پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Friday 10 July 2020 - الجمعة 17 ذو القعدة 1441 - جمعه 20 4 1399
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 14076  
  • QDate :  
  • 2013-03-03  
  • ADate :  
  • 2013-03-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:آیۂ ( سئل سائل بعذاب واقع ) کا شان نزول۔ سوال۔ بعض لوگ قدیم اہل سنت مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آیۂ ‘‘سئل سائل بعذاب واقع* للکافرین لیس لہ دافع* من اللہ ذی المعارج ’’( معارج/1سے3) ترجمہ: ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے ہی والا ہے۔کفار کے لیے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے۔ عروج کے مالک اللہ کی طرف سے ہے۔ مکی ہے اور ہرگز بھی قبول نہیں کرتے کہ سائل نضر بن حارث تھاکہ جس نے غدیر کے دن امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کے بعد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے عذاب طلب کیا تھا۔ جیسا کہ اس بات پر شیعہ اور بہت سے سنی مفسرین کا اجماع ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ، ایسے شخص کی حیثیت جو آئمہ علیہم السلام کی بہت سی صحیح السند روایات کا انکار کرتا ہے، کیا ہے؟ اور کیا اہل بیت علیہم السلام کی روایات کا انکار کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان کو ردّ کرنے کی طرح ہے؟
     Answer :
    جواب: شیعہ اور بہت سے مفسرین عامّہ جیسے ثعلبی نے اپنی تفسیر میں، قرطبی، حاکم حسکانی اور دیگر نے مشترکہ طور پر روایت کی ہے کہ یہ آیت واقعۂ غدیر کے بعدنعمان بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔جیسا کہ مجمع البیان اور تفسیر المیزان میں آیا ہے۔ لیکن مفسرین عامہ میں سے ایک نے کہا ہے: سوال کرنے والا مکہ میں نضر بن حارث تھا اور بدر کے دن اس پر عذاب نازل ہوا۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ نزول آیت کے مصداق کے بارے میں تحریف واقع ہوئی ہے۔اور پورے کا پورا سورہ مکی نہیں ہے۔ اس بات کی تائید اس طرح ہوتی ہے کہ حارث کا نام ذکر کیا ہے اور نعمان کو نضر سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ حتیٰ کوئی اس بات کا قائل بھی ہے کہ یہ آیت کسی دوسرے شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود حارث کا نام بھی اس کے قول میں موجود ہے۔بعض اہل سنت مفسرین نے کہا ہے کہ سائل نضر بن حارث تھا اور واقعہ غدیر کے بعد کا ہے۔ لیکن یہ بات بھی تحریف شدہ ہے کیوں کہ نضر بن حارث بدر کے روز امیرالمومنین علیہ السلام کے ہاتھ سے مارا گیا تھا۔ شاید سائل اس کا بیٹا جابر رہا ہو اور بعید نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہوں(الغدیر،جلد1،صفحہ239،285سے 315،بیروت کی اشاعت)۔ بہ ہر حال اس آیت کا مفسر اہل علم و معرفت اور خاص طور پر شیعہ ہونے کا دعویدار ہوتو ضروری ہے کہ وہ اس واقعہ کو نقل کرے اور اس فضیلت کو بھی روشن کرے۔ لیکن اس بارے میں اہل بیت علیہم السلام کی رویات کو نقل نہ کرنا، اہل بیت کے انکار کے معنیٰ میں نہیں ہے کہ ایک طرح سے خداوندمتعال کے انکار کاسبب بنے، اور نتیجے میں شرک کی حدود میں شمار ہو۔ لیکن اگر روایت متواتر ہو یا معلوم الصدور ہو اور اس کی دلالت بھی تامّ اور کامل ہو تو اس صورت میں، ایسی روایت کو ردّ کرنا اہل بیت علیہم السلام کو ردّ کرنا شمار ہوگا۔
  • QaID :  
  • 14067  
  • QDate :  
  • 2013-03-02  
  • ADate :  
  • 2013-03-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: صراط کا مجسم ہونا۔ سوال: ایسے شخص کے بارے میں شارع مقدس کی کیا نظر ہے جو صراط کو ایک راز یا مرموز چیز جانتا ہے؟ وہ کہتا ہے: لفظ صراط کسی مادّی چیز کو بیان نہیں کرتا۔ قرآن میں صراط اس راستے یا طریقے سے تعبیر ہے جو انسان اچھے یا برے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے طی کرتا ہے۔ اسی لیے جہاں بھی قیامت میں صراط کی نزاکت یا باریکی کی بات کی جاتی ہے، دراصل اس باریکی کے لیے کنایہ کے طور پر ہے جو سیدھے راستے اور انحرافی راستے کو معیّن کرنے کے درمیان پایا جاتا ہے۔البتہ صراط کے حقیقی وجود اور ظاہری جسم رکھنے سے متعلق معصومین علیہم السلام کے بہت سے اقوال پائے جاتے ہیں۔
     Answer :
    جواب: لغت میں صراط راستے کے معنیٰ میں ہے اور اس لیے اس کا نام صراط رکھا گیا کہ یہ ثواب الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔امیرالمومنین اور آئمہ علیہم السلام کوبھی صراط کے نام سے یاد کیا گیا ہے، کیوں کہ ان ہستیوں کہ معرفت اور ان سے تمسک کرنا خدا تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ ‘‘ میں اللہ کا سیدھا راستہ اور اس کی نہ ٹوٹنے والی مضبوط رسی ہوں’’ (انا صراط اللہ المستقیم و عروتہ التی لاانفصام لھا) بحارالانوار، جلد8،صفحہ70۔ اگر قیامت میں صراط، میزان عدل، جنّت و جہنّم، اور اعمال کے حساب و کتاب کے وجود کی حقیقی شناخت ہمارے لیے ممکن نہ ہوتو ہم پر واجب ہے کہ کم سے کم اجمالی صورت میں ان چیزوں پر عقیدہ رکھیں۔لیکن جو بات روایات سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ صراط کوئی راز یا اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک مجسّم حقیقت اور جہنم کے اوپر ایک پُل ہے۔کچھ لوگ بجلی کی سی سرعت کے ساتھ، ایک گروہ تیزی سے دوڑتا ہوا اور بعض لوگ گرتے پڑتے اس پر سے گزریں گے۔لیکن بعض لوگ اس سے لٹک جائیں گے اور جہنّم انہیں اپنی طرف کھینچ لے گا (بحارالانوار،جلد8،صفحہ64)۔ شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے: ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ صراط حق ہے اور وہ جہنم کے اوپر ایک پُل ہے اور ہر ایک انسان اس پر سے گذرے گا۔‘‘ و اِن منکم اِلّا واردھا کان علیَ اللہ حتماً مقضیا ’’ (مریم/71) ترجمہ: اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہو گا جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ حتمی فیصلہ آپ کے رب کے ذمے ہے۔ صراط ایک دوسرے معنیٰ میں ،خدا کی حجّتوں کا نام ہے۔ جس نے بھی خدا کی ان حجتوں کو اس دنیا میں پہچانا اور ان کی پیروی کی، خداوند متعال اسے قیامت کے دن صراط پر سے گذرنے کی اجازت عطا فرمائے گا۔ شیخ صدوق علیہ الرحمۃ کے قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ صراط ایک مجسم اور ظاہری حقیقت ہےاور وہ جہنم کے اوپر ایک پُل ہے۔اگرچہ اس کے دوسرے معنیٰ بھی ہیں۔
  • QaID :  
  • 14066  
  • QDate :  
  • 2013-03-02  
  • ADate :  
  • 2013-03-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: غزواۃ میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی شرکت۔ سوال: میں نے کتابوں میں تلاش کیا ہے لیکن میں نے کہیں نہیں دیکھا کہ حضرت سلمان نے پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ غزواۃ میں جنگجو یا مجاہد کے عنوان سے شرکت کی ہو۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
     Answer :
    جواب: جیسا کہ بحارالانوار میں ذکر کی گئی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ، حضرت سلمان محمدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ان افراد میں شامل تھے جو رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ جنگوں اور غزواۃ میں شرکت کیا کرتے تھے اور آپ ہی تھے کہ جنہوں نے جنگ خندق میں آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کو مدینہ منورہ کے اطراف میں خندق کھودنے کا مشورہ دیا تھا( بحارالانوار، جلد20، صفحہ417)۔ اسی طرح آپ، سن آٹھ ہجری میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ طائف گئے۔ اور پیغمبر کی خدمت میں عرض کیا: میرے خیال میں ضروری ہے کہ دشمن کے قلعہ کے سامنے منجنیق نصب کیجیئے( بحارالانوار، جلد21، صفحہ168)۔ روایت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ سلمان رضی اللہ عنہ کا چھوڑہ ہوا ترکہ، ایک تکیہ، ایک تلوار اور ایک مٹی کا پیالہ تھا(بحارالانوار، جلد72، صفحہ54)۔ اس بنا پر روایات کے مجموعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت سلمان نے جنگوں میں شرکت کی اور جنگ بھی کی ہے۔ آپ اور دوسرے مخلص صحابہ کے ناموں کے ذکر نہ ہونے کی وجہ، اکثر اوقات یہ رہی ہے کہ دیگر افراد سے متعلق روایات، خدا کی راہ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شجاعت ، آپ کی جاں نثاری اورجنگوں میں آپ کی بہادری، سےمتعلق روایات کے سامنے ماند پڑجاتی ہیں۔ اس بنیاد پر، بہت سی جنگوں میں حضرت امام علی علیہ السلام اور آپ کی شجاعت کا ذکر ملتا ہے اور دوسرے واقعات رہ جاتے ہیں۔ سفینۃ البحار میں بھی اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلمان رضوان اللہ علیہ تمام جنگوں میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ شریک رہے ہیں۔
  • QaID :  
  • 14065  
  • QDate :  
  • 2013-03-02  
  • ADate :  
  • 2013-03-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خدمت میں حاضر ہونا۔ سوال: بعض روایات کہتی ہیں کہ: جب سلمان محمدی رضی اللہ عنہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تشریف فرماں ہوتی تھیں لیکن جب ابوذر رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ علیہا السلام پردے کے پیچھے تشریف لے جاتی تھیں۔ اس مسئلہ کا کیا راز یا حقیقت ہے؟
     Answer :
    جواب: ہم نے ایسی روایات کہ جن کی طرف سوال میں اشارہ کیا گیا ہے، نہیں دیکھی ہیں۔ لیکن بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حرےت سلمان رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، آپ علیہا السلام سے گفتگو کیا کرتے اور آپ کا حال احوال دریافت کیا کرتے تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا جناب سلمان کے خاص مرتبےکی وجہ سے ہو، جیسا کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے: سلمان منّا اہل البیت۔ روایت میں آیا ہے کہ ایمان کے دس درجہ ہیں اور سلمان ایمان کے نویں درجہ پر فائز ہیں۔ سلمان ایسی بزرگ ہستی کے مالک تھے جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے اوصیاء اور خاص دوستوں میں سے تھی اور آپ علیہ السلام کے حق کا دفاع کرنے والوں میں سے تھے۔ اس کے علاوہ ضعیف العمرصحابی کے ساتھ، گذشتہ انبیاء کے اوصیاءمیں سے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اسم اعظم کا علم بھی تھا۔
  • QaID :  
  • 14057  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کا ضروری ہونا۔ سوال: بعض لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ، یہ حدیث ‘‘ جو بھی مرجائے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے وہ جہالت کی موت مرا ہے’’ اس حدیث کی سند اعتراض سے خالی نہیں ہے، آپ کی نظر اس بارے میں کیا ہے؟
     Answer :
    جواب۔ یہ حدیث شیعہ اور سنی دونوں کے نزدیک متواتر حدیثوں میں سے ہے، اور اس کی سندیں صحیح ہے۔ان ہی میں سے ایک سند کے ساتھ یہ حدیث ہے جسے مرحوم کلینی نے اصول کافی کی دوسری جلد میں باب دعائم الاسلام کی چھٹی حدیث کومحمد بن یحییٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے عیسیٰ بن سری ابی یسع سے روایت کی ہے۔یہ سند صحیح اور روایت طویل ہے، رجوع فرمائیں(اصول کافی جلد1،صفحہ371،376،377،378،اور اصول کافی جلد2،صفحہ20،21، اور بحارالانوار جلد8،صفحہ12،168،362،368، اور مستدرک جلد18،صفحہ174،177،183،187)
  • QaID :  
  • 14055  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:شعائر حُسینی علیہ السلام ۔ سوال: شعائر حسینی علیہ السلام کے بارے میں آپ کی کیا نظر ہے ؟ اور ان لوگوں کے جواب میں آپ کیا فرماتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ عزاداری اور شعائر حسینی ، آئمہ علیہم السلام کے زمانے میں نہیں تھی لہٰذا آج مشروعیت نہیں رکھتی۔
     Answer :
    جواب: حق یہ ہے کہ یہ شعائر حسینی اور عزاداری ،شعائر الٰہی کے روشن اور واضح مصادیق میں سے ہیں ، اس بنیاد پر خدا وند عالم کا یہ فرمان،ان چیزوں کو شامل کیے ہوئے ہے: (وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ‌ )﴿الحج‏، 32﴾(جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔) اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ عزاداری آئمہ علیہم السلام کی تاریخ میں ذکر نہیں ہوئی ہے، اس سے متعلق یہ ضروری ہے کہ کہا جائے : 1۔ کہیں کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض چیزیں جو تاریخ میں واقع ہوئی ہیں لیکن وہ بعض وجوہات کی وجہ سے تاریخ میں نقل نہیں ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر مؤرخ ہر قسم کے واقعات کو لکھنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا تھا یا کسی محدودیت یا پابندی کی وجہ سے اور رابطہ قائم کرنے میں پائی جانے والی سختیوں کی وجہ سے کسی واقعے یا حادثے کی خبر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچتی تھی یا بہت دیر میں پہنچتی تھی۔لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ایک جگہ پر عزاداری برپا ہوتی رہی ہو لیکن ایک دوسری سرزمین کے رہنے والوں کو اس کی خبر نہ ہو اور چونکہ ہم زمانے کے لحاظ سے ان سے بہت دور ہیں اس لیے ہمارے لیے عدم اطلاع کا امکان بہت قوی ہے۔ مثلاً تاریخ اسلام میں ایسے شواہدنہیں پائے جاتے جو اس بات پر حاکی ہوں کہ پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے غنائم جنگی کے علاوہ کسی اور سے خمس لیا ہو۔ تو کیا یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ خمس صرف غنائم جنگی سے تعلق رکھتا ہے؟ یا کم سے کم یہ احتمال ممکن ہے کہ اس زمانے میں غنائم جنگی کے علاوہ دوسری چیزیں بھی تھیں کہ جو خمس سے متعلق تھیں۔ لیکن اس بات کا امکان کہ چونکہ خمس کو صرف اہل بیت علیہم السلام کے لیے خرچ کیا جاسکتا تھا اس لیے آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے بزرگی دکھاتے ہوئے اسے لینے سے صرف نظر فرمایا، زکوٰۃ کے برخلاف کہ جسے امّت کے تمام افراد پر خرچ کرنا ہوتا تھا، غیر قابل قبول ہے۔ کیوں کہ غنائم جنگی کا خمس اور غیر غنائم جنگی کا خمس اس حیثیت سے کہ دونوں ہی اہل بیت علیہم السلام سے متعلق تھے، مشترک ہے۔ نتیجہ یہ کہ آئمہ علیہم السلام کے زمانے میں شعائر حسینی علیہ السلام اور عزاداری کے وجود کا انکار صحیح نہیں ہے کیوں کہ تمام حوادث اور واقعات تاریخ کے صفحات میں ذکر نہیں ہوئے ہیں۔ 2۔ اگر یہ فرض بھی کیا جائے کہ آئمہ کے زمانے میں یہ شعائر حسینی اور عزاداری نہیں تھی تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرات اس زمانے میں سخت تقیّہ کے عالم میں تھے اور علی الاعلان اس قسم کی مجالس یا عزاداری کا برپا کرنا ممکن نہیں تھا اور مخفی یا پوشیدہ انداز میں یہ مجالس برپا ہوتی رہی ہیں مثلاً عباسی خلفاء کے دور میں چونکہ خون خواہی امام حسین علیہ السلام (مقاتل الطالبین اور مناقب ابن شہر آشوب)کے نام پر بعض تحریکیں عباسی حکومت کے خلاف پائی جاتی تھیں، لہٰذا حکومت ، تختہ اُلٹنے کے خوف سے آئمہ علیہم السلام اور ان کے شیعوں پر انتہائی سختی روا رکھے ہوئے تھی یہاں تک کہ سیدالشُہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک کو گرادینے کی حد تک پہنچ چکے تھے۔(بحار الانوار،جلد نمبر45 ،صفحہ 390 سے 400 تک) ۔ پس دشمنوں کی جانب سے شدید دباؤ، عزاداری حسینی علیہ السلام کے ظاہر اور آشکار ہونے کے لیے مانع رہا ہے۔ اس مسئلہ سے متعلق تحقیق یہ ہے کہ آئمہ علیہم السلام کی جانب سے ایسی بہت سی روایات جو مجالس عزائے حسینی علیہ السلام اور ان مجالس میں مرثیے، سلام اور نوحے وغیرہ پڑھنے کی ترغیب دلاتی ہیں یا ان کی جانب مائل کرتی ہیں اور ہر وہ کام کرنے سے متعلق جو ان حضرات کی تعلیمات کو زندہ کرنے کا سبب بنتی ہیں، بیان اور نقل ہوئی ہیں۔(بحارالانوار،جلدنمبر44،صفحہ نمبر278)۔ مثال کے طور پر دو روایات کی طرف توجہ فرمائیں: 1۔ معتبرہ سدیر: میں نے امام صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے اپنے باپ کی موت کے غم میں اپنے لباس کو چاک کیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘ یقیناً ( امام حسین ابن علی علیہماالسلام کی مصیبت پر زنانِ بنی ہاشم نے) لباس پارہ کیے اور اپنے چہروں پر طمانچے مارے، تم لوگ بھی اس قسم کی مصیبتوں پر لباس چاک کرو اور اپنے منہ پرطمانچے مارو۔’’(تہذیب الاحکام، جلد اول،صفحہ نمبر325،حدیث نمبر 1207) 2۔ اسی طرح وہ روایت جو کہتی ہے ‘‘بنی ہاشم کی خواتین نے سیاہ اور پشمی لباس پہنے اور امام سجاد علیہ السلام نے ان کی عزاداری میں کھانا کھلایا(نذر امام حسین علیہ السلام) تقسیم کی۔’’(بحارالانوار،جلد نمبر45،صفحہ نمبر188) اہم نکتہ یہ ہے کہ، امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی شکل و صورت مختلف زمانوں اور مختلف مقامات پر مختلف اور جدا رہی ہے لیکن سب ہی لوگ عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام کو برپا کرنے میں شریک اور متفق ہیں۔ آخر میں تمام مؤمنین سے میری گذارش ہے کہ اپنی طاقت اور توانائی کے مطابق شعائر حسینی علیہ السلام اور عزاداری کو قائم اور برپا کرنے کی کوشش فرمائیں اور تمام مؤمنین کو اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ ایک بند انگشت کے برابر بھی اس کام میں پیچھے نہ رہیں، ورنہ واقعہ کربلا بھلا دیا جائے گا بلکہ اس کا انکاربھی کردیا جائے گا،جیسا کہ واقعہ غدیر کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، جبکہ پیغمبرصلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم، خداوند متعال کے حکم سے حضرت امام علی علیہ السلام کی امامت اور ان کی امارت کو پہنچانے اور اسے ابلاغ کرنے پر مأمور تھے، کم سے کم ساٹھ ہزار صحابی حاضر اور شاہد تھے اور انہوں نے یہ امر قبول بھی کیا اور امام علی علیہ السلام پر امیرالمؤمنین ہونے کے عنوان سے سلام بھی بھیجا۔ لیکن ان میں سے بہت سارے شاہد اور گواہ ، عمل سے اس کے منکر ہوگئے۔ آج بھی سیدالشہداء علیہ السلام کے قیام کا، مخالفین حق کی جانب سے انکار اور اس کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ جس نے اسلام کے تنومند درخت کو جٹ سے اُکھاڑ پینکھنے کا ارادہ کیا ہوا ہے، اس نے اس درخت کی شاخوں کو کاٹنا شروع کردیا ہے۔ اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار برا مانیں۔(واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون) سورہ صف/ 8۔
  • QaID :  
  • 14054  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: نت نئے اور عجیب و غریب طریقوں سے عزاداری کرنا۔ سوال:ایک شخص امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت سے واپس آیا تو اس نے بتایا کہ : ‘‘ چند روز پہلے ایران میں عاشورہ کے دن ایک ماتمی انجمن کا جلوس جانوروں کی شباہت کے ساتھ نکالا گیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگ کسی بھی طریقے سے چاہیں عزاداری کریں اور جانوروں کہ طرح گھٹنیوں یا سینے کے بل جلوس کا راستہ طے کریں، یہ لوگ کل جانوروں کی آوازیں یا ان ہی جیسی چیزوں کے ساتھ عزاداری کے عنوان سے جلوس نکالیں گے جو لوگوں کو حیرت میں ڈال دے۔’’ میری آپ سے گذارش ہے کہ اس واقعے کی حقیقت سے آگاہ فرمائیں، کیا مشہد میں ایسا ہوا ہے؟
     Answer :
    جواب: اس شخص نے، یہ واقعہ بُرے انداز میں اور پیچ و خم کے ساتھ آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومنین کے بعض گروہ جو دور افتادہ علاقوں سے امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لیے آتے ہیں کبھی ان لوگوں کا آنا ایام عزاء (ماہ محرم و صفر) کے زمانے میں بھی ہوتا ہے۔ جب وہ صحن شریف رضوی یا اس کے نزدیک پہنچتے ہیں تو وہ لوگ امام سے محبت اور زیارت کے شوق کی وجہ سے جوش میں آکر زمین پر گرجاتے ہیں اور اس عظیم نعمت اور زیارت کی توفیق حاصل ہونے پر اللہ تعالیٰ کے حضورسجدہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ زیارت ایسے ظاہر کا نام ہے کہ جس کی روح طلب و چاہت ہے۔ ان کی محبوب ہستی نے ان کو اپنی جانب طلب کیا اور ان کو دیدار کی اجازت دی ہے۔ اور نتیجے میں وہ شدّت شوق، محبت اور انکساری سے اپنے چہروں کو خاک پر رکھ دیتے ہیں اور اسی حالت میں مرقد مطہر کی جانب کھنچے چلے جاتے ہیں۔یہ وہی مقام ہے کہ جہاں عقل اس عشق و محبت کے مظاہرے کے آگے ہاتھ باندھے مبہوت اور حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ جب محب کو اس کا محبوب ملاقات کے لیے بلاتا ہے تو اس کے قدموں میں کھڑا رہنے کی طاقت نہیں رہتی تو، شوق ملاقات کی شدّت سے زمین پر گر جاتا ہے اور سینہ کے بل اپنے محبوب کی سمت بڑھتا ہے۔ یہ حالت محبت کے مظاہر میں سے ایک مظہر اور شوق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ ان لوگوں کی یہ کیفیت جب تک مستحب شرعی کی مطلوبیت اور مستحب زیارت کی ایک قسم شمار نہ ہو، تو مانع نہیں رکھتی۔ بلکہ ایک عام بات ہے جو ایک ایسے محب سے ظاہر ہوئی ہے جو اپنے محبوب کی زیارت کو جارہا ہے۔ جیسا کہ اس مقدس روضہ کے در و دیوار کو چومنا ہے۔ و ما حبّ الدیار شغفن قلبی و لکن حبّ من سکن الدیار (اس دیار کی محبت نے میرا دل نہیں چرایا، بلکہ اس دیار کے رہنے والے کی محبت نے مجھے دل فریفتہ کردیا ہے)۔ ایسا ممکن ہے کہ مومنین کے اس عمل کو اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا اظہار اور ان کی یاد منانے کے عنوان سے جانا جائے تو یہ مستحب شرعی کا عنوان بھی حاصل کرسکے۔ بہ ہر حال، یہ حزن اور عزا کا اظہار نہیں ہوتا اور اس کا عزاداری اور شعائر حسینی علیہ السلام سے کو ئی تعلق نہیں ہے اور اس کا مقصد ہرگز بھی عزاداری نہیں ہے۔
  • QaID :  
  • 14053  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال: جناب عالی کی نظر ایسی عزاداری کے بارے میں کیا ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے، جیسے اپنے چہرے پر زور زور سے طمانچے مارنا، اپنے سر پر ہاتھ مارنا یا شدید اور اونچی آواز سے گریہ و زاری کرنا وغیرہ ؟
     Answer :
    جواب:شعائر حسینی علیہ السلام یا عزاداری کو برپا کرنا، خدا وند متعال کے نزدیک پسندیدہ اور نیک عمل ہے اور شعائر الٰہی میں سے ہے، (وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ‌ )﴿الحج‏، 32﴾(جو شعائر الٰہی کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔)۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ شدید گریہ کرنا یا سر و صورت کو پیٹنا،کسی شخص کو نقصان پہنچائے، اگرچہ خون نکلنے یا سرخ اور نیل پڑجانے کا سبب بنے۔ اور بدن کو پیٹنے کے حرام ہونے پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، مگر یہ کہ خود کشی یا کسی عضو کے ناقص ہونے یا بعض حواس کے باقی نہ رہنے کا سبب بنے۔
  • QaID :  
  • 13845  
  • QDate :  
  • 2012-12-29  
  • ADate :  
  • 2013-07-10  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    I want to ask that can a Sayyid Shia girl marry a non Sayyid Shia boy is it allowed.
     Answer :
    بسمہ تعالی۔ شیعہ سید لڑکی، شیعہ غیر سید لڑکے سے شادی کرسکتی ہے۔
  • QaID :  
  • 13456  
  • QDate :  
  • 2012-10-21  
  • ADate :  
  • 2013-02-04  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2020  
  •  CategoryID :
     Question :
    بسمﷲ الرحمن الرحیم بعد از سلام آپکے خدمت میں سوال پیش کرتا ہوں کے جب رسولﷲ﴿ص﴾ معراج پر گیے تو خدوند کریم نے رسولﷲ﴿ص﴾ کے ساتھ کس طرح خطاب کیا وہی سے یا کسی کے لہجے میں احدایث کی روشنی میں باتیں شکرایہ ﷲحافظ
     Answer :
    وعلیکم السلام ۔جواب: روایات میں منقول ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین کی آواز میں گفتگو کی۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011