ہاتھ اور اختیار سے ہے لیکن یہاں پر بھی خدا کا اذن ،اس کی قدرت اور مشیت سے انجام پاتا ہے ۔
  • QaID :  
  • 11958  
  • QDate :  
  • 2012-06-03  
  • ADate :  
  • 2012-06-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: اہلِ بیت علیہم السلام سے توسّل۔ سوال۔مشہور یہ ہے کہ ،شیعہ بھائی ،آئمہ علیہم السلام اور صالحین سے توسّل کے قائل ہیں ۔بعض اہلِ سنت بھی یہ کہتے ہیں :شیعہ بھائی اس مسئلہ میں بعض روایات اور اسی طرح سے آیۂ کریمہ ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ) ﴿المائدة، 35﴾ (اور اس کی طرف(قربت کا)ذریعہ تلاش کرو)۔کی طرف استناد کرتے ہیں ۔اہل سنت نے "وسیلہ" کی تفسیر عمل صالح سے کی ہے ،جبکہ شیعہ، آئمہ علیہم السلام اور صالحین سے اس کی تفسیر کرتے ہیں ۔لیکن نہج البلاغہ میں جو بہت سے شیعہ بھائیوں کے نذدیک خاص اہمیت کی حامل اور موردِ اعتماد ہے ،اس کتاب میں ہم نے دیکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بھی وسیلہ کی عمل صالح سے تفسیر کی ہے ۔میرا سوال شیعہ تفسیر اور علی علیہ السلام کی تفسیر میں پائے جانے والے اختلاف اور تناقض کے بارے میں ہے ۔ نہج البلاغہ کی پہلی جلد،صفحہ نمبر ۲۰۵، خطبہ نمبر ۱۱۰میں : (إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَوَسَّلَ بِهِ الْمُتَوَسِّلُونَ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى الْإِيمَانُ بِهِ وَ بِرَسُولِهِ وَ الْجِهَادُ۔۔۔۔) ترجمہ: (یقیناً بہترین چیز جس کے ذریعہ اہل توسل خدا تک توسل کرسکتے ہیں وہ خدا اور اس کے نبی ﷺ پر ایمان اور خدا کی راہ میں جہاد (جو اسلام کی بلند چوٹی ہے ) اور خدا کی وحدانیت کا اقرار (کہ جو انسان کے لیے فطری ہے ) اور نماز قائم کرنے کے ذریعہ سے (جو اسلام کا آئین ہے) ہے)۔کہ جسے من لا یحضر الفقیہ نے بھی پہلی جلد ،صفحہ نمبر۲۰۵،نے بھی ذکر کیا ہے ۔
     Answer :
    جواب۔ وسیلہ ،ایک کلّی (وسیع) مفہوم ہے کہ جس کے بہت سے مصداق پائے جاتے ہیں ۔انہی میں سے ایک اپنی شرائط کے ساتھ عمل ِصالح (نیک عمل) ہے۔ اس کے دوسرے مصادیق میں سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے توسل ہے ۔لہٰذا جس طرح سے نیک عمل ،کامیابی اور نجات کی طرف ایک راستہ ہے اسی طرح سے اہل بیت سے تمسک بھی نجات کا راستہ ہے ۔اپنی شرائط کے ساتھ نیک عمل کا ذکر ،قرآن اور روایات کی بہت سی دلیلوں کی بنیاد پر ہے کہ جواس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ نجات اور کامیابی کا سبب نیک عمل اور صحیح اسلام کی طرف تمسک کرنے میں ہی منحصر ہے ۔اور صحیح اسلام کی شرائط میں سے عترت واہل بیت کی ولایت سے تمسک کرنا ہے۔کہ جس کا تقاضا یہ حدیث متواتر کررہی ہے : (میں ،تمہارے درمیان دو گرانقدر اور قیمتی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ،اگر تم نے ان دونوں سے تمسک کیا تو میرے بعد ہرگز بھی گمراہ نہیں ہوگے (اور وہ دونوں چیزیں ) خدا کی کتاب اور میری عترت ،یعنی میرے اہل بیت ہیں )۔( انّی مخلف (تارکٌ) فیکم الثقلین ما ان تمسکتم بھما لن تضلّوا بعدی ابداً کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی)۔ یہ حدیث ِ شریف اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ قرآن اور اہل بیت سے تمسک نہ کرنا گمراہی کا سبب ہے ۔ اسی طرح سے اہل سنت کے نذدیک ،صحیح احادیث تواتر کی صورت میں پائی جاتی ہیں، مثلاً:(یقیناً ،اہل بیت نوح کی کشتی کی طرح ہیں ،جو بھی اس میں سوار ہوا، اس نے نجات پائی ،اور جس نے بھی اس سے منہ پھیرا وہ غرق ہوا ۔ ( انّ اہل البیت کسفینۃ نوح من رکبھا نجا ومن تخلّف عنھا غرق)۔ اور اسی طرح سے ،(یقیناً علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے)۔(انّ علیاً مع الحق والحق مع علی)۔ بے شک "وسیلہ" کی تفسیر پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ سے کرنے پر ،اہل سنت اور شیعہ حضرات کی بہت سی معتبر حدیثیں دلالت کررہی ہیں کہ جن سب کا ذکر یہاں ممکن نہیں ہے ۔اورہم ان میں سے کچھ حدیثوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں ،جو اہل سنت کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ۔ ۱۔ وہ روایات جو حافظ ابو نعیم اصفہانی نے کتابِ " نزول القرآن فی علی علیہ السلام" میں ذکر کی ہیں ۔ ۲۔ وہ روایات جو حافظ ابو بکر شیرازی ،کتابِ "ما نزل من القرآن فی علی علیہ السلام " میں لے کر آئے ہیں۔ ۳۔امام احمد ثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ آیۂ شریفہ میں "وسیلہ " سے مراد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی عترت ہے۔ ۴۔ ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا طولانی خطبہ نقل کیا ہے کہ آپ علیہا سلام نے فرمایا: " میں اس خدا کی حمد و ثناء کرتی ہوں جو اپنی بڑائی اور نور کی وجہ سے ،اس چیز کی شائستگی اور لیاقت رکھتا ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اس سے توسّل کریں اور ہم اس کی مخلوق کے درمیان ، اس کا وسیلہ ہیں "۔( و احمد اللہ الّذی لعظمتہ و نوری ینبغی من فی السمٰوات و الارض الیہ الوسیلہ و نحن وسیلتہ فی خلقہ)۔ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم،آئمّہ علیہم السلام اور صالحین سے ان کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد توسل کے صحیح اور جائز ہونے میں شک نہیں ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری ،کتاب الفضائل،باب مناقب علی بن ابی طالب،صفحہ ۲۵ پرعمر سے نقل ہوا ہے کہ بارش طلب کرنے کی دعا میں حضرت عباس(پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے چچا )سے متوسّل ہوئے: " اے خدا ،ہم تیرے نبی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے واسطہ سے تیری طرف متوسّل ہوتے تھے ،اور تو ہمیں پانی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے چچا کے واسطہ سے توسّل کرتے ہیں لہٰذا ہمیں پانی عطا فرما۔۔۔" (اللھمّ انّا کنا نتوسّل الیک بنبیّک فتسقینا و انا نتوسل الیک بعمّ نبینا فاسقنا۔۔۔)۔ اسی طرح سے ،پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی حیات اور ان کی رحلت کے بعد ان سے توسل کرنے کے صحیح اور مشروع ہونے پر یہ آیت اپنے اطلاق کے تقاضہ کے ساتھ دلالت کررہی ہے : ( وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحِيماً )﴿النساء، 64﴾ (اور جب یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو اگر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پاتے)۔ اور اسی طریقہ سے اس مسئلہ پر طول تاریخ میں مسلمانوں کی سیرت ،پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،آئمّہ علیہم السلام اور صالحین کی قبروں سے توسل کرنے پر دلالت کررہی ہے ۔ اہلِ بیت علیہم السلام اور خدای تبارک و تعالیٰ کے چاہنے والوں سے توسل کی مشروعیت کو درک کرنے اور سمجھنے کے لیے بہت سی احادیث کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے ،مثلاً کتابِ" التاج الجامع للصحابۃ الستّہ" ،پہلی جلد،صفحہ نمبر ۳۱۸،نمازِ استسقاء کے بیان میں احادیث کو ذکر کرنے کے بعد ،اس بارے میں آیا ہے : " خدا سے اس کے دوستوں اور چاہنے والوں کےذریعہ توسّل کرنا جائز ہے "(یجوز التوسّل الی اللہ باحبابہ)۔ اس طرح سے توسّل کے بارے میں اہل سنت کی احادیث میں سے درج ذیل موارد کی طرف رجوع کیجئے : ۱۔ احقاق الحق ،چوتھا حصّہ،صفحہ نمبر ۹۱، نواں حصہ ،صفحہ نمبر۱۰۴ اور ۱۰۵ ،اسی طرح سے چوتھی جلد،صفحہ نمبر۴۸۷ سے ۴۸۹ تک،اور نویں جلد ،صفحہ نمبر ۱۹۳۔ ۲۔ الفضائل الخمسہ فی الصحاح الستہ،پہلی جلد،صفحہ نمبر ۱۷۰۔ لیکن "وسیلہ " کی تفسیر میں اہل بیت علیہم السلام کو بیان کرنے سے متعلق ،شیعہ کُتب میں بہت سی احادیث ملتی ہیں کہ جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں : ۱۔ علی بن ابراہیم قمّیؒ نے آیۂ ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ) ﴿المائدة، 35﴾ کی تفسیر میں کہا ہے : یعنی امام کے واسطہ سے خدا کی قربۃ تلاش کرو۔(تقربوا الیہ بالامام)۔ ۲۔ تفسیرِ برہان میں (بحرانیؒ ) نے ابن شہر آشوب (مازندرانیؒ ) سے ذکر کیا ہے : امیر المؤمنین علیہ السلام نے خدا کے فرمان،( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ) کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : میں اس تک رسائی کا وسیلہ ہوں ۔(انا وسیلتہ ) ۔ اور اسی طرح سے دوسری بہت سی روایات میں بھی بیان ہوا ہے ۔ یہ بات قابل اعتراض نہیں ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور آئمہ علیہم السلام کے علاوہ بھی وسیلہ موجود ہو،مثال کے طور پر نیک عمل اپنی شرائط کے ساتھ ،کیوں کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،امام علیہ السلام یا عترت رسول علیہم السلام وسیلہ کے مصادیق میں سے ہیں ۔ بلکہ جس طریقہ سے ہم نے وسیلہ کے معنیٰ کیے ہیں کہ قرآن و عترت سے تمسک کرنا صحیح اسلام تک پہنچنے کی شرط ہے لہٰذا نیک عمل قرآن اور عترت سے تمسک کے ساتھ ہی ہے۔ لیکن جو چیز امام علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمائی ہے ،مصادیق کو ذکر کرنے کے عنوان سے ہے اور باب حصر سے نہیں ہے (کہ اسی ایک معنیٰ میں منحصر ہو) اوراہل سنت کی بعض تفاسیر میں اہلِ بیت کو اس عنوان سے ذکر نہ کرنا ،ان بہت سی دوسری آیات کی طرح سے ہے کہ جو اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں ،اور ان کے مفسرین نے مختلف وجوہات کی بنا پر اس سے چشم پوشی کی ہے ۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011